🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : الستر على المؤمن ودفع الحدود بالشبهات
باب: مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2544
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2544]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1249)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر 11 (2699)، سنن ابی داود/الأدب 68 (4946)، سنن الترمذی/الحدود 3 (1425)، مسند احمد (2/252، 325، 500، 522)، سنن الدارمی/المقدمة 32 (360) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6595
لا يستر عبد عبدا في الدنيا إلا ستره الله يوم القيامة
سنن ابن ماجه
2544
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2544 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2544
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
پردہ پوشی سے مراد کسی کے گناہ یا عیب کو ظاہر کرنےاور تشہیرسے اجتناب کرنا ہے۔

(2)
کوئی انسان عیب یا غلطی سے پاک نہیں ہے لہٰذا دوسروں کو بدنام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(3)
آخرت میں پردہ رکھنے کا مطلب اس کے گناہوں کی معافی ہے۔

(4)
کسی پر احسان کرنے کا اچھا بدلہ دنیا میں ملتا ہےاورآخرت میں بھی۔
انسان دوسرے سےجس قسم کا سلوک کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ویسا سلوک کرتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2544]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6595
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا:"کوئی بندہ کسی بندے پر بھی دنیا میں پردہ نہیں ڈالتا مگر اللہ قیامت کے دن اس پرپردہ ڈالے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6595]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے جس کے عیوب کی دنیا میں پردہ پوشی کی،
قیامت کے روز اس کے جرائم اور معاصی سے اہل محشر کو آگاہ نہیں فرمائے گا۔
صرف اپنے سامنے اس سے گناہوں کا اقرار اور اعتراف کروا لے گا اور پھر فرمائے گا،
میں نے دنیا میں تیرے گناہوں کی پردہ پوشی کی تھی اور آج تمہیں معاف کرتا ہوں اور انسان کا انسان کے گناہوں کی پردہ پوشی کا مفہوم،
باب تحریم الظلم میں گزر چکا ہے حدیث نمبر 58۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6595]

Sunan Ibn Majah Hadith 2544 in Urdu