صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
The Book of Sales (Bargains)
59. بَابُ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ:
59. باب: نیلام کرنے کے بیان میں۔
(59) Chapter. Selling by auction.
حدیث نمبر: Q2141
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
وقال عطاء: ادركت الناس لا يرون باسا ببيع المغانم فيمن يزيد.وَقَالَ عَطَاءٌ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا بِبَيْعِ الْمَغَانِمِ فِيمَنْ يَزِيدُ.
‏‏‏‏ اور عطاء نے کہا کہ میں نے دیکھا لوگ مال غنیمت کے نیلام کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔

حدیث نمبر: 2141
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الحسين المكتب، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه:" ان رجلا اعتق غلاما له عن دبر فاحتاج، فاخذه النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: من يشتريه مني؟ فاشتراه نعيم بن عبد الله بكذا وكذا، فدفعه إليه".حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَاحْتَاجَ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِكَذَا وَكَذَا، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ".
ہم سے بشیر بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حسین مکتب نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد کیا۔ لیکن اتفاق سے وہ شخص مفلس ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے غلام کو لے کر فرمایا کہ اسے مجھ سے کون خریدے گا۔ اس پر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اتنی اتنی قیمت پر خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام ان کے حوالہ کر دیا۔

Narrated Jabir bin `Abdullah: A man decided that a slave of his would be manumitted after his death and later on he was in need of money, so the Prophet took the slave and said, "Who will buy this slave from me?" Nu'aim bin `Abdullah bought him for such and such price and the Prophet gave him the slave.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 34, Number 351

   صحيح البخاري6947جابر بن عبد اللهرجلا من الأنصار دبر مملوكا ولم يكن له مال غيره بلغ ذلك رسول الله فقال من يشتريه مني
   صحيح البخاري6716جابر بن عبد اللهمن يشتريه مني
   صحيح البخاري2230جابر بن عبد اللهباع النبي المدبر
   صحيح البخاري7186جابر بن عبد اللهرجلا من أصحابه أعتق غلاما له عن دبر لم يكن له مال غيره باعه بثمان مائة درهم ثم أرسل بثمنه إليه
   صحيح البخاري2403جابر بن عبد اللهأعتق رجل غلاما له عن دبر من يشتريه مني اشتراه نعيم بن عبد الله فأخذ ثمنه فدفعه إليه
   صحيح البخاري2415جابر بن عبد اللهرجلا أعتق عبدا له ليس له مال غيره رده النبي فابتاعه منه نعيم بن النحام
   صحيح البخاري2534جابر بن عبد اللهأعتق رجل منا عبدا له عن دبر دعا النبي به فباعه
   صحيح البخاري2141جابر بن عبد اللهرجلا أعتق غلاما له عن دبر فاحتاج أخذه النبي فقال من يشتريه مني فاشتراه نعيم بن عبد الله بكذا وكذا فدفعه إليه
   صحيح مسلم4339جابر بن عبد اللهدبر رجل من الأنصار غلاما له لم يكن له مال غيره باعه رسول الله اشتراه ابن النحام عبدا قبطيا مات عام أول في إمارة ابن الزبير
   صحيح مسلم4338جابر بن عبد اللهرجلا من الأنصار أعتق غلاما له عن دبر لم يكن له مال غيره بلغ ذلك النبي فقال من يشتريه مني
   جامع الترمذي1219جابر بن عبد اللهباعه النبي فاشتراه نعيم بن عبد الله بن النحام
   سنن أبي داود3957جابر بن عبد اللهمن يشتريه فاشتراه نعيم بن عبد الله بن النحام بثمان مائة درهم فدفعها إليه ثم قال إذا كان أحدكم فقيرا فليبدأ بنفسه فإن كان فيها فضل فعلى عياله فإن كان فيها فضل فعلى ذي قرابته أو قال على ذي رحمه فإن كان فضلا فهاهنا وهاهنا
   سنن أبي داود3955جابر بن عبد اللهرجلا أعتق غلاما له عن دبر منه ولم يكن له مال غيره أمر به النبي فبيع بسبع مائة أو بتسع مائة
   سنن النسائى الصغرى4658جابر بن عبد اللهباع المدبر
   سنن ابن ماجه2512جابر بن عبد اللهباع المدبر
   سنن ابن ماجه2513جابر بن عبد اللهدبر رجل منا غلاما ولم يكن له مال غيره باعه النبي فاشتراه ابن النحام رجل من بني عدي
   بلوغ المرام653جابر بن عبد اللهاعتق رجل منا عبدا له عن دبر
   بلوغ المرام1229جابر بن عبد اللهرجلا من الانصار اعتق غلاما له عن دبر لم يكن له مال غيره فبلغ ذلك
   المعجم الصغير للطبراني551جابر بن عبد الله باع مدبرا من نعيم بن عبد الله
   مسندالحميدي1256جابر بن عبد اللهدبر رجل غلاما له ليس له مال غيره، فباعه النبي صلى الله عليه وسلم، فاشتراه نعيم بن النحام

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2513  
´مدبر غلام کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے غلام کو مدبر بنا دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا، اور قبیلہ بنی عدی کے شخص ابن نحام نے اسے خریدا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2513]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مدبر سے مراد وہ غلام ہے جسے اس کا مالک یہ کہہ دے تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔ (فتح الباری: 531/4)

(2)
جب تک آقا زندہ ہے مدبر غلام ہی رہتا ہے اور اس پر غلاموں والے سب احکام لاگو ہوتے ہیں۔

(2)
مجبوری کی حالت مدبر غلام کی اس مشروط آزادی کو کالعدم قراردیا جا سکتا ہےجیسا کہ اس حدیث میں ہےکہ آزاد کرنے والے کے پاس کوئی مال نہیں تھا۔
صیحح بخاری میں ہے وہ محتاج تھا۔ (صیحح البخاري، البیوع، باب بیع المزايدۃ، حدیث: 2141)
  اس کے علاوہ مقروض بھی تھا۔ (فتح الباري، البیوع، باب بیع المدبر بحواله اسما عیلیي)

(4)
آزاد کرنے والے صحابی کا نام ابو مذکور بیان کیا جاتا ہے۔ (سنن أبي داود، العتق، باب فی بیع المدبر، حدیث: 3955)

(5)
خریدنے والے صحابی کا نام حضرت نعیم بن عبداللہ تھا۔ (صیحح البخاري، البیوع، باب بیع المزايدۃ حدیث: 2141)
انھی کو ابن نحام بھی کہاجاتا ہے کیونکہ رسول اللہﷺنے جنت میں ان کے کھنکھارنے کی آواز سنی تھی۔ (حاشہ صیحح المسلم از محمد فواد عبدالباقی الایمان باب جوازبیع المدبر)

(6)
اس غلام کا نام یعقوب تھا۔ (سنن أبي داود، العتق باب فی بیع المدبرۃ، حدیث: 997)

(7)
غلام کی قیمت آٹھ سو درہم ادا كى گئی۔ (صیحح البخاري، الأحکام، باب بیع الإمام علی الناس أموالھم وضیاعھم، حدیث: 7186)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2513   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 653  
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ ہم میں سے کسی شخص نے اپنا غلام مدبر کر دیا۔ اس غلام کے سوا اس کے پاس اور کوئی مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلوایا اور اسے فروخت کر دیا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 653»
تخریج:
«أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المزايدة، حديث:2141، ومسلم، الأيمان، باب جواز بيع المدبر، حديث:997، بعد حديث:1668.»
تشریح:
1. صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آپ نے اسے آٹھ سو درہم میں فروخت کر دیا اور حضرت نعیم بن عبداللہ بن نحام نے اسے خرید لیا۔
دیکھیے: (صحیح البخاري‘ کفارات الأیمان‘ حدیث:۶۷۱۶) 2. سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ مقروض تھا‘ اس لیے آپ نے اسے فروخت کیا تاکہ اس کا قرض اتار دیا جائے۔
دیکھیے: (سنن النسائي‘ آداب القضاء‘ حدیث:۵۴۲۰) 3.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدبر غلام کو ضرورت و حاجت کے وقت فروخت کرنا جائز ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ ‘ اہل حدیث اور عام فقہاء اس کی مطلقاً فروخت کے قائل ہیں۔
4. حدیث سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے موقع پر فروخت کرنا جائز ہے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 653   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1219  
´مدبر غلام کے بیچنے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے ۱؎ اپنے غلام کو مدبر ۲؎ بنا دیا (یعنی اس سے یہ کہہ دیا کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو)، پھر وہ مر گیا، اور اس غلام کے علاوہ اس نے کوئی اور مال نہیں چھوڑا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا ۳؎ اور نعیم بن عبداللہ بن نحام نے اسے خریدا۔ جابر کہتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا۔ عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کی امارت کے پہلے سال وہ فوت ہوا۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1219]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس شخص کا نام ابومذکورانصاری تھا اورغلام کا نام یعقوب۔

2؎:
مدبروہ غلام ہے جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔

3؎:
بعض روایات میں ہے کہ وہ مقروض تھا اس لیے آپ نے اسے بیچا تاکہ اس کے ذریعہ سے اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے اس حدیث سے معلوم ہواکہ مدبرغلام کوضرورت کے وقت بیچنا جائزہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1219   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3955  
´مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3955]
فوائد ومسائل:
غلام کے بارے میں یہ وصیت کرنا کہ یہ میری وفات کے بعد آزاد ہوگا بالکل مباح اور جائز ہے۔
مگر وارثوں کے حالات کے پیش نظر اگر وہ بالکل ہی مفلوک الحال ہوں توایسی وصیت کو فسخ بھی کیا جاسکتا ہے۔
قاضی اور حاکم کو اختیار ہے کہ وہ اس کو فسخ کردیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3955   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2141  
2141. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہےکہ ایک آدمی نے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزادی کا اختیار سونپ دیا مگر وہ شخص کچھ مدت کے بعد محتاج ہوگیا تو نبی ﷺ نے غلام کو پکڑکر فرمایا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے؟ حضرت نعیم بن عبد اللہ ؓنے کسی قدر مال کے عوض اسے خرید لیا، پھر آپ نے وہ قیمت اس کے مالک کو دے دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2141]
حدیث حاشیہ:
نعیم بن عبداللہ ؓ نے آٹھ سو درہم کا لیا، جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اس کو کون خریدتا ہے، تو یہ نیلام ہی ہوا۔
اور اسماعیلی کا اعتراض دفع ہو گیا کہ حدیث سے نیلام ثابت نہیں ہوتا کیوں کہ اس میں یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے مول بڑھانا شروع کیا، اور مدبر کی بیع کا جواز نکلا، امام شافعی ؒ اور ہمارے امام احمد بن حنبل ؒ کا بھی یہی قول ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ؒ اور امام مالک ؒ کے نزدیک مدبر کی بیع درست نہیں ہے۔
تفصیل آرہی ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
لما ان تقدم في الباب قبله النهي عن السوم أراد أن یبین موضع التحریمة منه و قد أوضحته في الباب الذي قبله و ورد في البیع فیمن یزید حدیث أنس أنه صلی اللہ علیه وسلم باع حلسا و قدحا و قال من یشتري هذا الحلس و القدح فقال رجل أخذتهما بدرهم فقال من یزید علی درهم فأعطاہ رجل درهمین فباعهما منه أخرجه أحمد و أصحاب السنن مطولا و مختصراً و اللفظ للترمذي و قال حسن و کان المصنف أشار بالترجمة إلی تضعیف ما أخرجه البزار من حدیث سلیمان بن وهب سمعت النبي صلی اللہ علیه وسلم ینهی عن بیع المزایدة فإن في إسنادہ ابن لهیعة وهو ضعیف۔
(فتح)
چونکہ پچھلے باب میں بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے نہی گزر چکی ہے لہٰذا مصنف نے چاہا کہ حرمت کی وضاحت کی جائے اور میں اس سے پہلے باب میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں۔
یہاں حضرت امام بخاری ؒ نے نیلام کا بیان شروع فرمایا اوراس کا جواز ثابت کیا۔
اور اس بیع کے بارے میں انس ؓ سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک پرانا ٹاٹ اور ایک پیالہ نیلام فرمایا۔
اور ایک آدمی نے ان کی بولی ایک درہم لگائی۔
آپ ﷺ کے دوبارہ اعلان پر دوسرے آدمی نے دو درہموں کو بولی لگادی۔
اور آپ ﷺ نے ہر دو چیزیں اس کو دے دیں۔
حضرت امام بخاری ؒ نے یہاں اشارہ فرمایا ہے کہ مسند بزار میں سفیان بن وہب کی روایت سے جو حدیث موجود ہے جس میں نیلام سے ممانعت وارد ہے وہ حدیث ضعیف ہے۔
اس کی سند میں ابن لہیعہ ہے جو ضعیف ہے۔
حضرت عطاءبن ابی رباح مشہور ترین تابعی ہیں۔
کنیت ابومحمد ہے جلیل القدر فقیہ ہیں۔
آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔
امام اوزاعی ؒ کا قول ہے کہ ان کی وفات کے وقت ہر شخص کی زبان پر ان کا ذکر خیر تھا۔
اور سب لوگ ان سے خوش تھے۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا کہ اللہ نے علم کے خزانوں کا مالک حضرت عطاءبن ابی رباحؒ کو بنایا جو حبشی تھے۔
علم اللہ کی دین ہے جسے چاہے وہ دے دے۔
سلمہ بن کہیل نے کہا، عطاء، طاؤس، مجاہد ؒ وہ بزرگ ہیں جن کے علم کی غرض و غایت صرف خدا کی ذات تھی۔
88 سال کی عمر میں 115ھ میں وفات پائی۔
رحمه اللہ
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2141   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2141  
2141. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہےکہ ایک آدمی نے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزادی کا اختیار سونپ دیا مگر وہ شخص کچھ مدت کے بعد محتاج ہوگیا تو نبی ﷺ نے غلام کو پکڑکر فرمایا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے؟ حضرت نعیم بن عبد اللہ ؓنے کسی قدر مال کے عوض اسے خرید لیا، پھر آپ نے وہ قیمت اس کے مالک کو دے دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2141]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ عنوان سے اس روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نیلامی کی بیع سے منع کیا ہے۔
(کتاب الإسناد عن الزوائد البرار: 483/1)
بعض حضرات نے اعتراض کیا ہے کہ پیش کردہ حدیث میں نیلامی کا ذکر نہیں ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کہ اسے کون خریدتا ہے؟یہی نیلامی کے ثبوت کےلیے کافی ہے۔
بہرحال نیلامی اگر قیمت بڑھانے کے لیے جائے تو منع ہے۔
اگر خریدنے کا ارادہ ہوتو نیلامی جائز ہے۔
مذکورہ حدیث میں اس کا واضح ثبوت ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2141   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.