الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل
The Book of Menstruation and Istihadah
3. بَابُ : الْمَرْأَةِ يَكُونُ لَهَا أَيَّامٌ مَعْلُومَةٌ تَحِيضُهَا كُلَّ شَهْرٍ
3. باب: جس عورت کے حیض کے ایام معلوم ہوں جس میں اسے ہر ماہ حیض آتا ہو۔
Chapter: A Woman Who Has Regular Days During Which She Menstruates Each Month
حدیث نمبر: 355
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، ان امراة كانت تهراق الدم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم استفتت لها ام سلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" لتنظر عدد الليالي والايام التي كانت تحيض من الشهر قبل ان يصيبها الذي اصابها، فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر، فإذا خلفت ذلك، فلتغتسل ثم لتستثفر بالثوب ثم لتصلي".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِالثَّوْبِ ثُمَّ لِتُصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خون آتا تھا، تو انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ان راتوں اور دنوں کی تعداد شمار کر کے رکھے جن میں اسے اس بیماری سے پہلے جو اسے لاحق ہوئی ہے حیض آتا تھا، اور اسی کے بقدر ہر مہینہ نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 209 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (209) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
حدیث نمبر: 201
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عمران بن يزيد، قال: حدثنا إسماعيل بن عبد الله العدوي، قال: حدثنا الاوزاعي، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، قال: حدثني هشام بن عروة، عن عروة، عن فاطمة بنت قيس من بني اسد قريش، انها اتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت انها تستحاض، فزعمت انه، قال لها:" إنما ذلك عرق، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلى".
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ، قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلَّى".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کے قبیلہ بنو اسد کی خاتون ہیں کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو لو پھر (غسل کر کے) نماز پڑھ لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 108 (280، 281) و 110 (286)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (620)، (تحفة الأشراف: 18019)، مسند احمد 6/420، 463، وأعادہ المؤلف بأرقام: 212، 350، 358، 362، 3583 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 202
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا هشام بن عمار، قال: حدثنا سهل بن هاشم، قال: حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إذا اقبلت الحيضة فاتركي الصلاة، وإذا ادبرت فاغتسلي".
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 116 (626) مطولاً، 28 (331)، (تحفة الأشراف: 16516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض، ویأتي عند المؤلف برقم: 203، 204، 351 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 203
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عمران بن يزيد، قال: حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثنا الاوزاعي، قال: حدثنا الزهري، عن عروة، وعمرة، عن عائشة، قالت: استحيضت ام حبيبة بنت جحش سبع سنين فاشتكت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن هذه ليست بالحيضة، ولكن هذا عرق، فاغتسلي ثم صلي".
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھ لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 26 (327)، صحیح مسلم/فیہ 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 110 (285)، 111 (288)، سنن ابن ماجہ/116 (626)، (تحفة الأشراف: 16516، 17922)، مسند احمد 6/83، 141، 187، سنن الدارمی/الطھارة 80 (795)، ویأتي عند المؤلف برقم: 204، 205، 211، 357 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 204
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود، قال: حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: حدثنا الهيثم بن حميد، قال: اخبرني النعمان، والاوزاعي، وابو معيد وهو حفص بن غيلان، عن الزهري، قال: اخبرني عروة بن الزبير، وعمرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة، قالت: استحيضت ام حبيبة بنت جحش امراة عبد الرحمن بن عوف وهي اخت زينب بنت جحش، فاستفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن هذه ليست بالحيضة ولكن هذا عرق، فإذا ادبرت الحيضة فاغتسلي وصلي، وإذا اقبلت فاتركي لها الصلاة". قالت عائشة: فكانت تغتسل لكل صلاة وتصلي، وكانت تغتسل احيانا في مركن في حجرة اختها زينب وهي عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى ان حمرة الدم لتعلو الماء، وتخرج فتصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فما يمنعها ذلك من الصلاة.
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قال: أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَأَبُو مُعَيْدٍ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَإِذَا أَدْبَرَتِ الْحَيْضَةُ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، وَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاتْرُكِي لَهَا الصَّلَاةَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ أَحْيَانًا فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ وَهِيَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ، وَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا - بنت جحش جو ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں - کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، تو جب حیض بند ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور جب وہ آ جائے تو اس کی وجہ سے نماز ترک کر دو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں ۱؎ اور نماز پڑھتی تھیں، اور کبھی کبھی اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ایک ٹب میں غسل کرتیں، اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی، پھر وہ نکلتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتیں، اور یہ (خون) انہیں نماز سے نہیں روکتا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، ولکن لا یوجد عند مسلم قولہ: ”وتخرج فتصلی۔۔۔‘‘ (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے لیے ان کا یہ غسل ازراہ احتیاط تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، اور جو یہ آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا تو اسے استحباب پر محمول کیا گیا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله وتخرج فتصلي ...

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 205
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن سلمة، قال: حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة، عن عائشة، ان ام حبيبة ختنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحت عبد الرحمن بن عوف استحيضت سبع سنين، استفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن هذه ليست بالحيضة، ولكن هذا عرق، فاغتسلي وصلي".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی ام حبیبہ کو، جو عبدالرحمٰن بن عوف کے عقد میں تھیں، سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اس سلسلے میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، بلکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 203، (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 206
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة، قالت: استفتت ام حبيبة بنت جحش رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني استحاض، فقال:" إنما ذلك عرق، فاغتسلي وصلي"، فكانت تغتسل لكل صلاة.
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے (اس حالت میں کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 111 (290)، سنن الترمذی/فیہ 96 (129)، (تحفة الأشراف: 16583)، ویأتي عند المؤلف برقم: 352 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 207
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عائشة، ان ام حبيبة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدم، قالت عائشة رضي الله عنها: رايت مركنها ملآن دما، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك، ثم اغتسلي".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (استحاضہ کے) خون کے متعلق پوچھا؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے حیض کا خون جتنے دن تمہیں (پہلے صوم صلاۃ سے) روکے رکھتا تھا، اسی قدر رکی رہو، پھر غسل کرو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطھارة 108 (279)، (تحفة الأشراف: 16370)، مسند احمد 6/222، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 3 برقم: 353 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 209
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، تعني ان امراة كانت تهراق الدم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستفتت لها ام سلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" لتنظر عدد الليالي والايام التي كانت تحيض من الشهر قبل ان يصيبها الذي اصابها، فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر، فإذا خلفت ذلك فلتغتسل، ثم لتستثفر، ثم لتصلي".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَعْنِي أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ، ثُمَّ لِتُصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو کثرت سے خون آتا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مہینہ کے ان دنوں اور راتوں کو شمار کر لے جس میں اس بیماری سے جو اسے لاحق ہوئی ہے پہلے حیض آیا کرتا تھا، پھر ہر مہینہ اسی کے برابر نماز چھوڑ دے، اور جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر لنگوٹ باندھے، پھر نماز پڑھے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 108 (274، 275، 276، 277، 278)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (623)، (تحفة الأشراف: 18158)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (105)، مسند احمد 6/293، 320، 322، سنن الدارمی/الطہارة 84 (807)، ویاتي عند المؤلف في الحیض 3 برقم: 354، 355 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (274) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
حدیث نمبر: 210
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود بن إبراهيم، قال: حدثنا إسحاق بن بكر، قال: حدثني ابي، عن يزيد بن عبد الله، عن ابي بكر بن محمد، عن عمرة، عن عائشة، ان ام حبيبة بنت جحش التي كانت تحت عبد الرحمن بن عوف وانها استحيضت لا تطهر، فذكر شانها لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" إنها ليست بالحيضة، ولكنها ركضة من الرحم، فلتنظر قدر قرئها التي كانت تحيض لها فلتترك الصلاة، ثم تنظر ما بعد ذلك فلتغتسل عند كل صلاة".
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لَا تَطْهُرْ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ، ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں استحاضہ ہو گیا (جس سے) وہ پاک ہی نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، بلکہ وہ رحم میں (شیطان کی طرف سے) ایک ایڑ ہے ۱؎ تو وہ اپنے حیض کی مقدار کو جس میں اسے حیض آتا تھا یاد رکھے، پھر اسی کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 17954)، مسند احمد 6/ 128، مسند احمد 6/ 129، ویأتي عند المؤلف في الحیض 4 رقم: 356 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی وہ رحم میں پیر سے مارتا ہے، تو کوئی رگ پھٹ جاتی ہے جس سے خون نکلتا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 211
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عمرة، عن عائشة، ان ام حبيبة بنت جحش كانت تستحاض سبع سنين، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" ليست بالحيضة، إنما هو عرق، فامرها ان تترك الصلاة قدر اقرائها وحيضتها وتغتسل وتصلي"، فكانت تغتسل عند كل صلاة.
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَحَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ"، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حیض کے (دنوں کے) برابر نماز ترک کر دیں، پھر غسل کریں، اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر الأرقام: 203، 207، (تحفة الأشراف: 17922) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 212
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عيسى بن حماد، قال: حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة، ان فاطمة بنت ابي حبيش حدثت، انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت إليه الدم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق، فانظري إذا اتاك قرؤك فلا تصل، فإذا مر قرؤك فتطهري ثم صلي ما بين القرء إلى القرء، هذا الدليل على ان الاقراء حيض"، قال ابو عبد الرحمن: وقد روى هذا الحديث هشام بن عروة، عن عروة، ولم يذكر فيه ما ذكر المنذر.
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّ، فَإِذَا مَرَّ قُرْؤُكِ فَتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ، هَذَا الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْأَقْرَاءَ حَيْضٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ ایک رگ (کا خون) ہے، تو دیکھتی رہو جب حیض (کا دن) آ جائے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب تمہارے حیض (کے دن) گزر جائیں، اور تم پاک ہو جاؤ، تو پھر دونوں حیض کے درمیان نماز پڑھو ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ حدیث ہشام بن عروہ نے عروہ سے روایت کی ہے ۲؎ انہوں نے اس چیز کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر منذر نے کیا ہے ۳؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 201، (تحفة الأشراف: 18019) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی اس حیض کے ختم ہونے سے لے کر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھو، اور جب دوسرا حیض آ جائے تو چھوڑ دو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ «قروء» سے مراد حیض ہے۔ ۲؎: مصنف نے اس جملہ کو اس بات کی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید میں «قرء» سے مراد حیض ہے، محققین علماء کی رائے ہے کہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے، حیض اور طہر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، خطابی کہتے ہیں کہ «قرء» دراصل اس وقت کو کہتے ہیں جس میں حیض یا طہر لوٹتا ہے، اسی وجہ سے حیض اور طہر دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ۳؎: یعنی ہشام نے عروہ کے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر نہیں کیا ہے، اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حدیث میں انقطاع ہے کیونکہ ہشام نے بیان کیا ہے کہ ان کے والد عروہ نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے واقعہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، ان کی روایت سند اور متن دونوں اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، لیکن بقول امام ابن القیم: عروہ نے فاطمہ سے سنا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (280) ابن ماجه (620) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
حدیث نمبر: 213
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: اخبرنا عبدة، ووكيع، وابو معاوية، قالوا: حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: جاءت فاطمة بنت ابي حبيش إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: إني امراة استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة؟ قال:" لا، إنما ذلك عرق وليس بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي".
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، تو میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو رگ (کا خون) ہے حیض کا خون نہیں، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب بند ہو جائے تو اپنے (جسم اور کپڑے سے) خون دھو لو، اور (غسل کر کے) نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 63 (228)، الحیض 8 (306)، 19 (320)، 24 (325)، صحیح مسلم/الحیض 14 (333)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 93 (125)، سنن ابن ماجہ/فیہ 115 (621)، (تحفة الأشراف: 17070، 17196، 17259)، موطا امام مالک/فیہ 29 (104)، ویأتي عند المؤلف برقم: 359 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 214
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن بشار، قال: حدثنا محمد، قال شعبة: عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، ان امراة مستحاضة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قيل لها:" انه عرق عاند، فامرت ان تؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل لهما غسلا واحدا، وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا واحدا، وتغتسل لصلاة الصبح غسلا واحدا".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال شُعْبَةُ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهَا:" أَنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مستحاضہ عورت سے کہا گیا کہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے جو رکتا نہیں، چنانچہ اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر دیر سے پڑھے اور عصر جلدی پڑھ لے، اور دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب دیر سے پڑھے اور عشاء جلدی پڑھے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 112 (294)، مسند احمد 6/172، سنن الدارمی/الطہارة 84 (803)، (تحفة الأشراف: 17495)، ویاتي عند المؤلف برقم: 360 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 216
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد وهو ابن عمرو بن علقمة بن وقاص، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن فاطمة بنت ابي حبيش، انها كانت تستحاض، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا كان دم الحيض فإنه دم اسود يعرف فامسكي عن الصلاة، فإذا كان الآخر فتوضئي فإنما هو عرق".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ".
فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں استحاضہ آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ سیاہ خون ہوتا ہے، پہچان لیا جاتا ہے، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر لو، کیونکہ وہ ایک رگ (کا خون) ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 110 (286)، (تحفة الأشراف: 16626)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 217، 362 (حسن صحیح)»

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (286) ابن شهاب الزهري مدلس وعنعن. والحديث السابق (201) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
حدیث نمبر: 217
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا ابن ابي عدي هذا من كتابه، اخبرنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي من حفظه، قال: حدثنا محمد بن عمرو، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش كانت تستحاض، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن دم الحيض دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة، وإذا كان الآخر فتوضئي وصلي"، قال ابو عبد الرحمن: قد روى هذا الحديث غير واحد، لم يذكر احد منهم ما ذكره ابن ابي عدي، والله تعالى اعلم.
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ حِفْظِهِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ خون ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو کئی راویوں نے روایت کیا ہے، لیکن جو چیز ابن ابوعدی نے ذکر کی ہے اس کو کسی نے ذکر نہیں کیا، واللہ تعالیٰ اعلم، (یعنی «دم الحیض دم أسود» کا ذکر کسی اور نے اس سند سے نہیں کیا ہے)۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16626)، وأعادہ برقم: 363 (حسن صحیح)»

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (286) ابن شهاب الزهري مدلس وعنعن. والحديث السابق (201) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
حدیث نمبر: 218
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال: حدثنا حماد وهو ابن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: استحيضت فاطمة بنت ابي حبيش، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك اثر الدم وتوضئي، فإنما ذلك عرق وليست بالحيضة"، قيل له: فالغسل؟ قال:" ذلك لا يشك فيه احد". قال ابو عبد الرحمن: لا اعلم احدا ذكر في هذا الحديث وتوضئي غير حماد بن زيد، وقد روى غير واحد، عن هشام، ولم يذكر فيه وتوضئي.
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمِ وَتَوَضَّئِي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ"، قِيلَ لَهُ: فَالْغُسْلُ؟ قَالَ:" ذَلِكَ لَا يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَتَوَضَّئِي غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَتَوَضَّئِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون کا دھبہ دھو لو، اور وضو کر لو، کیونکہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض کا خون نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: غسل؟ (یعنی کیا غسل نہ کرے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کسی کو شک نہیں ہے (یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد تو غسل کرنا ضروری ہے ہی)۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (333)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 115 (621)، (تحفة الأشراف: 16858)، ویأتی عند المؤلف برقم: 364 (صحیح الإسناد)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الأسناد

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 219
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قالت فاطمة بنت ابي حبيش يا رسول الله، لا اطهر، افادع الصلاة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، فإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وصلي".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قالت فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض کا خون نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کے بقدر ایام گزر جائیں تو خون دھو لو، اور (غسل کر کے) نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 8 (306)، سنن ابی داود/فیہ 109 (283)، (تحفة الأشراف: 17149)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتی عند المؤلف برقم: 366 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 220
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا ابو الاشعث، قال: حدثنا خالد بن الحارث، قال: سمعت هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، ان بنت ابي حبيش، قالت: يا رسول الله، إني لا اطهر، افاترك الصلاة؟ قال:" لا، إنما هو عرق"، قال خالد فيما قرات عليه:" وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي".
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ"، قَالَ خَالِدٌ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ:" وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش (فاطمہ بنت ابوحبیش) رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16956)، ویأتی عند المؤلف برقم: 367 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 350
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عمران بن يزيد، قال: حدثنا إسماعيل بن عبد الله وهو ابن سماعة، قال: حدثنا الاوزاعي، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، قال: اخبرني هشام بن عروة، عن عروة، ان فاطمة بنت قيس من بني اسد قريش، انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت انها تستحاض، فزعمت انه قال لها:" إنما ذلك عرق، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغتسلي، واغسلي عنك الدم ثم صلي".
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ قُرَيْشٍ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي، وَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي".
عروۃ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کی شاخ قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور ذکر کیا کہ انہیں استحاضہ آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو تو غسل کر لو، اور اپنے (بدن سے) خون دھو لو پھر نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 201 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 351
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا هشام بن عمار، قال: حدثنا سهل بن هاشم، قال: حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغتسلي".
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو (اور نماز پڑھو)۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 202 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 352
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة، قالت: استفتت ام حبيبة بنت جحش رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني استحاض، فقال:" إن ذلك عرق، فاغتسلي ثم صلي". فكانت تغتسل عند كل صلاة.
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي". فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک رگ ہے، تو تم غسل کر لو پھر نماز پڑھو، چنانچہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 206 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 353
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عائشة، قالت: إن ام حبيبة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدم، فقالت عائشة: رايت مركنها ملآن دما، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك، ثم اغتسلي". اخبرنا به قتيبة مرة اخرى، ولم يذكر فيه جعفر بن ربيعة.
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي". أَخْبَرَنَا بِهِ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق دریافت کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے ٹب کو خون سے بھرا دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم (نماز روزے سے) اتنے دن رکی رہو جس قدر تمہیں تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر لو۔ (امام نسائی فرماتے ہیں) ہمیں قتیبہ نے دوبارہ یہ حدیث بیان کی تو (یزید بن ابی حبیب اور عراک بن مالک کے درمیان) جعفر بن ربیعہ کا ذکر نہیں کیا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 207، 208 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 354
Save to word مکررات اعراب
انبانا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال: حدثنا ابو اسامة، قال: حدثنا عبيد الله بن عمر، قال: اخبرني عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، قالت: سالت امراة النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: إني استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة؟ قال:" لا، ولكن دعي قدر تلك الايام والليالي التي كنت تحيضين فيها، ثم اغتسلي واستثفري وصلي".
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: أَخْبَرَنِي عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ تِلْكَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي وَصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے تو میں پاک نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، البتہ صرف ان دنوں اور راتوں کے بقدر چھوڑ دو جن میں تم حائضہ رہتی ہو، پھر غسل کر لو اور لنگوٹ کس کر نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 209 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (209) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
حدیث نمبر: 356
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود بن إبراهيم، قال: حدثنا إسحاق وهو ابن بكر بن مضر، قال: حدثني ابي، عن يزيد بن عبد الله وهو ابن اسامة بن الهاد، عن ابي بكر وهو ابن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمرة، عن عائشة، قالت: إن ام حبيبة بنت جحش التي كانت تحت عبد الرحمن بن عوف وانها استحيضت لا تطهر، فذكر شانها لرسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" ليست بالحيضة، ولكنها ركضة من الرحم، لتنظر قدر قرئها التي كانت تحيض لها، فلتترك الصلاة ثم تنظر ما بعد ذلك، فلتغتسل عند كل صلاة".
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ لَا تَطْهُرُ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال:" لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، لِتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں کو استحاضہ کا خون آتا تھا، وہ پاک نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رحم میں شیطان کی ایک ایڑ ہے، تو اسے چاہیئے کہ اپنے حیض کو دیکھ لے جس میں وہ حائضہ ہوتی تھی (اور اسی کے بقدر) نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 210 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 357
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا ابو موسى، قال: حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عمرة، عن عائشة، ان ابنة جحش كانت تستحاض سبع سنين، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ليست بالحيضة، إنما هو عرق،" فامرها ان تترك الصلاة قدر اقرائها وحيضتها وتغتسل وتصلي". فكانت تغتسل عند كل صلاة.
أَخْبَرَنَا أَبُو مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَحَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ". فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جحش کی بیٹی (ام حبیبہ) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ تو ایک رگ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز ترک کر دیں، اور غسل کریں اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشرف: 16455، 17922) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 358
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عيسى بن حماد، قال: انبانا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة، ان فاطمة بنت ابي حبيش حدثته، انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فشكت إليه الدم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق، فانظري إذا اتاك قرؤك فلا تصلي، وإذا مر قرؤك فلتطهري ثم صلي ما بين القرء إلى القرء". قال ابو عبد الرحمن: قد روى هذا الحديث هشام بن عروة، عن عروة، ولم يذكر فيه ما ذكر المنذر.
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا مَرَّ قَرْؤُكِ فَلْتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے استحاضہ کے خون کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے، تو تم دیکھتی رہو جب تمہارا حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب تمہارا حیض گزر جائے تو پاکی حاصل کرو (یعنی غسل کرو) پھر اس حیض سے دوسرے حیض کے بیچ نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 212 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، المنذر بن المغيرة: مجهول الحال انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
حدیث نمبر: 359
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا عبدة، ووكيع، وابو معاوية، قالوا: حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: جاءت فاطمة بنت ابي حبيش إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: إني امراة استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة؟ قال:" لا، إنما ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي".
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض آنے لگے تو نماز ترک کر دو اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور (غسل کر کے) نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 213 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 360
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن بشار، قال: حدثنا محمد، قال: حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عائشة، ان امراة مستحاضة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، قيل لها:" إنه عرق عاند، وامرت ان تؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل لهما غسلا واحدا، وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا واحدا، وتغتسل لصلاة الصبح غسلا واحدا".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهَا:" إِنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ، وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مستحاضہ عورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہا گیا کہ یہ ایک نہ بند ہونے والی رگ ہے، اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، عشاء کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 214 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 361
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا سويد بن نصر، قال: حدثنا عبد الله، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم، عن زينب بنت جحش، قالت: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم: إنها مستحاضة، فقال:" تجلس ايام اقرائها ثم تغتسل، وتؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل وتصلي، وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل وتصليهما جميعا، وتغتسل للفجر".
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قالت: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ، فَقَالَ:" تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ".
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ (نماز نہ پڑھو) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے (دونوں کو ایک ساتھ) پڑھو، اور فجر کے لیے (الگ ایک) غسل کرو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 15881) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 362
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن عمرو وهو ابن علقمة بن وقاص، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن فاطمة بنت ابي حبيش، انها كانت تستحاض، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا كان دم الحيض فإنه دم اسود يعرف فامسكي عن الصلاة، وإذا كان الآخر فتوضئي فإنما هو عرق". قال محمد بن المثنى: حدثنا ابن ابي عدي هذا من كتابه.
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ خون ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو تم نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے۔ محمد بن مثنی کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 216 (حسن صحیح)»

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 363
Save to word مکررات اعراب
واخبرنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا ابن ابي عدي من حفظه، قال: حدثنا محمد بن عمرو، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش كانت تستحاض، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن دم الحيض دم اسود يعرف، فإذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة، فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي". قال ابو عبد الرحمن: قد روى هذا الحديث غير واحد، ولم يذكر احد منهم ما ذكر ابن ابي عدي، والله تعالى اعلم.
وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ حِفْظِهِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 217 (حسن صحیح)»

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (217) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
حدیث نمبر: 364
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: استحيضت فاطمة بنت ابي حبيش، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني استحاض فلا اطهر، افادع الصلاة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وتوضئي وصلي، فإنما ذلك عرق وليست بالحيضة، قيل له: فالغسل؟ قال: وذلك لا يشك فيه احد". قال ابو عبد الرحمن: قد روى هذا الحديث غير واحد، عن هشام بن عروة، ولم يذكر فيه وتوضئي غير حماد، والله تعالى اعلم.
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، قِيلَ لَهُ: فَالْغُسْلُ؟ قَالَ: وَذَلِكَ لَا يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَتَوَضَّئِي غَيْرُ حَمَّادٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہوئیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو اور وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ تو بس رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، (راوی سے) پوچھا گیا غسل کرے؟ تو اس نے کہا: اس میں کسی کو شک نہیں ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں «وتوضئي» کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے، «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 218 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک مرتبہ تو غسل ضروری ہے ہی۔

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 365
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا سويد بن نصر، قال: حدثنا عبد الله، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني استحاض فلا اطهر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فامسكي عن الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي".
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، النسائي، (تحفة الأشراف 16975) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 366
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: قالت فاطمة بنت ابي حبيش لرسول الله صلى الله عليه وسلم: لا اطهر افادع الصلاة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وصلي".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: قالت فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب اس کے بقدرگزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 219 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 367
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا ابو الاشعث، قال: حدثنا خالد بن الحارث، قال: سمعت هشاما يحدث، عن ابيه، عن عائشة، ان بنت ابي حبيش، قالت: يا رسول الله، إني لا اطهر، افاترك الصلاة؟ قال:" لا إنما هو عرق، قال خالد: وفيما قرات عليه، وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغسلي عنك الدم، ثم صلي".
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ خَالِدٌ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ (کا خون) ہے، (خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 220 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3583
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عمرو بن منصور، قال: حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: حدثنا الليث، قال: حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة بن الزبير، ان فاطمة ابنة ابي حبيش حدثته، انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت إليه الدم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما ذلك عرق، فانظري إذا اتاك قرؤك، فلا تصلي، فإذا مر قرؤك، فلتطهري، قال: ثم صلي ما بين القرء إلى القرء".
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ فَاطِمَةَ ابْنَةَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ، فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ قُرْؤُكِ، فَلْتَطْهُرِي، قَالَ: ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ".
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی تو آپ نے ان سے کہا: یہ کسی رگ سے آتا ہے (رحم سے نہیں) تم دھیان سے دیکھتی رہو جب تمہیں «قرؤ» یعنی حیض آئے ۱؎ تو نماز نہ پڑھو اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو (نہا دھو کر) پاک ہو جایا کرو اور پھر ایک حیض سے دوسرے حیض کے درمیان نماز پڑھا کرو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 201 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قرؤ» سے حیض مراد لیا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (212) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.