🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في صفات الجنة واهلها وتسبيحهم فيها بكرة وعشيا:
باب: جنت اور اہل جنت کی صفات اور ان کی صبح و شام کی تسبیحات کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7147
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ؟، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ "،
اسماعیل بن علیہ نے کہا: ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے خبر دی کہ (حصول علم کے لیے جمع ہونے والے مردوں اور عورتوں نے) باہمی اظہار، تفاخر یا علمی مذاکرہ کرتے ہوئے (اس موضوع پر) بات کی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تھا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7147]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، لوگوں نے فخر و مباہات کے لیے کہا، یا باہمی مباحثہ کیا کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جنت میں داخل ہونے والا یہ پہلا گروہ اس کی صورت چودہویں کے ماہِ کامل کی سی ہوگی اور جو گروہ اس کے بعد ہوگا وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن اور جگمگاتے ستارے کی طرح ہوگی، ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز، گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا اور جنت میں کوئی انسان کنوارا نہیں رہے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7148
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ، فَسَأَلُوا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: اخْتَصَمَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
سفیان نے ایوب سے اور انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: مردوں اور عورتوں میں بحث ہو گئی کہ ان میں سے جنت میں زیادہ کون ہوگا؟ پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7148]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کا جھگڑا ہوا کہ جنت میں کس کی تعداد زیادہ ہو گی، چنانچہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7149
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ ".
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، الفاظ قتیبہ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی۔ جو ان کے (فوراً) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے، انھیں پیشاب کی حاجت ہو گی نہ پاخانے کی، نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، پسینہ کستوری کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں معطر عود (سلگتا) ہو گا، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی، ان سب کے اخلاق و عادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر، (قامت میں) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7150
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا "، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ، وقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہو گا، جو ان کے بعد ہوں گے وہ آسمان میں انتہائی چمکدار ستارے کی طرح ہوں گے، پھر وہ تدریجاً اپنے اپنے مرتبے کے مطابق ہوں گے، وہ پاخانہ کریں گے نہ پیشاب، ناک سنکیں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی، انگیٹھیاں معطر عود کی اور پسینہ کستوری کا ہو گا۔ ان سب کے اخلاق ایک ہی آدمی کے (خوبصورت) اخلاق پر ہوں گے، اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی قامت پر ساٹھ ہاتھ (لمبے) ہوں گے۔ ابن ابی شیبہ نے کہا: ایک ہی آدمی کے اخلاق پر، اور ابوکریب نے کہا: ایک ہی آدمی کی خلقت (شکل و صورت قد و قامت) پر ہوں گے۔ اور ابن ابی شیبہ نے کہا: اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی شکل پر ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7150]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہو گا، پھر ان کے بعد آنے والے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے، وہ پاخانہ، پیشاب نہیں کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے، نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگتی ہو گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان کے اخلاق ایک انسان کی طرح یعنی یکساں، ایک جیسے ہوں گے، ان کا قد کاٹھ اپنے باپ آدم کی طرح ساٹھ ہاتھ ہو گا۔ ابن ابی شیبہ کہتے ہیں: ایک آدمی کی طرح «خَلْق» ہو گا اور ابو کریب کہتے ہیں: ایک آدمی کی طرح بناوٹ ہو گی، یعنی جسمانی بناوٹ یکساں ہو گی، ابن ابی شیبہ کہتے ہیں: اپنے باپ کی شکل پر ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7151
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ، وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ مِنَ الْأَلُوَّةِ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ، وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا ".
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلا گروہ جو جنت کے اندر جائے گا، ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوں گی۔ وہ اس (جنت) میں نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، نہ پیشاب پاخانہ کریں گے۔ ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں عود معطر سلگے گا، ان کا پسینہ کستوری کا ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی، فرط حسن سے ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت سے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ ان کے درمیان نہ کوئی اختلاف ہو گا نہ باہمی بغض ہو گا۔ ان سب کے دل ایک دل (کی طرح) ہوں گے۔ وہ صبح و شام اپنے اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7151]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا، اس کی صورت چودہویں رات کے چاند کی صورت ہو گی، نہ وہ اس میں تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے، نہ رفعِ حاجت کریں گے، ان کے برتن اور کنگھیاں سونے چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں عود کی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا اور ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی، حسن و جمال کی بنا پر ان کی پنڈلیوں کا مغز، ان کے گوشت کے اندر سے نظر آئے گا، ان میں کسی قسم کا اختلاف اور باہمی بغض نہ ہو گا، سب کے دل ایک دل جیسے ہوں گے، وہ صبح و شام یعنی ہر دم اللہ کی تسبیح بیان کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں