سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : ذكر التوبة
باب: توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ , فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ , فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي , ثُمَّ اسْحَقُونِي , ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ , فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا , قَالَ: فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ , فَقَالَ لِلْأَرْضِ: أَدِّي مَا أَخَذْتِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ , فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ , قَالَ: خَشْيَتُكَ أَوْ مَخَافَتُكَ يَا رَبِّ , فَغَفَرَ لَهُ لِذَلِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے اپنے اوپر بہت زیادتی کی تھی، (یعنی گناہوں کا ارتکاب کیا تھا) جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر مجھے پیس کر سمندر کی ہوا میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرا رب میرے اوپر قادر ہو گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو کسی کو نہ دیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے کہا کہ جو تو نے لیا ہے اسے حاضر کر، اتنے میں وہ کھڑا ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر اور خوف نے اے رب! تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی وجہ سے معاف کر دیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4255]
امام زہری رحمہ اللہ نے (اپنے شاگرد معمر سے) فرمایا: ”کہ میں تجھے دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں۔“ (پہلی حدیث یہ ہے جو) حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے اپنی جان پر زیادتی کی (اور زندگی میں بہت گناہ کیے) جب اس کی موت کا وقت آیا اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا پھر مجھے (میری لاش کو) پیس کر مجھے (میری راکھ کو) ہوا میں اڑا دینا اور سمندر میں بہا دینا۔ قسم ہے اللہ کی! اگر اللہ نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا، جو کسی کو نہیں دیا ہوگا۔ ان بیٹوں نے ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین سے کہا: جو تو نے لے لیا ہے، اسے حاضر کر دے۔ (ایسے ہی سمندر سے بھی اس راکھ کے ذرات جمع کر کے اسے زندہ کر دیا) اچانک وہ (زندہ سلامت) کھڑا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: تو نے جو کام کیا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میرے رب! تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے اسے معاف کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 54 (3481)، التوحید 35 (7508)، صحیح مسلم/التوبة 4 (2756)، سنن النسائی/الجنائز 117 (2081)، (تحفة الأشراف: 12280)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3481
| إذا أنا مت فأحرقوني ثم اطحنوني ثم ذروني في الريح فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا فلما مات فعل به ذلك فأمر الله الأرض فقال اجمعي ما فيك منه ففعلت فإذا هو قائم فقال ما حملك على ما صنعت ق |
صحيح البخاري |
7506
| إذا مات فحرقوه واذروا نصفه في البر ونصفه في البحر فوالله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فأمر الله البحر فجمع ما فيه وأمر البر فجمع ما فيه ثم قال لم فعلت قال من خشيتك وأنت أعلم فغفر له |
صحيح مسلم |
6984
| إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في الريح في البحر فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه به أحدا قال ففعلوا ذلك به فقال للأرض أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال له ما حملك على ما صنعت فقال |
صحيح مسلم |
6980
| إذا مات فحرقوه ثم اذروا نصفه في البر ونصفه في البحر فوالله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فلما مات الرجل فعلوا ما أمرهم فأمر الله البر فجمع ما فيه وأمر البحر فجمع ما فيه ثم قال لم فعلت هذا |
سنن النسائى الصغرى |
2081
| إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في الريح في البحر فوالله لئن قدر الله علي ليعذبني عذابا لا يعذبه أحدا من خلقه قال ففعل أهله ذلك قال الله لكل شيء أخذ منه شيئا أد ما أخذت فإذا هو قائم قال الله |
سنن ابن ماجه |
4255
| إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم ذروني في الريح في البحر فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا قال ففعلوا به ذلك فقال للأرض أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال له ما حملك على ما صنعت قال خشيتك أ |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
226
| قال رجل لم يعمل حسنة قط لاهله: إذا هو مات فاحرقوه، ثم اذروا نصفه فى البر ونصفه فى البحر |
Sunan Ibn Majah Hadith 4255 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي