صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الإِشْخَاصِ وَالْخُصُومَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِ:
باب: قرض دار کو پکڑ کر لے جانا اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ: أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ:"سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ". قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهُ قَالَ: لَا تَخْتَلِفُوا، فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عبدالملک بن میسرہ نے مجھے خبر دی کہا کہ میں نے نزال بن سمرہ سے سنا، اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو قرآن کی آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کے خلاف سنا تھا۔ اس لیے میں ان کا ہاتھ تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرا اعتراض سن کر) فرمایا کہ تم دونوں درست ہو۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2410]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو قرآن کی ایک آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے وہ آیت اس کے خلاف سنی تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کی قراءت ٹھیک ہے۔“ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا: میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہو گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3408
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ فِي قَسَمٍ يُقْسِمُ بِهِ، فَقَالَ: الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِكَ يَدَهُ فَلَطَمَ الْيَهُودِيَّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ: لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مسلمانوں کی جماعت کے ایک آدمی اور یہودیوں میں سے ایک شخص کا جھگڑا ہوا۔ مسلمان نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا میں برگذیدہ بنایا ‘ قسم کھاتے ہوئے انہوں نے یہ کہا۔ اس پر یہودی نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو ساری دنیا میں برگزیدہ بنایا۔ اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کو تھپڑ مار دیا۔ وہ یہودی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنے اور مسلمان کے جھگڑے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دئیے جائیں گے اور سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا پھر دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ پکڑے ہوئے کھڑے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں تھے اور مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے یا انہیں اللہ تعالیٰ نے بیہوش ہونے والوں میں ہی نہیں رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 3408]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں لڑ پڑے۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر برتری دی ہے! یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سب اہل جہاں پر فضیلت دی ہے! اس وقت مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو طمانچہ رسید کر دیا۔ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس واقعے کی اطلاع دی جو اس کے اور مسلمان کے درمیان ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر برتری نہ دو کیونکہ جب تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا۔ میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوئے ہوں گے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بے ہوش ہو گئے تھے لیکن مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ کر رکھا ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 3408]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَتَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَامَ فَلَطَمَ وَجْهَهُ، وَقَالَ: تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَذَهَبَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَبَا الْقَاسِمِ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا فَمَا بَالُ فُلَانٍ لَطَمَ وَجْهِي، فَقَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ فَذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ أَمْ بُعِثَ قَبْلِي.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے ‘ ان سے عبدالعزیز بن سلمہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن فضیل نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ لوگوں کو ایک یہودی اپنا سامان دکھا رہا تھا لیکن اسے اس کی جو قیمت لگائی گئی اس پر وہ راضی نہ تھا۔ اس لیے کہنے لگا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ یہ لفظ ایک انصاری صحابی نے سن لیے اور کھڑے ہو کر انہوں نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ہم میں موجود ہیں اور تو اس طرح قسم کھاتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ اس پر وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے ابوالقاسم! میرا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا عہد و پیمان ہے۔ پھر فلاں شخص کا کیا حال ہو گا جس نے میرے منہ پر چانٹا مارا ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے منہ پر کیوں چانٹا مارا؟ انہوں نے وجہ بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اس قدر کہ غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نمایاں ہو گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں آپس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، جب صور پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی تمام مخلوق پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی ‘ سوا ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا ‘ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوئے کھڑے ہوں گے ‘ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ انہیں طور کی بے ہوشی کا بدلا دیا گیا ہو گا یا مجھ سے بھی پہلے ان کی بے ہوشی ختم کر دی گئی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 3414]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ ایک یہودی نے اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے رکھا، اس کو اس کی قیمت تھوڑی دی جا رہی تھی جس سے وہ ناخوش تھا، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! یہ جملہ ایک انصاری مرد نے سن لیا، چنانچہ وہ کھڑا ہوا اور یہودی کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا کہ تو یہ بات کہتا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں؟ وہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابوالقاسم! مجھے امان اور عہد مل چکا ہے، اس کے باوجود فلاں شخص کا کیا حال ہے کہ اس نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے منہ پر کیوں طمانچہ مارا؟“ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصے سے بھر گئے حتیٰ کہ آپ کے چہرہ انور پر اس کے اثرات دیکھے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ واقعہ یہ ہے کہ جب صور میں پھونکا جائے گا اور تمام زمین و آسمان والے بے ہوش ہو جائیں گے ﴿مگر جسے اللہ چاہے﴾ [سورة الزمر: 68] (وہ بے ہوش نہ ہو گا) پھر اس میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو میں سب سے پہلے اٹھایا جاؤں گا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے ہوں گے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کو طور کے دن کی بے ہوشی کا عوض ملا ہے یا ان کو مجھ سے پہلے اٹھا دیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3476
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ الْهِلَالِيَّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ خِلَافَهَا فَجِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، وَقَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ وَلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نزال بن سبرہ ہلالی سے سنا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک صحابی (عمرو بن العاص) کو قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے سنا۔ وہی آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف قرآت کے ساتھ میں سن چکا تھا، اس لیے میں انہیں ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر اس کی وجہ سے ناراضی کے آثار دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اچھا پڑھتے ہو۔ آپس میں اختلاف نہ کیا کرو۔ تم سے پہلے لوگ اسی قسم کے جھگڑوں سے تباہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 3476]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو قرآنی آیت پڑھتے سنا جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے خلاف پڑھتے سنا تھا، چنانچہ میں اس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور آپ سے واقعہ عرض کیا۔ اس دوران مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے اثرات محسوس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں درست پڑھتے ہو لیکن ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کا شکار ہوئے تو وہ تباہ و برباد ہو گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4813
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الْآخِرَةِ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى مُتَعَلِّقٌ بِالْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَذَلِكَ كَانَ أَمْ بَعْدَ النَّفْخَةِ".
مجھ سے حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرحیم نے خبر دی، انہیں زکریا بن ابی زائدہ نے، انہیں عامر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری مرتبہ صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا میں ہوں گا لیکن اس وقت میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ عرش کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں، اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ پہلے ہی سے اسی طرح تھے یا دوسرے صور کے بعد (مجھ سے پہلے) اٹھ کر عرش الٰہی کو تھام لیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 4813]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”آخری مرتبہ صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا میں ہوں گا، لیکن اس وقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ پہلے ہی اس طرح تھے یا آخری نفخے کے بعد (مجھ سے پہلے عرش الٰہی کو تھام لیں گے)؟“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 4813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5062
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ آَيَةً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَءَا أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ: فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال بن سبرہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنی تھی۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو (اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔) (شعبہ کہتے ہیں کہ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ (اختلاف و نزاع نہ کیا کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 5062]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک آدمی سے سنا جو ایک آیت ایسے طریقے سے پڑھ رہا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ٹھیک پڑھتے ہو۔“ میرا غالب گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”بلاشبہ تم سے پہلے لوگوں نے کتاب اللہ میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 5062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5063
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا، فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو حمید بن ابی حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 5063]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے گھروں کی طرف آئے تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ جب انہیں (اس کی) خبر دی گئی تو انہوں نے اسے کم خیال کیا، کہنے لگے: ”ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت سے کیا مقابلہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں۔“ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: ”میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔“ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے علیحدگی اختیار کروں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔“ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے یہ باتیں کہی ہیں؟ خبردار! اللہ کی قسم! میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں لیکن میں روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اس کے علاوہ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 5063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6017
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا وہ سعید مقبری ہیں، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو (ہدیہ میں) دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 6017]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے معمولی اور حقیر خیال نہ کرے، اگرچہ بکری کی کھری کا ہدیہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 6017]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7428
وَقَالَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ.
اور ماجشون نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر میں سب سے پہلے اٹھنے والا ہوں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 7428]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے والا ہوں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 7428]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7477
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقُلْ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ارْحَمْنِي، إِنْ شِئْتَ ارْزُقْنِي، إِنْ شِئْتَ وَليَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لَا مُكْرِهُ لَهُ".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اس طرح دعا نہ کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے روزی دے، بلکہ پختگی کے ساتھ سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس پر جبر کرنے والا نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 7477]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ان الفاظ میں دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما، بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ عزم اور پختگی کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 7477]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة