سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : فضل الدعاء
باب: دعا کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الدُّعَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 1 (3370)، (تحفة الأشراف: 12938)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/362) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3370)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
إسناده ضعيف
ترمذي (3370)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن يسار الأنصاري سعيد بن يسار الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن يسار الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام عمران بن داور العمي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← عمران بن داور العمي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← أبو داود الطيالسي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3370
| ليس شيء أكرم على الله من الدعاء |
سنن ابن ماجه |
3829
| ليس شيء أكرم على الله من الدعاء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3829 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3829
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)
(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)
(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3829]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3370
دعا کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3370]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3370]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے،
اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے،
اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]
سعيد بن يسار الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي