الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
77. بَابُ : النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ، خَاتَمِ الذَّهَبِ
77. باب: سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت کا بیان۔
Chapter: Prohibition on Wearing Gold Rings
حدیث نمبر: 5276
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا احمد بن حفص بن عبد الله، حدثني ابي، قال: حدثني إبراهيم بن طهمان، عن الحجاج وهو ابن الحجاج، عن قتادة، عن عبد الملك بن عبيد، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تختم الذهب".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5189 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن

   صحيح البخاري5864عبد الرحمن بن صخرنهى عن خاتم الذهب
   صحيح مسلم5470عبد الرحمن بن صخرعن خاتم الذهب
   سنن النسائى الصغرى5189عبد الرحمن بن صخرتختم الذهب
   سنن النسائى الصغرى5276عبد الرحمن بن صخرتختم الذهب
   سنن النسائى الصغرى5275عبد الرحمن بن صخرنهى عن خاتم الذهب
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5276 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5276  
اردو حاشہ:
مندرجہ بالا چیزوں سے نہی صرف حضرت علی سے خاص نہیں امت کے تمام مردوں کے لیے ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: 5175۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5276   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5470  
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5470]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا بالاتفاق حرام ہے،
اگر کسی صحابی نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہے تو انہیں اس نہی کا علم نہیں ہو سکا ہو گا اور آغاز اسلام کی اباحت پر قائم رہا ہو گا اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے جو سونے کی انگوٹھی پہننے کی روایت منقول ہے،
اگر اس کو صحیح فرض کر لیا جائے۔
۔
۔
چونکہ ان سے منع کرنے کی روایت مسلم میں گزر چکی ہے تو وہ نہی کو تنزیہی سمجھتے ہوں گے،
یا چونکہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنائی تھی،
اس لیے وہ اپنے لیے خصوصی اجازت کے قائل ہوں گے،
(فتح الباري دارالمعرفة ج 10 ص 317)
۔
اور عورتوں کے لیے جائز ہے،
کیونکہ آپ نے خود حضرت امامہ بنت ابی العاص کو پہنائی تھی،
(مصنف ابن ابی شیبہ،
ج 8 ص 278)

۔
اور اس پر بقول امام نووی مسلمانوں کا اجماع ہے کہ عورتوں کے لیے سونے کی انگوٹھی جائز ہے اور مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی حرام ہے اور ابن حزم کا مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کو جائز قرار دینا یا بعض کا مکروہ کہنا خلاف اجماع ہے،
ابن حزم سے مراد ابوبکر بن محمد بن عمرو بن محمد بن حزم ہے اور اس کو ابن حزم ظاہری قرار دینا،
انتہائی دیدہ دلیری ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5470   

  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5864  
5864. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5864]
حدیث حاشیہ:
اس روایت سے واضح ہے کہ سونے کی انگوٹھی کا استعمال مردوں کے لیے قطعاً حرام ہے جو شخص حلال جانے اس پر کفر عائد ہوتا ہے لیکن عورتوں کے لیے سونے کا استعمال کرنا جائز ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5864   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5864  
5864. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5864]
حدیث حاشیہ:
(1)
بلاشبہ سونے کی انگوٹھی مردوں کے لیے حرام ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے کچھ زیورات بطور تحفہ بھیجے۔
ان میں ایک سونے کی انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ حبشی انداز کا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیرتے ہوئے لکڑی یا انگلی سے تھاما اور اپنی نواسی حضرت امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو بلا کر کہا:
بیٹی! تم اسے پہن لو۔
(سنن أبي داود، الخاتم، حدیث: 4235)
اگر سونا مردوں کے لیے حلال ہوتا تو آپ اس سے منہ نہ پھیرتے، نیز اگر عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو ہرگز نہ پہناتے۔
(2)
اگرچہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ وہ سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے لیکن ممکن ہے کہ انہیں ممانعت کی احادیث نہ پہنچی ہوں۔
عجیب بات ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ممانعت کی حدیث مروی ہے لیکن وہ بھی سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے اور انہیں لوگ کہتے کہ آپ سونے کی انگوٹھی کیوں پہنتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے؟ تو وہ جواب دیتے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی دیتے وقت فرمایا تھا کہ اسے پہنو جسے اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پہنایا ہے۔
شاید وہ اپنے لیے اسے خصوصیت پر محمول کرتے ہوں۔
بہرحال مردوں کے لیے اس کا پہننا جائز نہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 391/10)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5864   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.