قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۴﴾
کہہ دے شفاعت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لو ٹائے جاؤ گے۔[44]
|
لفظ / روٹ
|
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
|
قُلْ ق و ل |
Say تقول:جھوٹ خود تراشنا پھر اسے کسی دوسرے پر تھوپ دینا۔ مترادفات .خرص، اختلق، افتراء، تقول،
| قَوْل:کوئی بات بےمعنی ہو یا بامعنی ۔ خواہ دل میں ہو یا نظریاتی ہو ۔ مترادفات .قَوْل، حَدِیْث، كَلِمَةٌ،
| سَ ، سَوْفَ:مضارع پر داخل ہو کر اس میں جلدی کا بمعنی پیدا کر دیتے ہیں۔ جیسے «سَيَقُولُ» مترادفات .سَرِعَ، عَجِلَ ، اِسْتَعْجَلَ، بَدَرَ، فَوْر، سَ ، سَوْفَ،
|
|
لِلَّهِ أ ل ه |
To Allah (belongs) |
الشَّفَاعَةُ ش ف ع |
the intercession |
جَمِيعًا ج م ع |
all جَمَعَ:جمع کا لفظ عام ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے لیے اور ظاہری اور معنوی سب صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مترادفات .جَمَعَ، اِجْتَمَعَ، حَشَرَ، خَزَنَ، وَسَقَ ، اِتَّسَقَ، كَفَتَ، لَمَّ، حَصَّلَ، مَثَاَبة،
| اِجْتَمَعَ:اجتمع صرف جانداروں کو اکٹھا کرنے کے لئے۔ مترادفات .جَمَعَ، اِجْتَمَعَ، حَشَرَ، خَزَنَ، وَسَقَ ، اِتَّسَقَ، كَفَتَ، لَمَّ، حَصَّلَ، مَثَاَبة،
| جَمْع :کسی بھی موقع پر جمع شدہ لوگ۔ مترادفات .جَمْع ،
|
|
لَهُ
|
For Him |
مُلْكُ م ل ك |
(is the) dominion مَلْك:کسی چیز میں تصرف کرنے کا اختیار۔ مترادفات .خِيَرَة، مَلْك، وَلَايَة، اَمْكَنَ،
| مُلْك، مَلَكُوْت:اور جب رقبہ کی وسعت کا اظہار مقصود ہو تو «مُلُك» کا لفظ آئے گا۔ مترادفات .مُلْك، مَلَكُوْت، سُلْطَان،
|
|
السَّمَاوَاتِ س م و |
(of) the heavens سماء:سماء سے مراد محض بلندی بھی ہے اور وہ مخصوص اجسام بھی جن کا قرآن و احادیث میں ذکر ہے۔ مترادفات .سماء، فلك،
|
|
وَالْأَرْضِ أ ر ض |
and the earth |
ثُمَّ
|
Then |
إِلَيْهِ
|
to Him |
تُرْجَعُونَ ر ج ع |
you will be returned |