🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. باب على ما يقاتل المشركون
باب: کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَأَنْ يَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2641]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اور وہ ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں، لوگ جب یہ سب کچھ کریں تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہوں گے الا یہ کہ اس (کلمہ توحید و اسلام) کا کوئی حق ہو۔ ان کے حقوق وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان کے فرائض بھی وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 28 (392)، سنن الترمذی/الایمان 2 (2608)، سنن النسائی/تحریم الدم 1 (3972)، والإیمان 15 (5006)، (تحفة الأشراف: 706)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/199،224) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح خ نحوه دون قوله لهم ما ... إلا تعليقا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. قَالَ أبُو دَاوُدَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى: الْعِقَالُ صَدَقَةُ سَنَةٍ، وَالْعِقَالانِ صَدَقَةُ سَنَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عِقَالًا. وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ: عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا. وَرَوَى عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عَنَاقًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے جن کو کافر ۱؎ ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں، لہٰذا جس نے «لا إله إلا الله» کہا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی سوائے حق اسلام کے ۲؎ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق ۳؎ کرے گا، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، یہ لوگ جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی نہیں دی تو میں ان سے جنگ کروں گا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت میں نے جانا کہ یہی حق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث رباح بن زید نے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے زہری سے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں بعض نے «عناقا» کی جگہ «عقالا» کہا ہے اور ابن وہب نے اسے یونس سے روایت کیا ہے اس میں «عناقا» کا لفظ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے اس حدیث میں زہری سے «لو منعوني عناقا» نقل کیا ہے اور عنبسہ نے یونس سے انہوں نے زہری سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ اس میں بھی «عناقا» کا لفظ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 1556]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور قبائل عرب میں سے جنہوں نے کفر اختیار کرنا تھا، انہوں نے کفر اختیار کر لیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کس بنا پر قتال (جنگ) کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہیں۔ تو جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ہو، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: قسم اللہ کی! میں ہر اس شخص سے لازماً جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا (شرعی) حق ہے۔ قسم اللہ کی! اگر ان لوگوں نے مجھ سے وہ رسی بھی روک لی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے تو میں اس کے روک لینے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے اور بالآخر میری سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی کہ یہی بات حق ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث رباح بن زید اور عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے زہری سے اسی کی سند سے روایت کی ہے۔ بعض نے «عِقَالًا» رسی کا لفظ بیان کیا ہے، جبکہ ابن وہب نے یونس سے «عَنَاقًا» بکری کا بچہ روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے بھی زہری سے اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے (کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا): «لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا» اگر ان لوگوں نے مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک لیا تو۔۔۔ ایسے ہی عنبسہ نے یونس سے، انہوں نے زہری سے لفظ «عَنَاقًا» بکری کا بچہ روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 1556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 1(1399)، 40 (1456)، المرتدین 3 (6924)، الاعتصام 2 (7284)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن الترمذی/الإیمان 1 (2607)، سنن النسائی/الزکاة 3 (2445)، الجہاد 1 (3094)، المحاربة 1 (3975، 3976، 3978، 3980)، (تحفة الأشراف: 10666)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 1 (3927)، مسند احمد (2/528) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان کا تعلق قبیلہ غطفان اور بنی سلیم کے لوگوں سے تھا جنہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کیا تھا۔
۲؎: مثلا اگر وہ کسی مسلمان کوقتل کر دے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا۔
۳؎: یعنی وہ نماز تو پڑھے لیکن زکاۃ کا انکار کرے ایسی صورت میں وہ (ارتداد کی بنا پر) واجب القتل ہو جاتا ہے کیونکہ اصول اسلام میں سے کسی ایک اصل کا انکار کل کا انکار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق لكن قوله ع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7284، 7285) صحيح مسلم (20)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2640]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں سے قتال کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کا اقرار کر لیں، جب وہ اس کا اقرار کر لیں، تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے، سوائے اس کے کہ اس اقرار (اسلام) کا کوئی حق ہو اور (دلی معاملات میں) ان کا حساب اللہ پر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الإیمان 1(2606)، سنن النسائی/المحاربة 1 (3981)، سنن ابن ماجہ/الفتن (3927)، (تحفة الأشراف: 12506)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 102 (2946)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (2610)، مسند احمد (2/ 314، 377، 423، 439، 475، 482، 502) (صحیح متواتر)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (21)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ بِمَعْنَاهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2642]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مشرکین سے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 789)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة 28 (393 تعلیقًا) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2641)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں