صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: لباس کے بیان میں
The Book of Dress
48. بَابُ فَصِّ الْخَاتَمِ:
48. باب: انگوٹھی میں نگینہ لگانا درست ہے۔
(48) Chapter. The stone of the ring.
حدیث نمبر: 5869
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبدان، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا حميد، قال: سئل انس هل اتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما؟ قال: اخر ليلة صلاة العشاء إلى شطر الليل، ثم اقبل علينا بوجهه فكاني انظر إلى وبيص خاتمه، قال:" إن الناس قد صلوا وناموا وإنكم لم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها".(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ، قَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حمید نے خبر دی، کہا انہوں نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔

Narrated Humaid: Anas was asked, "Did the Prophet wear a ring?" Anas said, "Once he delayed the: `Isha' prayer till midnight. Then he came, facing us ..... as if l am now Looking at the glitter of his ring ..... and said, "The people have offered their prayers and slept but you have been in prayer as you have been waiting for it."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 72, Number 758


   صحيح البخاري572أنس بن مالكإنكم في صلاة ما انتظرتموها
   صحيح البخاري661أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة منذ انتظرتموها
   صحيح البخاري600أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة
   صحيح البخاري847أنس بن مالكلن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة
   صحيح البخاري5869أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها
   صحيح مسلم1449أنس بن مالكنظرنا رسول الله ليلة حتى كان قريب من نصف الليل ثم جاء فصلى
   صحيح مسلم1448أنس بن مالكلم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة أنظر إلى وبيص خاتمه من فضة ورفع إصبعه اليسرى بالخنصر
   سنن النسائى الصغرى540أنس بن مالكلن تزالوا في صلاة ما انتظرتموها
   سنن ابن ماجه692أنس بن مالكلن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 540  
´عشاء کے اخیر وقت کا بیان۔`
حمید کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ نے آدھی رات کے قریب تک عشاء مؤخر کی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا: جب تک تم لوگ نماز کا انتظار کرتے رہے برابر نماز میں رہے۔‏‏‏‏ انس کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 540]
540 ۔ اردو حاشیہ:
لوگ نماز پڑھ کر سوگئے۔ جب کہ تم عشاء کی نماز کی وجہ سے نیند اور آرام کو مؤخر کرتے ہو اور صرف نماز کے انتظار میں جاگتے ہو، لہٰذا مغرب سے عشاء کی نماز تک کا وقت ثواب کے لحاظ سے نماز کی طرح ہے۔ اگر نماز سے نماز عشاء مراد ہے تو لوگوں سے مراد مدینہ منورہ کی دوسری مساجد کے لوگ ہوں گے جہاں نماز عشاء جلدی پڑھ لی جاتی تھی۔ اس صورت میں یہ مسجد نبوی کے نمازیوں کی فضیلت ہے۔
انگوٹھی کی چمک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ یہ انگوٹھی آپ نے مہرلگانے کے لیے بنوائی تھی۔ معلوم ہوا کہ مرد انگوٹھی پہن سکتا ہے لیکن شرط ہے کہ چاندی کی ہو، نہ کہ سونے کی۔ واللہ اعلم۔
➌انگوٹھی کے نگینے پر نام وغیرہ کندہ کروایا جا سکتا ہے۔
➍وعظ و نصیحت کرتے وقت امام کا مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونا مسنون عمل ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 540   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث692  
´نماز عشاء کا وقت۔`
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 692]
اردو حاشہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل عشاء کی نماز جلدی پڑھنے کا ہے یعنی اتنی زیادہ تاخیر نہیں فرماتے تھے۔
کبھی کبھی یہ عمل افضلیت کے اظہار کے لیے اختیار فرماتے تھے۔

(2)
نواب وحید االزمان خان نے عملاً جلدی پڑھنے اور قولاً تاخیر کی فضیلت بیان کرنے کی حدیثوں میں تطبیق دیتے ہوئے کہا کہ اگر سب مقتدی جاگنے پر راضی ہوں اور تاخیر میں ان کو تکلیف نہ ہو تو تاخیر کرنا افضل ہے ورنہ اول وقت میں پڑھ لینا افضل ہے۔
والله اعلم
(3)
نماز کے بعد وعظ و نصیحت کی جاسکتی ہے۔

(4)
نماز کا انتظار بہت فضیلت والا عمل ہے۔

(5)
انگوٹھی پہننا جائز ہے تاہم مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتا ہے سونے کا استعمال مرد کے لیے جائز نہیں۔ (سنن ابن ماجه، اللباس، باب لبس الحریر والذھب للنساء، حدیث: 3595)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 692   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5869  
5869. حضرت انس ؓ سے روایت ہے ان سے دریافت کیا گیا: کیا نبی ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نےایک رات نماز عشاء نصف رات تک مؤخر کی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، میں اب بھی (چشم تصور سے) آپ ﷺ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بہت سے لوگ نماز عشاء پڑھ کر سو گئے ہیں لیکن اس وقت نماز میں ہو جب سے تم نماز کا انتظار کر رہے ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5869]
حدیث حاشیہ:
حدیث میں انگوٹھی کا ذکر ہے باب سے یہی مطابقت ہے انگوٹھی کی چمک سے اس کے نگینہ کی چمک مراد ہے جیسا کہ حدیث ذیل میں ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 5869   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.