🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : فضل الدعاء
باب: دعا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الدُّعَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 1 (3370)، (تحفة الأشراف: 12938)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/362) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3370)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن يسار الأنصاري
Newسعيد بن يسار الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن يسار الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام
Newعمران بن داور العمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← عمران بن داور العمي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← أبو داود الطيالسي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3370
ليس شيء أكرم على الله من الدعاء
سنن ابن ماجه
3829
ليس شيء أكرم على الله من الدعاء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3829 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3829
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)

(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔

(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔

(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3829]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3370
دعا کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3370]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے،
اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]