الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
Chapters on Medicine
9. باب مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ
9. باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2048
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن خير ما تداويتم به: اللدود، والسعوط، والحجامة، والمشي، وخير ما اكتحلتم به: الإثمد، فإنه يجلو البصر وينبت الشعر "، قال: وكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم مكحلة يكتحل بها عند النوم ثلاثا في كل عين، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب 75، وهو حديث عباد بن منصور.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: اللَّدُودُ، وَالسَّعُوطُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ، وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ: الْإِثْمِدُ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ "، قَالَ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 75، وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی (نظر) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

تخریج الحدیث: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا فقرة الاكتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499)

قال الشيخ زبير على زئي: (2047،2048) إسناده ضعيف
عباد بن منصور: ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
حدیث نمبر: 2020
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا ابو كريب، وحدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: علمني شيئا ولا تكثر علي لعلي اعيه، قال: " لا تغضب " فردد ذلك مرارا، كل ذلك يقول: " لا تغضب "، قال ابو عيسى: وفي الباب عن ابي سعيد، وسليمان بن صرد، وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه، وابو حصين اسمه عثمان بن عاصم الاسدي.حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلِّمْنِي شَيْئًا وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعِيهِ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ " فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: " لَا تَغْضَبْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیادہ نہ بتائیے تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں، آپ نے فرمایا: غصہ مت کرو، وہ کئی بار یہی سوال دہراتا رہا اور آپ ہر بار کہتے رہے غصہ مت کرو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوسعید اور سلیمان بن صرد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الأدب 76 (6116) (تحفة الأشراف: 12846)، و مسند احمد (2/362، 466) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: غصہ کی صفت سے کوئی انسان خالی نہیں ہے، لیکن غصہ پر قابو پا لینا سب سے بڑی نیکی اور انسان کی سب سے کامل عادت ہے، نصیحت مخاطب کے مزاج و طبیعت کا خیال کرتے ہوئے اس کے حالات کے مطابق ہونی چاہیئے، چنانچہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے متعدد بار سوال کرنے کے باوجود اس کے حالات کے مطابق ایک ہی جواب دیا یعنی غصہ مت کرو۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2047
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا محمد بن مدويه، حدثنا عبد الرحمن بن حماد الشعيثي، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن خير ما تداويتم به: السعوط، واللدود، والحجامة، والمشي "، فلما اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم لده اصحابه، فلما فرغوا، قال: لدوهم، قال: فلدوا كلهم غير العباس ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ "، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ أَصْحَابُهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: لُدُّوهُمْ، قَالَ: فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» (ناک میں ڈالنے والی دوا)، «لدود» (منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا)، «حجامة» (پچھنا لگانا حجامہ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم 1757 (لم یذکرہ المزي بھذا اللفظ، وإنما ذکرہ بلفظ ما مضی برقم 1757 (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4473 / التحقيق الثاني)

قال الشيخ زبير على زئي: (2047،2048) إسناده ضعيف
عباد بن منصور: ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
حدیث نمبر: 2053
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا النضر بن شميل، حدثنا عباد بن منصور، قال: سمعت عكرمة، يقول: كان لابن عباس غلمة ثلاثة حجامون، فكان اثنان منهم يغلان عليه وعلى اهله، وواحد يحجمه ويحجم اهله، قال: وقال ابن عباس: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: " نعم العبد الحجام، يذهب الدم ويخف الصلب، ويجلو عن البصر ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقال: وقال: " إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين عرج به ما مر على ملإ من الملائكة إلا قالوا: عليك بالحجامة ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقال: " إن خير ما تحتجمون فيه: يوم سبع عشرة، ويوم تسع عشرة، ويوم إحدى وعشرين ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقال: " إن خير ما تداويتم به: السعوط، واللدود، والحجامة، والمشي ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لده العباس واصحابه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من لدني؟ فكلهم امسكوا، فقال: لا يبقى احد ممن في البيت إلا لد غير عمه العباس، قال عبد: قال: النضر اللدود الوجور، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب، لا نعرفه إلا من حديث عباد بن منصور، وفي الباب عن عائشة.حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: كَانَ لِابْنِ عَبَّاسٍ غِلْمَةٌ ثَلَاثَةٌ حَجَّامُونَ، فَكَانَ اثْنَانِ مِنْهُمْ يُغِلَّانِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ، وَوَاحِدٌ يَحْجُمُهُ وَيَحْجُمُ أَهْلَهُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ، يُذْهِبُ الدَّمَ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ، وَيَجْلُو عَنِ الْبَصَرِ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: وَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُرِجَ بِهِ مَا مَرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ: يَوْمَ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَيَوْمَ تِسْعَ عَشْرَةَ، وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ الْعَبَّاسُ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَدَّنِي؟ فَكُلُّهُمْ أَمْسَكُوا، فَقَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِمَّنْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ، قَالَ عَبْدٌ: قَالَ: النَّضْرُ اللَّدُودُ الْوَجُورُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ (فاسد) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے (حلق میں ڈالنے کی ایک دوا) ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3478) (تحفة الأشراف: 6138) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)»

قال الشيخ الألباني: (كان لابن عباس..) ضعيف الإسناد، (نعم العبد..) ضعيف، (إن خير ما تحتجمون..) **، (إن خير ما تداويتم..) ضعيف، (لا يبقى ممن ...) صحيح - دون قوله " لده العباس " بل هو منكر لمخالفته لقوله صلى الله عليه وسلم في حديث عائشة نحوه بلفظ " غير (نعم العبد....)، ابن ماجة (3478) // ضعيف سنن ابن ماجة (762)، ضعيف الجامع الصغير (5966) //، (إن خير ما تداويتم.....) مضى (2048)

قال الشيخ زبير على زئي: (2053) إسناده ضعيف / جه 3478
عباد بن منصور: ضعيف (تقدم: 662)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.