سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
أبواب السهو
کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
The Book on As-Shw
192. باب مَا جَاءَ فِي الاِجْتِهَادِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں خوب محنت اور کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 412
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، وبشر بن معاذ العقدي، قالا: حدثنا ابو عوانة، عن زياد بن علاقة، عن المغيرة بن شعبة، قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتفخت قدماه، فقيل له: اتتكلف هذا وقد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، قال: " افلا اكون عبدا شكورا " قال: وفي الباب عن ابي هريرة , وعائشة، قال ابو عيسى: حديث المغيرة بن شعبة حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ کے پیر سوج گئے تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا آپ ایسی زحمت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/التہجد 6، وتفسیر الفتح 2 (4836)، والرقاق 20 (6471)، صحیح مسلم/المنافقین 18 (2820)، سنن النسائی/قیام اللیل 17 (1645)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 200 (1419، 1420)، (تحفة الأشراف: 11498)، مسند احمد (4/251، 255) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی زیادہ دیر تک نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
۲؎: تو جب بخشے بخشائے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بطور شکرانے کے زیادہ دیر تک نفل نماز پڑھا کرتے تھے یعنی عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت لگاتے تھے تو ہم گنہگار امتیوں کو تو اپنے کو بخشوانے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی طرف مسنون اعمال کے ذریعے اور زیادہ دھیان دینا چاہیئے۔ البتہ بدعات سے اجتناب کرتے ہوئے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1419 - 1420)