صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
The Book of Commentary
33. بَابُ: {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ} :
33. باب: آیت کی تفسیر ”تو پھر جو شخص حج کو عمرہ کے ساتھ ملا کر فائدہ اٹھائے“۔
(33) Chapter. “...And whosoever performs the Umra in the months of Hajj before (performing) the Hajj (i.e., Hajj At-Tamattu and Al-Qiran).” (V.2:196)
حدیث نمبر: 4518
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد , حدثنا يحيى , عن عمران ابي بكر , حدثنا ابو رجاء، عن عمران بن حصين رضي الله عنهما , قال:" انزلت آية المتعة في كتاب الله، ففعلناها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينزل قرآن يحرمه ولم ينه عنها حتى مات"، قال رجل: برايه ما شاء.(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ"، قَالَ رَجُلٌ: بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمران ابی بکر نے، ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (حج میں) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ (حج) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی (لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے) یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔

Narrated `Imran bin Husain: The Verse of Hajj-at-Tamatu was revealed in Allah's Book, so we performed it with Allah's Messenger , and nothing was revealed in Qur'an to make it illegal, nor did the Prophet prohibit it till he died. But the man (who regarded it illegal) just expressed what his own mind suggested.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 6, Book 60, Number 43


   صحيح البخاري4518عمران بن الحصينأنزلت آية المتعة في كتاب الله ففعلناها مع رسول الله ولم ينزل قرآن يحرمه ولم ينه عنها حتى مات
   صحيح مسلم2978عمران بن الحصينتمتعنا مع رسول الله ولم ينزل فيه القرآن
   صحيح مسلم2976عمران بن الحصينجمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب الله ولم ينه عنها نبي الله قال رجل فيها برأيه ما شاء
   صحيح مسلم2977عمران بن الحصينجمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب ولم ينهنا عنهما رسول الله قال فيها رجل برأيه ما شاء
   صحيح مسلم2980عمران بن الحصيننزلت آية المتعة في كتاب الله يعني متعة الحج وأمرنا بها رسول الله ثم لم تنزل آية تنسخ آية متعة الحج ولم ينه عنها رسول الله حتى مات قال رجل برأيه بعد ما شاء
   سنن النسائى الصغرى2740عمران بن الحصينتمتع وتمتعنا معه
   سنن النسائى الصغرى2729عمران بن الحصينتمتعنا مع رسول الله
   سنن النسائى الصغرى2727عمران بن الحصينجمع رسول الله بين حج وعمرة ثم توفي قبل أن ينهى عنها وقبل أن ينزل القرآن بتحريمه
   سنن النسائى الصغرى2728عمران بن الحصينجمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب ولم ينه عنهما النبي

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4518  
4518. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حج تمتع کی آیت تو کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج تمتع کیا۔ قرآن کریم میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی اور نہ مرتے دم تک آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ اب جو شخص اپنی رائے سے جو چاہے کہتا رہے۔ محمد (امام بخاری ؒ) کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں (کیونکہ ان کی رائے حج تمتع کے خلاف تھی)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4518]
حدیث حاشیہ:
ایک صاحب سے مراد حضرت عمرؓ ہیں، جن کی رائے تمتع کے خلاف تھی۔
حضرت عمران بن حصینؓ نے حضرت عمر ؓ کے اس خیال کو ان کی رائے قرار دیا اور قرآن وحدیث کے خلاف اسے تسلیم نہیں کیا۔
اس سے مقلدین کو سبق لینا چاہئیے۔
جب حضرت عمرؓ کی رائے جو خلفائے راشدین میں سے ہیں قرآن وحدیث کے خلاف تسلیم کے لائق نہ ٹھہری تو وہ دوسرے مجتہدین کس گنتی وشمار میں ہیں۔
ان کی رائے جو حدیث کے خلاف ہو تسلیم کے قابل نہیں ہے۔
خود ان ہی نے ایسی وصیت فرمائی ہے۔
لفظ متعہ سے حج تمتع مراد ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 4518   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4518  
4518. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حج تمتع کی آیت تو کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج تمتع کیا۔ قرآن کریم میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی اور نہ مرتے دم تک آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ اب جو شخص اپنی رائے سے جو چاہے کہتا رہے۔ محمد (امام بخاری ؒ) کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں (کیونکہ ان کی رائے حج تمتع کے خلاف تھی)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4518]
حدیث حاشیہ:

حج کی تین قسمیں ہیں:
الف۔
افراد:
صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے۔
ب۔
قرآن:
حج وعمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرکے احرام باندھا جائے۔
ج۔
تمتع:
اس میں بھی حج وعمرہ دونوں کی نیت ہوتی ہے لیکن پہلے صرف عمرہ کیا جاتا ہے، اس کے بعد آٹھ ذوالحج کو حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔
حج قران اور حج تمتع میں ایک ہدی بھی قربانی دینا ہوتی ہے۔
حضرت عمران حج تمتع سے متعلق اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں۔

حضرت عمرؓحج تمتع سے منع کرتے تھے۔
اس کی وجہ اس کا حرام ہونا نہیں بلکہ ان کے پیش نظر یہ مصلحت تھی کہ لوگ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ ادا کرکے خانہ کعبہ کو چھوڑ کر نہ جائیں بلکہ حج اور عمرے کے لیے الگ الگ سفرکرکے برابر بیت اللہ میں آتے رہیں۔
چونکہ آپ کا یہ موقف کتاب وسنت کے خلاف تھا، اس لیے حضرت عمران بن حصین ؓ نے اس موقف کو ان کی ذاتی رائے قراردیا اور اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
اس سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہیے جو کسی خاص امام کی تقلید کو ضروری قرار دیتے ہیں، جب خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کی رائے مطلقاً قابل تسلیم نہیں تو دوسرے مجتہدین کس شمار میں ہیں؟ حالانکہ خود مجتہدین نے وصیت فرمائی ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف ہماری رائے کو تسلیم نہ کیا جائے۔
واللہ المستعان۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 4518   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.