🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : أضاحي رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14968، 17731، ومصباح الزجاجة: 1083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/220) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
و سفيان الثوري عنعن
و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
مقبول
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3122
اشترى كبشين عظيمين سمينين أقرنين أملحين موجوءين فذبح أحدهما عن أمته لمن شهد لله بالتوحيد وشهد له بالبلاغ وذبح الآخر عن محمد وعن آل محمد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3122 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3122
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
قربانی کے جانور عمدہ ہونے چاہییں۔

(2)
جانور ظاہری شکل وصورت میں بھی اچھا ہونا چاہیے۔

(3)
خصی جانور کی قربانی درست ہے اسے عیب نہ شمار کیا جاتا۔

(4)
گھر کے تمام افراد کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کافی ہے۔

(5)
کسی اور کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے۔

(6)
میت کی طرف سے قربانی كرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی عمل سے استدلال اس لیے صحیح نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے جس میں امت کے لیے آپکی اقتداء جائز نہیں۔ دیکھیے: (إرواء الغليل: 4/ 354)
علاوہ ازیں خیر القرون (صحابہ وتابعین کے بہترین ادوار)
میں بھی میت کی طرف سے قربانی کرنے کا ثبوت  نہیں ملتا۔
صرف ایک نقطۂ نظر سے اس کا جواز ہو سکتا ہے کہ میت کی طرف صدقہ کرنا جائز ہے یعنی ایصال ثواب کے طور پر اس کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3122]