سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب رفع اليدين في الاستسقاء
باب: نماز استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1175
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ بِحِذَاءِ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا" وَسَاقَ نَحْوَهُ.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی «اللهم اسقنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما“ اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1175]
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا اور حدیثِ عبدالعزیز (یعنی سابقہ حدیث) کی مانند ذکر کیا اور (اس میں اضافہ بیان کرتے ہوئے) کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے کے برابر اٹھائے اور دعا فرمانے لگے «اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب کر“ اور اسی کے مثل حدیث بیان کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 9 (1016)، 10 (1017)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (897)، سنن النسائی/الاستسقاء 1 (1505)، (تحفة الأشراف: 906) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1013) صحيح مسلم (897)
حدیث نمبر: 1168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَعُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى بَنِي آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنْ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ".
عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1168]
سیدنا عمیر مولیٰ بنی آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام زوراء کے قریب ”احجار زیت“ کے پاس بارش کی دعا کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کے سامنے ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے، مگر ہاتھ سر سے اونچے نہ تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10900)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة 43 (557)، مسند احمد (5/223) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1504)
عبد الله بن وھب صرح بالسماع عند أحمد (5/223) وللحديث طرق أخريٰ عند الحاكم (1/327، 535، 3/623) وغيره
مشكوة المصابيح (1504)
عبد الله بن وھب صرح بالسماع عند أحمد (5/223) وللحديث طرق أخريٰ عند الحاكم (1/327، 535، 3/623) وغيره
حدیث نمبر: 1170
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا کے علاوہ کسی دعا میں (اتنا) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے (اس موقعہ پر) آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1170]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”کسی دعا میں اپنے ہاتھ اتنے بلند نہ کرتے تھے جتنے کہ استسقاء میں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستسقاء 22 (1031)، والمناقب 23 (3565)، والدعوات 23 (6341)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، سنن النسائی/الاستسقاء 9 (1512)، وقیام اللیل 52 (1749)، سنن ابن ماجہ/إقامة 118 (1180)، (تحفة الأشراف: 1168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/181، 282)، سنن الدارمی/الصلاة 189 (1543) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کے معارض ہے جن سے استسقا کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے (رفع بلیغ) کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ ہاتھ اتنا اونچا نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقا میں اٹھاتے تھے «حتى رأيت بياض إبطيه» کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3565) صحيح مسلم (896)
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَسْقِي هَكَذَا، يَعْنِي، وَمَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ بُطُونَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1171]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے لیے اس طرح دعا کرتے تھے، اور انہوں نے ہاتھ لمبے کر کے دکھائے اور ہتھیلیوں کو زمین کی طرف کیا، (اور اتنے بلند کیے کہ) میں نے ان کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (896)، (تحفة الأشراف: 323)، وقد أخرجہ: (3/153، 241) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (896)