صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب لا يرجم المجنون والمجنونة:
باب: پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6815
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى رَدَّدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ؟"
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6815]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی، پھر اس نے یہ بات چار دفعہ دہرائی، جب اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور دریافت فرمایا: ”کیا تو دیوانہ ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6815]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5270
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ: هَلْ بِكَ جُنُونٌ؟ هَلْ أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أُدْرِكَ بِالْحَرَّةِ، فَقُتِلَ".
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے (اور زنا کا اقرار کیا) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 5270]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے کہا کہ ”اس نے بد کاری کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا تو وہ بھی اس طرف پھر گیا جدھر آپ نے اپنا چہرہ کیا تھا اور اپنی ذات کے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ ”اس نے زنا کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم پاگل تو نہیں ہو، کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے عید گاہ میں رجم کر دیا جائے۔ جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ نکلا، اسے حرہ کے پاس دھر لیا گیا، پھر اسے جان سے مار دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 5270]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5271
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أن أبا هريرة، قَالَ:" أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى يَعْنِي نَفْسَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ، فَقَالَ: هَلْ بِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا ہے لیکن وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف مڑ گیا، جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دوسرے (یعنی خود) نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی منہ موڑ لیا لیکن وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف آ گیا جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا تھا اور یہی عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے منہ موڑ لیا، پھر جب چوتھی مرتبہ وہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور اپنے اوپر اس نے چار مرتبہ (زنا کی) شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور سنگسار کرو کیونکہ وہ شادی شدہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 5271]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آتے ہی آپ کو آواز دی: ”اللہ کے رسول! اس کم بخت نے زنا کیا ہے،“ اس نے خود کو مراد لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا لیکن اس نے بھی رخ ادھر کر لیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تھا۔ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! اس نے زنا کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی منہ موڑ لیا لیکن وہ پھر اس طرف آ گیا جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اعراض فرمایا؛ پھر جب وہ چوتھی مرتبہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور اپنے خلاف چار مرتبہ زنا کی شہادت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تو دیوانہ ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ کیونکہ وہ شادی شدہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 5271]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5272
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ:" كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ".
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جنہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان صحابی کو سنگسار کیا تھا۔ ہم نے مدینہ منورہ کی عیدگاہ پر سنگسار کیا تھا۔ جب ان پر پتھر پڑا تو وہ بھاگنے لگے لیکن ہم نے انہیں حرہ میں پھر پکڑ لیا اور انہیں سنگسار کیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 5272]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے سنگسار کیا تھا۔ ہم نے اسے مدینہ طیبہ کی عید گاہ میں رجم کیا تھا، جب اسے پتھر پڑے تو وہ بھاگ نکلا، لیکن ہم نے اسے حرہ میں دھر لیا اور وہاں سنگسار کیا حتیٰ کہ وہ فوت ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 5272]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے زنا کیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے زنا کا چار مرتبہ اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا اور انہیں رجم کیا گیا، وہ شادی شدہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6814]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قبیلہ اسلم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے اور اپنے آپ پر چار شہادتیں پیش کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق رجم کا حکم دیا، چنانچہ اسے سنگسار کیا گیا جبکہ وہ شادی شدہ تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6820
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أُحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرًا وَصَلَّى عَلَيْهِ" لَمْ يَقُلْ يُونُسُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ:" فَصَلَّى عَلَيْهِ". سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ:" فَصَلَّى عَلَيْهِ يَصِحُّ". قَالَ: رَوَاهُ مَعْمَرٌ، قِيلَ لَهُ رَوَاهُ غَيْرُ مَعْمَرٍ، قَالَ: لَا.
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب (ماعز بن مالک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی جس کے وہ مستحق تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6820]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا حتیٰ کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو دیوانہ ہو گیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے عیدگاہ میں سنگسار کر دیا گیا۔ جب اس پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ نکلا لیکن اسے پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کلمہ خیر کہا اور اس کا جنازہ بھی پڑھا۔ یونس اور ابن جریج نے امام زہری رحمہ اللہ سے نماز جنازہ پڑھنے کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) سے پوچھا گیا کہ نماز جنازہ پڑھنے کے الفاظ ثابت ہیں یا نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”معمر نے انہیں بیان کیا ہے۔“ پھر ان سے پوچھا گیا: معمر کے علاوہ کسی دوسرے راوی نے بھی ان الفاظ کو بیان کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6820]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6824
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَنِكْتَهَا" لَا يَكْنِي، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے کہا کہ میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تو نے بوسہ دیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کر لی ہے؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6824]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”شاید تو نے بوسہ لیا ہوگا، یا اشارہ کیا ہوگا، یا نظر بازی کی ہوگی؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تو نے اس سے جماع کیا ہے؟“ آپ نے اس مرتبہ اشارے یا کنائے سے کام نہیں لیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6826
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ جنہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی تھی انہوں نے مجھے خبر دی کہ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا تھا جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگنے لگے۔ لیکن ہم نے انہیں حرہ (حرہ مدینہ کی پتھریلی زمین) میں جا لیا اور انہیں رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے سنگسار کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں رجم کیا۔ جب اس پر پتھروں کی بارش ہوئی تو بھاگ کھڑا ہوا، لیکن ہم نے اسے مدینہ منورہ کی پتھریلی زمین میں جا لیا اور وہیں اس کو سنگسار کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7167
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعًا، قَالَ:أَبِكَ جُنُونٌ، قَالَ: لَا، قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن جب اس نے اپنے ہی خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 7167]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: ”اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا لیکن جب اس نے اپنی ذات کے خلاف چار مرتبہ اقرار کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پاگل ہو؟“ اس نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 7167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة