سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
The Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day
1. بَابُ : الْحَثِّ عَلَى الصَّلاَةِ فِي الْبُيُوتِ وَالْفَضْلِ فِي ذَلِكَ
1. باب: گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
Chapter: Encouragement to pray in houses and the virtue of doing so
حدیث نمبر: 1599
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، قال: حدثنا جويرية بن اسماء، عن الوليد بن ابي هشام، عن نافع، ان عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التھجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 186 (1377)، مسند احمد 2/6، 16، 123 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: نماز سے مراد نوافل اور سنتیں ہیں۔ انہیں قبرستان نہ بناؤ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا وہ قبرستان کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح ایسے گھر بھی عمل اور عبادت سے محروم ہوتے ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

   صحيح البخاري432عبد الله بن عمراجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا
   صحيح البخاري1187عبد الله بن عمراجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا
   صحيح مسلم1820عبد الله بن عمراجعلوا من صلاتكم في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا
   صحيح مسلم1821عبد الله بن عمرصلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا
   جامع الترمذي451عبد الله بن عمرصلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا
   سنن أبي داود1448عبد الله بن عمراجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا
   سنن أبي داود1043عبد الله بن عمراجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا
   سنن النسائى الصغرى1599عبد الله بن عمرصلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا
   سنن ابن ماجه1377عبد الله بن عمرلا تتخذوا بيوتكم قبورا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ محمد حسين ميمن حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 432  
´قبروں میں نماز کے مکروہ ہونے کا بیان`
«. . . قَالَ: اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھا کرو اور انہیں بالکل مقبرہ نہ بنا لو . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ: 432]

فوائد و مسائل:
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم فرمایا کہ قبروں میں نماز کے مکروہ ہونے کا بیان اور حدیث پیش کی کہ اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ مناسبت یہ ہے کہ قبروں پر نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا اگر گھر میں نماز نفل نہ ادا کی گئی تو وہ بھی قبروں کے مانند ہوں گیں۔
دوسری مناسبت یہ ہے کہ قبر میں مردے نماز نہیں پڑھتے اور ان سے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں اسی لیے حکم دیا کہ اپنے گھروں کو قبریں نہ بنائیں۔

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
«كأن المصنف أشار إلى ما رواه أبوداؤد والترمذي فى ذالك ليس على شرطه وهو حديث أبى سعيد الخدري مرفوعًا الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام، واستنبط من قوله فى الحديث ولا تتخذوها قبورًا ان القبور ليست بمحل للعبادة فتكون الصلاة فيها مكروهة» [فتح الباري، ج1، ص529]
گویا مصنف رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا ہے اس حدیث کی طرف جس کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت فرمایا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (لیکن) یہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ کے شرط پر نہیں ہے کہ تمام زمین مسجد ہے سوائے مقبرے اور حمام کے اور اپنے قول کے لیے استنباط فرمایا حدیث سے کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقیناًً قبریں عبادت کے لیے نہیں ہوا کرتیں اور اس میں (یعنی مقبروں میں) نماز مکروہ ہوتی ہے۔

◈ ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
حدیث اس بات پر دال ہے کہ گھر اور قبرستان میں (واضح) فرق ہے کیونکہ نماز کا حکم گھر میں دیا گیا ہے اور اسے قبرستان نہ بننے دینے کا حکم ہے۔ سوچیے کہ قبرستان نماز کی جگہ نہیں ہے۔ پس لہٰذا اسی وجہ سے اس کے تحت اس حدیث کو داخل فرمایا ہے۔ [المتواري، ص86]

◈ علامہ صدیق بن حسن القنوجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
«وقد حمل البخاري هذا الحديث على منع الصلاة فى المقابر ولهذا ترجم به، وتعقب بأنه ليس فيه تعرض لجواز الصلاة فى المقابر ولا منعها، بل المراد منه الحث على الصلاة فى البيت، فأن الموتي لا يصلون فى بيوتهم، وكأنه قال: لا تكونوا كالموتي فى القبور حيث انقطعت عنهم الأعمال . . .» [عون الباري، ج1، ص453]
یعنی امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ ثابت فرمایا حدیث سے کہ مقبروں پر نماز درست نہیں ہے اور اسی پر باب بھی قائم کیا، تعقب کیا ہے کہ اس حدیث میں کوئی تعرض نہیں ہے۔ مقبروں پر نماز ادا کرنے کا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ نمازِ نفل گھر میں ادا کرنی چاہیے۔ کیونکہ مردے اپنے گھروں میں (یعنی قبروں میں) نماز ادا نہیں کرتے۔ گویا کہ یوں کہا: مردوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو قبروں میں ہیں جبکہ ان کے اعمال ان سے منقطع ہو گئے۔۔۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے موافق اس روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ جو آپ کی شرائط پر نہیں (تمام زمین مسجد ہے سوائے مقبرے اور حمام کے)۔

◈ صدیق حسن خان صاحب رحمہ اللہ کی وضاحت سے واضح ہوا کہ حدیث میں ممانعت کے کوئی ایسے واضح الفاظ موجود نہیں ہیں۔ مگر امام بخاری رحمہ اللہ کا اشارہ ترمذی کی حدیث کی طرف ہے جہاں پر حکم واضح الفاظوں میں موجود ہے کہ مقبروں پر نماز نہ ادا کی جائے، بس یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہے۔

فائدہ:
چاروں مذاہب کے نزدیک قبروں پر مساجد بنانا حرام ہے۔ کیونکہ حدیث میں واضح طور پر سختی سے اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ ہم یہاں چاروں مذاہب سے قبروں کو مساجد بنانے کی نفی ثابت کریں گے۔ ان شاء اللہ
شافعی مذہب: شافعی مذہب کے فقیہ ابن حجر الھیثمی نے [الزواجر عن اقتراف الكبائر، ج1، ص120] میں قبروں پر نماز پڑھنا، اسے مسجد بنانے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اور مزید فقیہ ابن حجر الھیتمی فرماتے ہیں کسی آدمی کا قبر پر تبرک حاصل کرنا اور اسے مسجد بنانا اسباب شرک سے ہے۔ قبروں پر قبے لگانا اور ایسی قبریں تو مسجد ضرار سے بھی زیادہ مضر ہیں۔ کیونکہ اس کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر ہے۔ [روح المعاني، ج5ص31]
حنفی مذہب: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے تلمیذ خاص فرماتے ہیں:
«لا نري أن يزاد على ما خرج من القبر ونكره أن يجصص أو يطبن أو يجعل عنده مسجدًا» [كتاب الاثار، ص45]
یعنی احناف کے نزدیک بھی قبر کو پختہ بنانا یا اسے مسجد بنانا کراہیت سے موقوف ہے۔
مالکی مذہب: امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«قال علماؤنا: وهذا يحرم على المسلمين أن يتخذوا قبور الانبياء والعلماء مساجد» [تفسير القرطبي، ج10، ص38]
ہمارے علماؤں نے فرمایا کہ مسلمانوں پر حرام ہے کہ وہ انبیاء اور علماء کی قبروں کو مساجد بنائیں۔
حنبلی مذہب: ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قبروں پر چراغاں کرنا حرام ہے، اور اسے مسجد بنانا بھی اور اس مسئلے پر ہم نے معروف علماء میں کسی کو خلاف نہیں پایا۔ [الاختيارات العلمية، ص52]
   عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد اول، حدیث\صفحہ نمبر: 159   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1599  
´گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1599]
1599۔ اردو حاشیہ:
➊ عذر کے سوا فرض نماز مسجد میں باجماعت پڑھنی چاہیے، البتہ نفل نماز گھر اور مسجد دونوں میں پڑھی جا سکتی ہے۔ مسجد فرض نمازوں سے آباد ہو جائے گی۔ گھروں کو نفل نماز ہی سے آباد کیا جا سکتا ہے، لہٰذا نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر اور افضل ہے۔ عورتوں کے لیے فرض نماز بھی گھر ہی میں پڑھنا افضل ہے اگرچہ مسجد میں بھی وہ فرض نماز پڑھ سکتی ہیں۔ اس طرح گھروں کواللہ کے ذکر سے آباد کیا جا سکتا ہے۔ گھر اور دل وہی آباد اور زندہ ہیں جن میں اللہ کا ذکر ہو ورنہ ویران اور مردہ ہیں۔ اس لحاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھروں کو قبرستان سے تشبیہ دی ہے جہاں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا اور جہاں نماز پڑھنی قطعاً منع ہے۔ اور اللہ کے ذکر کی اصل اور اعلیٰ صورت نماز ہی ہے۔
➋ اس روایت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی سوائے نماز جنازہ کے کہ اس میں رکوع اور سجدہ نہیں ہے۔ بعض شارعین نے اس روایت کے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ گھروں میں قبریں نہ بناؤ ورنہ قبروں کی وجہ سے گھروں میں نماز نہ پڑھ سکو گے۔ یہ مسئلہ تو صحیح ہے مگر اس معنی میں ذرا تکلف ہے۔
➌ اس روایت کا یہ مطلب نہیں کہ مسجد میں نفل اور سنت پڑھے نہیں جاسکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ گھروں میں بھی نوافل پڑھا کرو۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1599   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1043  
´آدمی کے اپنے گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1043]
1043۔ اردو حاشیہ:
➊ اس سے مراد صرف سنتیں اور نوافل ہیں۔
➋ قبرستان سے مشابہت اس لئے دی گئی ہے کہ وہاں نہ نماز پڑھی جاتی ہے اور نہ ہی جائز ہے۔
➌ اس میں اہم تر حکمت یہ ہے کہ اس عمل کے باعث گھر میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اترتی ہے۔ فرشتے نازل ہوتے ہیں انسان ریا سے محفوظ رہتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ بھی ہے کہ گھر والوں کو ترغیب اور بچوں کی تربیت ہوتی ہے۔
➍ ان نوافل سے احرام و طواف کی سنتیں اور باجماعت تراویح وغیرہ مستثنیٰ ہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1043   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1377  
´گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1377]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
ذکر الٰہی دل کی زندگی ہے۔
ذکر نہ کرنے والا مردے کی مانند ہے۔
نمازذکر کا بہترین طریقہ ہے۔

(2)
قبرستان میں نماز پڑھنا منع ہے۔

(3)
گھروں کوقبریں بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاتی۔
اسی طرح گھروں میں نماز پڑھنے سے پرہیز نہ کرو۔
کہ فرض نمازوں کے علاوہ تمام نفلی نمازیں بھی مسجد میں ہی ادا کرنے لگو۔
بلکہ نفلی نمازیں گھر میں بھی پڑھا کرو۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1377   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 451  
´نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو ۱؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 451]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے مراد نوافل اور سنن ہیں۔

2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں،
اور جن گھروں میں نوافل وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ قبرستان کے مثل ہیں،
جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل و عبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 451   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.