سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : كيف صلاة الليل
باب: تہجد کی نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 1667
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى" , قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1667]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن اور رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے نزدیک یہ حدیث خطا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 302 (1295)، سنن الترمذی/الصلاة 301 (الجمعة 65) (597)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، مسند احمد 2/26، 51، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل دن ہو یا رات دو دو کر کے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ ۲؎: اس سے ان کی مراد «والنہار» کی زیادتی میں غلطی ہے، کچھ لوگوں نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی سلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1668
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1668]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کا طریقہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو کرکے پڑھتے جاؤ، جب تجھے صبح کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 84 (473)، الوتر 1 (990، 991، 993)، التھجد 10 (1137)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، سنن الترمذی/الصلاة 207 (437)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 7099)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (13)، مسند احمد 2/30، 113، 141 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ سب وتر یعنی طاق ہو جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1669
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1669]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تجھے صبح کے طلوع ہونے کا خطرہ ہو تو (صبح طلوع ہونے سے پہلے) ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6930) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1670
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے منبر پر فرماتے سنا: آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1670]
حضرت ابوسلمہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا جبکہ آپ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ (آپ نے فرمایا:) ”دو دو کر کے پڑھو۔ جب صبح کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 8585)، مسند احمد 3/10، 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:-
حدیث نمبر: 1671
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1671]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو کر کے پڑھی جائے۔ جب کسی کو صبح کے طلوع ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7646) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1672
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1672]
حضرت نافع رحمہ اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تجھے صبح کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 207 (437)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1319)، (تحفة الأشراف: 8288)، مسند احمد 2/119 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1673
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1673]
حضرت سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت پڑھی جائے۔ جب تجھے صبح کے طلوع کا قرب محسوس ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 10 (1137)، (تحفة الأشراف: 6843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قال: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1674]
حضرت حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تجھے صبح طلوع ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، (تحفة الأشراف: 6710)، مسند احمد 2/134 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1675
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: قَامَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1675]
حضرت سالم اور حمید رحمہما اللہ دونوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ ایک آدمی نے اٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز (پڑھنے کا طریقہ) کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو کر کے پڑھو، جب صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1674 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1692
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَفَّانَ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1692]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدوی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعت کر کے پڑھتے جاؤ اور آخرِ رات میں ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 338 (1421)، (تحفة الأشراف: 7267)، مسند احمد 2/40، 58، 71، 76، 79، 100 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1693
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو (طاق) کر دے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1693]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھو۔ جب تمہارا ارادہ نماز ختم کرنے کا ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ یہ رکعت تمہاری پڑھی ہوئی پوری نماز کو وتر بنا دے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 1 (993)، (تحفة الأشراف: 7374) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1694
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر ایک رکعت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1694]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر (آخر میں) ایک رکعت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7657) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1695
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر (طاق) کر دے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1695]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تم میں سے کسی کو صبح کے طلوع ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔ یہ اس کی ساری نماز کو وتر بنا دے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 1 (990)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، (تحفة الأشراف: 7225)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (13) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1696
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَنَافِعٌ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتُمُ الصُّبْحَ فَأَوْتِرُوا بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1696]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تمہیں طلوعِ صبح کا خطرہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1670 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن