🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب ما ينهى من الطيب للمحرم والمحرمة:
باب: احرام والے مرد اور عورت کو خوشبو لگانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1838
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ"، تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، وَجُوَيْرِيَةُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ فِي النِّقَابِ وَالْقُفَّازَيْنِ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَلَا وَرْسٌ، وَكَانَ يَقُولُ: لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ، وَقَالَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ، وَتَابَعَهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! حالت احرام میں ہمیں کون سے کپڑے پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنو نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ برنس۔ اگر کسی کے جوتے نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے۔ اسی طرح کوئی ایسا لباس نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو۔ احرام کی حالت میں عورتیں منہ پر نقاب نہ ڈالیں اور دستانے بھی نہ پہنیں۔ لیث کے ساتھ اس روایت کی متابعت موسیٰ بن عقبہ اور اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اور جویریہ اور ابن اسحاق نے نقاب اور دستانوں کے ذکر کے سلسلے میں کی ہے۔ عبیداللہ رحمہ اللہ نے «ولا ورس» کا لفظ بیان کیا وہ کہتے تھے کہ احرام کی حالت میں عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے استعمال کرے اور امام مالک نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ احرام کی حالت میں عورت نقاب نہ ڈالے اور لیث بن ابی سلیم نے مالک کی طرح روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1838]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرد نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حالت احرام میں آپ کون سا کپڑا پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قمیص، شلوار، پگڑی اور ٹوپی والا لمبا کوٹ نہیں پہن سکتے (اور نہ پاؤں میں موزے پہنو) ہاں! اگر کسی کے پاس پہننے کے لیے چپل جوتا نہ ہو تو وہ مجبوراً پاؤں کی حفاظت کے لیے موزے پہن لے لیکن انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر جوتا سا بنا لے، نیز حالت احرام میں ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگی ہو۔ اور محرم عورت نقاب اور دستانے بھی نہ پہنے۔ نقاب اور دستانوں کے متعلق نافع سے روایت کرنے میں لیث کی، موسیٰ بن عقبہ، اسماعیل بن ابراہیم، جویریہ اور ابن اسحاق نے متابعت کی ہے۔ اور عبیداللہ نے «لَا وَرْسَ» اور نہ ورس (لگی ہو) کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ عورت بحالت احرام نقاب اور دستانے نہ پہنے۔ امام مالک نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ محرم عورت نقاب نہ پہنے۔ امام مالک کی لیث بن ابو سلیم نے متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ فَقَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ان کو ابن ابی ذئب نے نافع کے واسطے سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (دوسری سند میں) زہری سالم سے، کہا وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ صافہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور نہ کوئی زعفران اور ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انہیں (اس طرح) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 134]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا: جو شخص احرام باندھے وہ کیا پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کُرتا، نہ پگڑی، نہ پاجامہ، نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگی ہو۔ اور اگر جوتی نہ ہو تو موزے پہن لے اور انہیں اوپر سے کاٹ لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ فَقَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا وَرْسٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ پاجامہ، نہ باران کوٹ اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران لگا ہوا ہو اور نہ ورس لگا ہوا کپڑا، پھر اگر کسی شخص کو جوتیاں نہ ملیں (جن میں پاؤں کھلا رہتا ہو) وہ موزے کاٹ کر پہن لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں اور ابن ابی ذئب نے اس حدیث کو نافع سے بھی روایت کیا، انہوں نے ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 366]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ محرم کیا پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم قمیص، پاجامہ اور بارانی کا استعمال نہ کرے اور نہ وہ کپڑے پہنے جو زعفران یا «وَرْس» سے رنگے گئے ہوں، اور جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور انہیں اوپر سے کاٹ دے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ امام نافع رحمہ اللہ نے بواسطہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مثل روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1542
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَلْبَسُ الْقُمُصَ , وَلَا الْعَمَائِمَ , وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ , وَلَا الْبَرَانِسَ , وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ أَوْ وَرْسٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! محرم کو کس طرح کا کپڑا پہننا چاہئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کرتہ پہنے، نہ عمامہ باندھے، نہ پاجامہ پہنے، نہ باران کوٹ، نہ موزے۔ لیکن اگر اس کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے اس وقت پہن سکتا ہے جب ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ لیا ہو۔ (اور احرام میں) کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے لیکن کنگھا نہ کرے۔ بدن بھی نہ کھجلانا چاہئے او جوں سر اور بدن سے نکال کر زمین پر ڈالی جا سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1542]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم قمیص، پگڑی، شلوار، ٹوپی اور موزے نہ پہنے۔ ہاں اگر جوتا نہ ملے تو موزے پہن لے لیکن انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور ایسا کپڑا بھی نہ پہنے جسے زعفران یا ورس لگی ہوئی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1842
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: لَا يَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا وَرْسٌ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قمیص، عمامہ، پاجامہ اور برنس (کن ٹوپ یا باران کوٹ) نہ پہنے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو اور اگر جوتیاں نہ ہوں تو موزے پہن لے، البتہ اس طرح کاٹ لے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1842]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم آدمی کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، عمامہ، شلوار اور ٹوپی نہ پہنے اور نہ وہ کپڑا ہی پہنے جسے زعفران اور ورس لگی ہوئی ہو۔ اگر جوتا نہ پائے تو موزے پہن لے لیکن انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5794
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ مَا هُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! محرم کس طرح کا کپڑا پہنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص، پاجامہ، برنس (ٹوپی یا سر پر پہننے کی کوئی چیز) اور موزے نہیں پہنے گا البتہ اگر اسے چپل نہ ملیں تو موزوں ہی کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہن لے وہ ہی جوتی کی طرح ہو جائیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5794]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول! محرم آدمی کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم آدمی قمیص، شلوار، ٹوپی اور موزے نہ پہنے۔ اگر اسے جوتا نہ ملے تو موزوں کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہن لے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5794]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5803
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! محرم کس طرح کا کپڑا پہنے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محرم کے لیے) کہ قمیص نہ پہنو، نہ عمامے، نہ پاجامے، نہ برنس اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملے تو وہ (چمڑے کے) موزوں کو ٹخنہ سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگایا گیا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5803]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول! محرم آدمی کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (احرام میں) قمیض، پگڑی، شلوار، لمبی ٹوپی (اوور کوٹ) اور موزے نہ پہنو، لیکن اگر کوئی جوتا نہ پائے تو موزے پہن لے لیکن انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور نہ وہ کپڑے پہنو جنہیں زعفران اور ورس سے رنگا گیا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5803]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ إِذَا أَحْرَمْنَا؟، قَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَالسَّرَاوِيلَ، وَالْعَمَائِمَ، وَالْبَرَانِسَ، وَالْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا وَرْسٌ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہمیں کس چیز کے پہننے کا حکم ہے؟ فرمایا کہ قمیص نہ پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے، نہ برنس اور نہ موزے پہنو۔ البتہ اگر کسی کے پاس چپل نہ ہوں تو وہ چمڑے کے ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس لگا ہوا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5805]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم احرام باندھیں تو کون سا لباس پہننے کا آپ حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیض، شلوار، پگڑی، لمبی ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو، ہاں اگر کسی شخص کو جوتی میسر نہ ہو تو وہ موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، نیز کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگی ہوئی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5805]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5806
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ: الْقَمِيصَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا وَرْسٌ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُمَا فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے , نہ عمامہ پہنے , نہ پاجامہ , نہ برنس اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے (پھر پہنے)۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5806]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم آدمی قمیض، پگڑی، شلوار، لمبی ٹوپی نہ پہنے اور نہ کپڑے پہنے جنہیں زعفران اور ورس لگا ہو، وہ موزے بھی نہ پہنے مگر جسے جوتا میسر نہ ہو تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ ڈالے (تاکہ وہ جوتا بن جائے)۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 5806]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں