صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
The Book of Adhan
81. بَابُ صَلاَةِ اللَّيْلِ:
81. باب: رات کی نماز۔
(81) Chapter. The night prayer.
حدیث نمبر: 731
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، قال: حدثنا وهيب، قال: حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم ابي النضر، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ حجرة، قال: حسبت انه قال: من حصير في رمضان فصلى فيها ليالي فصلى بصلاته ناس من اصحابه، فلما علم بهم جعل يقعد فخرج إليهم، فقال: قد عرفت الذي رايت من صنيعكم فصلوا ايها الناس في بيوتكم، فإن افضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة"، قال عفان: حدثنا وهيب، حدثنا موسى، سمعت ابا النضر، عن بسر، عن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم.حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ"، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ابوالنضر سالم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

Narrated Zaid bin Thabit: Allah's Apostle made a small room in the month of Ramadan (Sa`id said, "I think that Zaid bin Thabit said that it was made of a mat") and he prayed there for a few nights, and so some of his companions prayed behind him. When he came to know about it, he kept on sitting. In the morning, he went out to them and said, "I have seen and understood what you did. You should pray in your houses, for the best prayer of a person is that which he prays in his house except the compulsory prayers."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 11, Number 698

   صحيح البخاري6113زيد بن ثابتعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   صحيح البخاري7290زيد بن ثابتصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   صحيح البخاري731زيد بن ثابتأفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة
   صحيح مسلم1825زيد بن ثابتعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   جامع الترمذي450زيد بن ثابتأفضل صلاتكم في بيوتكم إلا المكتوبة
   سنن أبي داود1447زيد بن ثابتعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   سنن أبي داود1044زيد بن ثابتصلاة المرء في بيته أفضل من صلاته في مسجدي هذا إلا المكتوبة
   سنن النسائى الصغرى1600زيد بن ثابتصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   بلوغ المرام322زيد بن ثابت أفضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة
   المعجم الصغير للطبراني254زيد بن ثابت صلاة المرء فى بيته أفضل من صلاته فى مسجدي هذا إلا المكتوبة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1044  
´آدمی کے اپنے گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1044]
1044۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ ارشاد مردوں کو ہے عورتوں کو نہیں کیونکہ ان کے لئے فرض نماز بھی گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔ اگرچہ جماعت میں آنے کی اجازت ہے۔
➋ بیت الحرام اور بیت المقدس بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس ہیں۔
➌ ان نوافل سے مراد ایسے نوافل ہیں۔ جو مسجد سے مخصوص نہیں، مثلاً تحیۃ المسجد اور جمعہ سے پہلے کے نوافل وغیرہ۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1044   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 322  
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاس پھوس سے بنی ہوئی چٹائی سے ایک چھوٹا (خیمہ نما) حجرہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ مرد کی اپنے گھر میں نماز افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 322»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأذان، باب صلاة الليل، حديث:731، ومسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته، حديث:781.»
تشریح:
1. یہ ماہ رمضان کا موقع تھا کہ آپ نے اپنے لیے مسجد میں الگ ایک مختصر سی مخصوص جگہ بنالی۔
2. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ایسا کرنا مقتدیوں اور نمازیوں کے لیے باعث ضرر اور تکلیف نہ ہو تو مسجد میں مخصوص جگہ بنائی جا سکتی ہے۔
3.مکمل روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رات کی نماز پڑھتے تھے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو علم ہوا تو انھوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات دیر سے اس حجرے سے باہر نکلے اور فرمایا: میں نے تمھارا حال دیکھ لیا ہے‘ اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ مردوں کی نماز گھر میں افضل ہے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 322   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 731  
731. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک میں ایک حجرہ بنایا تھا، میرا گمان ہے کہ وہ چٹائی کا تھا۔ آپ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی۔ آپ کے صحابہ میں سے کئی لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ جب آپ کو ان کے متعلق معلوم ہوا تو آپ بیٹھ رہے، پھر ان کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تمہارا عمل دیکھا اور تمہارا ارادہ پہچان لیا ہے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کیونکہ افضل نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ادا ہو، مگر فرض نماز (کہ اس کی ادائیگی مسجد میں ہونی چاہئے)۔ عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، اس نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، اس نے بتایا کہ میں نے ابونضر بن ابو امیہ سے سنا وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت زید (بن ثابت ؓ) سے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:731]
حدیث حاشیہ:
اس سند کے بیان کرنے سے حضرت امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کا سماع ابوالنضر سے ثابت کریں جس کی اس روایت میں تصریح ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 731   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:731  
731. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک میں ایک حجرہ بنایا تھا، میرا گمان ہے کہ وہ چٹائی کا تھا۔ آپ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی۔ آپ کے صحابہ میں سے کئی لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ جب آپ کو ان کے متعلق معلوم ہوا تو آپ بیٹھ رہے، پھر ان کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تمہارا عمل دیکھا اور تمہارا ارادہ پہچان لیا ہے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کیونکہ افضل نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ادا ہو، مگر فرض نماز (کہ اس کی ادائیگی مسجد میں ہونی چاہئے)۔ عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، اس نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، اس نے بتایا کہ میں نے ابونضر بن ابو امیہ سے سنا وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت زید (بن ثابت ؓ) سے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:731]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث عائشہ کے متعلق دیگر روایات میں وضاحت ہے کہ ایسا ماہ رمضان میں ہوا۔
(صحیح البخاري، التھجد، حدیث: 1129)
نیز چوتھی رات لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد ان وجہ سے تنگ ہوگئی۔
(صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 924)
آپ نے نماز فجر کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا:
لوگو! وہی اعمال بجالاؤ جن کی کی بجاآوری کی تم ہمت رکھتے ہو۔
اللہ تعالیٰ تواپنے دینے میں تنگ دلی نہیں دکھائے گا، البتہ تم خود تنگ آکر اس عمل کو چھوڑ دو گے۔
اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل وہی ہے جس پر دوام کیا جائے اگرچہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5861)
حدیث زید بن ثابت کے متعلق دیگر روایات میں مزید وضاحت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اگلے دن لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے تو انھوں نے بآواز بلند تسبیحات کہنا شروع کر دیں۔
بعض نے دروازے کو کنکریاں مارنا شروع کردیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ غصے کی حالت میں ان کے ہاں تشریف لائے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6113)
ایک روایت میں ہے کہ جب لوگوں نے اگلے دن نبی ﷺ کی آواز نہ سنی تو خیال کیا کہ شاید آپ سورہے ہوں، اس لیے بآواز بلند کھانسنے لگے تاکہ آپ تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں۔
آپ نے فرمایا:
مجھے اندیشہ ہے مبادا تمھارے ذوق وشوق کے پیش نظر نماز تہجد تم پر فرض ہوجائے۔
اگر فرض کردی گئی تو پھر تم اس کا اہتمام نہیں کرسکو گے۔
(صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث: 7290) (2)
شریعت نے نوافل کی ادائیگی مسجد میں اور فرائض گھروں میں ادا کرنے کو پسند نہیں فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ نماز سے پہلے اور بعد کی سنتیں عام طور پر گھر میں ادا کرتے تھے۔
صبح کی سنتیں تو نبی ﷺ سے مسجد میں پڑھنا ثابت ہی نہیں۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نفل نماز کے لیے گھر اور مسجد کے ثواب میں وہی نسبت ہے جو جماعت اور تنہا نماز کے ثواب میں ہے۔
گھر میں نوافل پڑھنے کے کئی ایک فوائد ہیں:
٭انسان ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے اور نماز کے ثواب کو کم کرنے والی بہت سی چیزوں سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
٭اس گھر میں اللہ کی رحمت وبرکت کا نزول ہوتا ہے جس میں نماز پڑھی جائے۔
٭اس گھر میں اللہ کے فرشتے اترتے ہیں اور شیاطین وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
(عمدة القاري: 372/4) (3)
روایت کے آخر میں امام بخارى ؒ نے ایک مزید سند کا حوالہ دیا ہے۔
ان کی غرض یہ ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کا سماع ابو نضر سے ثابت کیا جائے، چنانچہ آخری سند میں اس کی صراحت ہے۔
(فتح الباري: 280/2)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 731   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.