قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ
الْحَقَّ
کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر |
لفظ |
آیت |
11 |
الْحَقَّ |
لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ [8-الأنفال:8]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تاکہ وہ حق کو سچا کر دے اور باطل کو جھوٹا کر دے، خواہ مجرم ناپسند ہی کریں۔
|
12 |
الْحَقَّ |
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ [8-الأنفال:32]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب انھوں نے کہا اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔
|
13 |
الْحَقَّ |
وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ [10-يونس:82]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دیتاہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں۔
|
14 |
الْحَقَّ |
أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ [13-الرعد:17]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہہ نکلے۔ پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھے جھاگ کو اٹھا لیا، اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا ساز وسامان کے لئے اسی طرح کے جھاگ ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے، اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ (ابھرتا) ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے سو بے کار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔
|
15 |
الْحَقَّ |
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنْذِرُوا هُزُوًا [18-الكهف:56]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم تو اپنے رسولوں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وه خوشخبریاں سنا دیں اور ڈرا دیں۔ کافر لوگ باطل کے سہارے جھگڑتے ہیں اور (چاہتے ہیں کہ) اس سے حق کو لڑکھڑادیں، انہوں نے میری آیتوں کو اور جس چیز سے ڈرایا جائے اسے مذاق بنا ڈاﻻ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، باطل کو لے کر جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ساتھ حق کو پھسلا دیں اور انھوں نے میری آیات کو اور ان چیزوں کو جن سے انھیں ڈرایا گیا، مذاق بنا لیا۔
|
16 |
الْحَقَّ |
أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُمْ مُعْرِضُونَ [21-الأنبياء:24]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، ان سے کہہ دو ﻻؤ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ ہے میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے اگلوں کی دلیل۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اسی وجہ سے منھ موڑے ہوئے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یا انھوں نے اس کے سوا کوئی معبود بنا لیے ہیں؟ کہہ دے لائو اپنی دلیل۔ یہی ان کی نصیحت ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کی نصیحت بھی جو مجھ سے پہلے تھے، بلکہ ان کے اکثر حق کو نہیں جانتے، سو وہ منہ پھیرنے والے ہیں۔
|
17 |
الْحَقَّ |
يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ [24-النور:25]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی) ﻇاہر کرنے واﻻ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلہ پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔
|
18 |
الْحَقَّ |
وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا فَقُلْنَا هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ [28-القصص:75]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواه الگ کرلیں گے کہ اپنی دلیلیں پیش کرو پس اس وقت جان لیں گے کہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو کچھ افترا وه جوڑتے تھے سب ان کے پاس سے کھو جائے گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے، پھر ہم کہیں گے لاؤ اپنی دلیل، تو وہ جان لیں گے کہ بے شک سچ بات اللہ کی ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ گھڑا کرتے تھے۔
|
19 |
الْحَقَّ |
مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ [33-الأحزاب:4]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اللہ نے کسی آدمی کے لیے اس کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ اس نے تمھاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے بیٹے بنایا ہے، یہ تمھارا اپنے مونہوں سے کہنا ہے اور اللہ سچ کہتا ہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔
|
20 |
الْحَقَّ |
وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ [34-سبأ:6]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جنہیں علم ہے وه دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وه (سراسر) حق ہے اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راه کی رہبری کرتا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے۔ اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا رستہ بتاتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا ہے، دیکھتے ہیں کہ جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پر غالب ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔
|