🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب : ركوب البدنة
باب: ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2801
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ" , فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے (پھر) فرمایا: سوار ہو جاؤ، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے «ويلك» تمہارا برا ہو ۱؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2801]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا تھا (اور خود پیچھے پیدل چل رہا تھا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار ہو جا، تجھ پر افسوس! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 103 (1689)، 112 (1706)، الوصایا 12 (2755)، الأدب 95 (6160)، صحیح مسلم/الحج 65 (1322)، سنن ابی داود/الحج 18 (1760)، (تحفة الأشراف: 13081)، موطا امام مالک/الحج 45 (139)، مسند احمد (2/254، 278، 312، 464، 474، 481، 487، 505) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے یہاں بدعا مقصود نہیں بلکہ زجر و توبیخ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2802
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ اپنے ساتھ ہانکے لیے جا رہا ہے، آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے (پھر) فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا: سوار ہو جاؤ تیرا برا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2802]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پیدل ایک اونٹ کو ہانکتا لے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سوار ہو جا۔ اس نے پھر کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی دفعہ فرمایا: اس پر سوار ہو جا۔ تجھ پر افسوس! [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1219)، مسند احمد (3/170)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج103 (1690)، الوصایا 12 (2754)، الأدب 95 (6159)، صحیح مسلم/الحج 65 (1323)، مسند احمد (3/99، 170، 173، 202، 231، 243، 275، 276، 291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً وَقَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ، قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کا جانور ہانک کر لے جا رہا تھا۔ وہ بے چارہ بڑی مشقت سے چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹ پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار ہو جا اگرچہ یہ قربانی کا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 396) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج 65 (1323)، مسند احمد (3/99، 106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2804]
حضرت ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ میرے سامنے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اس پر اچھے طریقے سے سواری کر، جب تجھے ضرورت پیش آئے حتیٰ کہ تجھے سواری مل جائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج65 (1324)، سنن ابی داود/المناسک 18 (1761)، (تحفة الأشراف: 2808)، مسند احمد (3/317، 324، 325، 348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3845
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ , فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" لِتَمْشِ , وَلْتَرْكَبْ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر (بھی) جائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3845]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کروں، چنانچہ میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 27 (1866)، صحیح مسلم/ال نذر 4 (1644)، سنن ابی داود/الأیمان 23 (3299)، (تحفة الأشراف: 9957)، مسند احمد (4/147، 152، 201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3883
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟". قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ. قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3883]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا ہے جسے دو شخصوں کے سہارے چلایا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کیوں؟ لوگوں نے کہا: حضور! اس نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ تک چل کر جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت کہ یہ شخص اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے؟ اسے کہو سوار ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزء الصید 27 (1865)، الأیمان 31 (6701)، صحیح مسلم/النذور 4 (1642)، سنن ابی داود/الأیمان 23 (3301)، سنن الترمذی/الأیمان 9 (1537)، (تحفة الأشراف: 392)، مسند احمد (3/106، 114، 183، 183، 235، 271) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ جاہل صوفیوں نے جو نئی نئی قسم کے پر مشقت افعال یہ سمجھ کر ایجاد کر رکھے ہیں کہ ان سے تزکیہ نفوس حاصل ہوتا ہے حالانکہ شریعت سے ان کا ذرہ برابر تعلق نہیں، یہ احکام شریعت سے ان کی جہالت و ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے صاف صاف طور پر بیان نہ کر دیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3884
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ هَذَا؟". قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ. قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ , مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ". فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا: اس نے (کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چنانچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3884]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بزرگ آدمی کے پاس سے گزرے جسے دو آدمی سہارا دے کر چلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اسے کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ یہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے۔ اسے کہو سوار ہو جائے۔ تو مخاطب نے اسے سوار ہونے کو کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3885
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ هَذَا؟". فَقِيلَ: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا"، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3885]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسے شخص پر سے ہوا جسے اس کے دو بیٹے پکڑ کر سہارے سے چلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اسے کیا ہوا؟ کہا گیا: اس نے کعبہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں کہ یہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے۔ چنانچہ آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں