صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
The Book of Commentary
1. بَابُ: {وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ} :
1. باب: آیت کی تفسیر ”تم ناطہٰ رشتہ توڑ ڈالو گے“۔
(1) Chapter. “…And sever your ties of kinship.” (V.47:22)
حدیث نمبر: 4832
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(قدسي) حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معاوية بن ابي المزرد بهذا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" واقرءوا إن شئتم: فهل عسيتم سورة محمد آية 22".(قدسي) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي الْمُزَرَّدِ بِهَذَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ سورة محمد آية 22".
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، ان کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں معاویہ بن مزرد نے خبر دی، سابقہ حدیث کی طرح (اور یہ کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تمہارا جی چاہے تو آیت اگر تم کنارہ کش رہو پڑھ لو۔

Narrated Muawiya bin Abi Al-Muzarrad: Allah's Messenger , said, "Recite if you wish: Would you then if you were given the authority." (47.22)
USC-MSA web (English) Reference: Volume 6, Book 60, Number 356



تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4832  
4832. حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو: اور تم سے یہ بعید نہیں۔۔ ءَاسِنٍ کے معنی ہیں: متغير، یعنی بدل جانے والا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4832]
حدیث حاشیہ:

آیت کریمہ میں (إِنْ تَوَلَّيْتُمْ)
کے متعدد مفہوم حسب ذیل ہیں۔
حکومت مل جائے عام طور پر حکومت و اقتدار کے نشے میں عدل و انصاف اور اعتدال قائم نہیں رہتا دنیا کی حرص اور لالچ بڑھ جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ عام فتنہ وفساد اور دوسروں سے قطع تعلقی کر لی جاتی ہے۔
اعراض کرنا یعنی اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے اعراض کرو گے تو دنیا میں امن وامان قائم نہیں رہے گا۔
جب انصاف نہیں ہو گا تو فساد بدامنی اور حق ناشناسی کا دور دورہ ہوگا۔
ایمان لانے سے رو گردانی یعنی جب ایمان کے تقاضوں سے اعراض کرو گے۔
تو زمانہ جاہلیت کی کیفیت واپس آجائے گی۔
وہ اس طرح کہ معمولی معمولی بات پر رشتے ناتے قطع کر جائیں گے۔

یہ آیت منافقین کے متعلق بھی ہوسکتی ہےکہ تم سے یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی منافقانہ شرارتوں سے ملک میں خرابی مچاؤ گے جن مسلمانوں سے تمھاری قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہیں کرو گے۔
بہر حال ان احادیث میں صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 4832   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.