🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب القراءة في صلاة الكسوف
باب: نماز کسوف کی قرآت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَذَا عِنْدَ الْقَاضِي، وَالصَّوَابُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا بِنَحْوٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1189]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کے قریب لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا۔ اور باقی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الصلاة 51 (431)، الکسوف 9 (1052)، صحیح مسلم/الکسوف 3 (907)، سنن النسائی/الکسوف 17 (1494)، (تحفة الأشراف: 5977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/298، 358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1052) صحيح مسلم (907)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ /a>، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ، فَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع کی اور لمبی قراءت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، پھر اپنا سر اٹھایا اور کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور کھڑے رہے اور قراءت کی، لمبی قراءت، جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، مگر پہلے رکوع سے کم۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، والعمل في الصلاة 11 (1212)، وبدء الخلق 4 (3199)، صحیح مسلم/ الکسوف 1 (901)، سنن النسائی/ الکسوف 11 (1476)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الصلاة 279 (الجمعة 44) (561)، موطا امام مالک/صلاة الکسوف 1 (1)، مسند احمد (6/76، 78، 164، 168)، سنن الدارمی/ الصلاة 187 (1568) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1046) صحيح مسلم (901)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1187
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، كُلُّهُمْ قَدْ حَدَّثَنِي، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ آلِ عِمْرَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورۃ البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورۃ آل عمران کی قرآت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1187]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گہنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ لگایا تو محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ تلاوت فرمائی ہے اور حدیث بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ لگایا تو میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران تلاوت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16345، 16352، 17185)، وقد أخرجہ: (حم 6/32) (حسن) صححه الحاكم (1/ 333)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث الآتي (1191)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، فَجَهَرَ بِهَا"، يَعْنِي فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1188]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قراءت کی اور اونچی آواز سے۔ یعنی نماز کسوف میں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16517) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کسوف (گرہن) کی نماز میں قرات جہری ہونی چاہئے، یہی جمہور محدثین کا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله عند البخاري (1066) ومسلم (901)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز (کسوف) جماعت سے ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1190]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سورج گہنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اعلان کیا: «اَلصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» یعنی نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکسوف (1065)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن النسائی/الکسوف 18 (1495)، 21 (1498) (تحفة الأشراف: 16528) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1066) صحيح مسلم (901)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1193]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعتیں پڑھنے لگے اور سورج کے متعلق بھی دریافت فرماتے جاتے تھے حتیٰ کہ وہ صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکسوف 16 (1486)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 152 (1262)، (تحفة الأشراف: 11631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 269، 271، 277) (منکر)» ‏‏‏‏ (دیکھئے حدیث نمبر: 1185)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
نسائي (1486) ابن ماجه (1262)
قال البيهقي : ’’ ھذا مرسل،أبو قلابة لم يسمع من النعمان بن بشير،إنما رواه عن رجل عن النعمان‘‘ (3/ 333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ: أُفْ أُفْ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ"، فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر اخیر سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور اف اف کہا: پھر فرمایا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہو گیا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1194]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا، (اتنا لمبا قیام کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع نہیں کریں گے۔ پھر رکوع کیا، (اتنا لمبا رکوع کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر سر اٹھایا، (اتنا لمبا قیام کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا، (اتنا لمبا سجدہ کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر سر اٹھایا اور (اتنی دیر بیٹھے رہے کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا (اتنا لمبا سجدہ کیا کہ) لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر نہیں اٹھائیں گے، پھر سر اٹھایا اور دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔ اور آخری سجدے میں زور زور سے سانس لینے لگے اور «أُفٍّ أُفٍّ» اف، اف کی آواز نکالی اور کہا: «رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ؟ رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ؟» اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ جب تک میں ان میں موجود ہوں ان کو عذاب نہیں دے گا ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ﴾ [سورة الأنفال: 33] ، کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان کو عذاب نہ دے گا ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] ۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکسوف 14 (1483)، 20 (1497)، سنن الترمذی/الشمائل 44 (307)، (تحفة الأشراف: 8639)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف 3 (1045)، 8 (1058)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (910)، مسند احمد (2/175) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ہر رکعت میں دو رکوع کے ذکر کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن بذكر الركوع مرتين كما في الصحيحين
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1195
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفُ الشَّمْسِ الْيَوْمَ؟ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُو رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُحَمِّدُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا، اس وقت آپ نے (نماز کسوف کی دونوں رکعتوں) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1195]
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دورِ رسالت کی بات ہے، میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ سورج گرہن لگ گیا تو میں نے تیر پھینک دیے اور کہا: میں بالضرور دیکھوں گا کہ آج سورج گرہن والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھائے تسبیح، تحمید اور تہلیل میں مشغول دعا کر رہے تھے حتیٰ کہ سورج صاف ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں میں دو سورتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الکسوف 5 (913)، سنن النسائی/ السکوف 2 (1461)، (تحفة الأشراف: 9696)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 61، 62) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (913)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں