🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. باب في الكرم وحفظ المنطق
باب: انگور کو «كرم» کہنے اور غیر مناسب الفاظ بولنے سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4974
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ: الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: حَدَائِقَ الْأَعْنَابِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی (انگور اور اس کے باغ کو) «كرم» نہ کہے ۱؎، اس لیے کہ «كرم» مسلمان مرد کو کہتے ہیں ۲؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13632)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 101 (6182)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب 2 (2249)، مسند احمد (2/272، 464، 476) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ «كرم»  یعنی انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے لوگ عمدہ اور بہتر سمجھتے ہیں اس لیے انگور کا نام «كرم» رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تاکہ کبھی بھی شراب کی بہتری خیال میں نہ آئے۔
۲؎: عرب «رَجُلٌ کَرْمٌ» اور «قَوْمٌ کَرْمٌ» کہتے ہیں «رَجُلٌ کَرِیْمٌ» اور «قَوْمٌ کِرَامٌ» کے معنی میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ورواه مسلم (2247)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥جعفر بن ربيعة القرشي، أبو شرحبيل
Newجعفر بن ربيعة القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← جعفر بن ربيعة القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع
Newسليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6183
إنما الكرم قلب المؤمن
صحيح البخاري
6182
لا تسموا العنب الكرم ولا تقولوا خيبة الدهر فإن الله هو الدهر
صحيح مسلم
5871
لا يقولن أحدكم للعنب الكرم إنما الكرم الرجل المسلم
صحيح مسلم
5870
لا يقولن أحدكم الكرم فإنما الكرم قلب المؤمن
صحيح مسلم
5868
لا تقولوا كرم فإن الكرم قلب المؤمن
صحيح مسلم
5869
لا تسموا العنب الكرم فإن الكرم الرجل المسلم
سنن أبي داود
4974
لا يقولن أحدكم الكرم فإن الكرم الرجل المسلم ولكن قولوا حدائق الأعناب
المعجم الصغير للطبراني
724
لا تسموا العنب الكرم فإنما الكرم الرجل المسلم
صحيفة همام بن منبه
78
لا يقل أحدكم للعنب الكرم إنما الكرم الرجل المسلم
مسندالحميدي
1127
مسندالحميدي
1130
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4974 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4974
فوائد ومسائل:
شرعی اوردینی غیرت کا تقاضاہے کہ غلط الفاظ مسلمان کی زبان پر جاری نہیں ہونے چاہییں بالخصوص جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تفریح فرمادی ہو جیسے درج ذیل باب میں بھی وارد ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4974]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1127
1127- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے، حالانکہ میں زمانہ ہوں معاملہ میرے ہاتھ میں ہے میں رات اور دن کو تبدیل کرتا ہوں۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1127]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ زمانے کو گالی دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو گالی دینا ہے، کیونکہ حالات کی سختی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، اس میں زمانے کا کوئی کردار نہیں، جب کوئی زمانے اور وقت کو برا کہتا ہے، گویا وہ اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہہ رہا ہوتا ہے، ہاں یہ کہنا درست ہے کہ لوگ گندے ہو گئے ہیں، لوگ خبیث ہوگئے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1125]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1130
1130- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: لوگ کرم کہتے ہیں: حالانکہ کرم بندۂ مومن کا دل ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1130]
فائدہ:
اس حدیث میں ذکر ہے کہ مدینہ منورہ میں بعض لوگ انگور کو «عِنَبٌ» ‏‏‏‏کہنے کی بجائے کرم کہتے تھے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کیونکہ کرم تو مومن کے دل کو کہتے ہیں۔
امام خطابی نے بہت اچھی توجیہہ بیان کی ہے کہ اس وقت لوگ انگور سے شراب تیار کرتے تھے، اور انگور کو کرم کہتے تھے، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انگور کو کرم کہنے سے منع نہ فرماتے تو کوئی وہم میں مبتلا ہو سکتا تھا کہ شراب معزز ہے کیونکہ یہ کرم سے بنتی ہے، اور کرم مؤمن کا دل ہوتا ہے، چونکہ اس کے دل میں ایمان کا نور اور اسلام کی ہدایت ہوتی ہے۔
ابن الابناری نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ شراب کو معزز سمجھتے تھے، اور شراب پی کر خود کو معز ز تصور کرتے تھے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کوکرم کہنے سے منع فرما دیا۔ (فتح الباری: 4 / 431)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1128]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6182
6182. حضرت ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: تم انگور کا نام کرم نہ رکھو اور یہ بھی نہ کہو: ہائے کی نامرادی کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6182]
حدیث حاشیہ:
عرب لوگ اسے کرم اس لئے کہتے کہ ان کے خیال میں شراب نوشی سے سخاوت اور بزرگی پیدا ہوتی تھی اسی لئے یہ لفظ اس طور پر استعمال کرنا منع قرار پایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6182]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6183
6183. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ کرم (انگور کو) کہتے ہیں حالانکہ کرم تو صرف مومن کا دل ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6183]
حدیث حاشیہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے دل کے سوا اور کسی چیز مثلاً انگور وغیرہ کو کرم نہ کہنا چاہیے۔
ان حدیثوں کے لانے سے حضرت اما م بخاری کی غرض یہ ہے کہ إنما کا کلمہ عربی میں حصر کے لئے آتا ہے تو جب یہ فرمایا کہ إنما الکرمُ قلبُ المؤمنِ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قلب مومن کے سوا اور کسی چیز کو کرم کہنا درست نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6183]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6182
6182. حضرت ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: تم انگور کا نام کرم نہ رکھو اور یہ بھی نہ کہو: ہائے کی نامرادی کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6182]
حدیث حاشیہ:
اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی ناگوار بات یا نازیبا کام کو دیکھ کر بلاوجہ ہی کہہ دیتے ہیں کہ زمانہ برا ہے۔
وقت اچھا نہیں، حالانکہ اس میں وقت اور زمانے کا کیا قصور ہے، جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے زمانے کو برا کہنا گویا اللہ تعالیٰ کو برا کہنا ہے۔
اسی طرح عرب لوگ انگور کو کرم کہتے تھے کہ انگور سے شراب کشید کی جاتی ہے اور شراب نوشی سے ان کے کہنے کے مطابق سخاوت اور بزرگی پیدا ہوتی ہے، اس بنا پر انگور کے لیے اس لفظ کا استعمال منع قرار دیا گیا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6182]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6183
6183. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ کرم (انگور کو) کہتے ہیں حالانکہ کرم تو صرف مومن کا دل ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6183]
حدیث حاشیہ:
جب اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا تو ان ناموں کو بھی حرام کر دیا جن کے سامنے آنے سے شراب نوشی کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔
ایک حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے، مومن آدمی کا نام سابقہ کتب میں کرم ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تمام مخلوق پر برتری اور عزت بخشی ہے لیکن تم لوگ دیواروں پر پروان چڑھنے والے انگوروں کو کرم کہتے ہو۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 277/7، رقم: 7087، وفتح الباري: 696/10)
اس سے مراد حرمت شراب کی تاکید ہے کہ اس کے تمام ایسے نام حرام کر دیے ہیں جو انسان کو شراب نوشی پر آمادہ کرتے ہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6183]