🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ كَانُوا کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر
لفظ
آیت
161
كَانُوا
وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَكَانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْئُولًا [33-الأحزاب:15]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور ہوگی

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کر چکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھریں گے۔ اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اُس کی) ضرور پرسش ہوگی

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔
162
كَانُوا
يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا وَإِنْ يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُمْ بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنْبَائِكُمْ وَلَوْ كَانُوا فِيكُمْ مَا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا [33-الأحزاب:20]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(خوف کے سبب) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں۔ اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں جا رہیں (اور) تمہاری خبر پوچھا کریں۔ اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہ لشکروں کو سمجھتے ہیں کہ نہیں گئے اور اگر لشکر آجائیں تو وہ پسند کریں گے کاش! واقعی وہ بدویوں میں باہر نکلے ہوئے ہوتے، تمھاری خبریں پوچھتے رہتے اور اگر وہ تم میں موجود ہوتے تو نہ لڑتے مگر بہت کم۔
163
كَانُوا
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ [34-سبأ:14]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے گھن کے کیڑے کے جو ان کی عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وه غیب دان ہوتے تو اس کے ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پھر جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ کیا تو انھیں اس کی موت کا پتا نہیں دیا مگر زمین کے کیڑے (دیمک) نے جو اس کی لاٹھی کھاتا رہا، پھر جب وہ گرا تو جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلیل کرنے والے عذاب میں نہ رہتے۔
164
كَانُوا
وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [34-سبأ:33]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
(اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور وہ لوگ جو کمزور سمجھے گئے، ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے، کہیں گے بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چال بازی نے (ہمیں روکا) جب تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے لیے شریک ٹھہرائیں۔ اور وہ ندامت کو چھپائیں گے جب عذاب دیکھیں گے اورہم ان لوگوں کی گردنوں میں جنھوں نے کفر کیا، طوق ڈال دیں گے۔ انھیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کا جو وہ کیا کرتے تھے۔
165
كَانُوا
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ [34-سبأ:40]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟
166
كَانُوا
قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ [34-سبأ:41]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے۔
167
كَانُوا
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ [34-سبأ:54]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جن کی وہ خواہش کریں گے، رکاوٹ ڈال دی جائے گی، جیسا کہ اس سے پہلے ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔ یقینا وہ ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جوبے چین رکھنے والا تھا۔
168
كَانُوا
يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ [36-يس:30]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
(ایسے) بندوں پر افسوس! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
ہائے افسوس ان بندوں پر! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا رہا مگر وہ اس کے ساتھ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔
169
كَانُوا
وَمَا تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ [36-يس:46]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ان کے پاس تو ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے یہ بے رخی نہ برتتے ہوں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں۔
170
كَانُوا
الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ [36-يس:65]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے تھے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔