🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ:
باب: مردار کی کھال رنگنے سے پاک ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 806
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ، فَمَاتَتْ، فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، فَدَبَغْتُمُوهُ، فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ؟ فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، فِي حَدِيثِهِمَا، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی، وہ مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! لوگوں نے بتایا: یہ مردار ہے۔ آپ نے فرمایا: بس اس کا کھانا حرام ہے۔ ابوبکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس، عن میمونہ کہا (سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 806]
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ، عمرو ناقد رحمہ اللہ اور ابن ابی عمر رحمہ اللہ سب نے، ابن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت سنائی، یحییٰ رحمہ اللہ نے کہا، ہمیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے، عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری مردہ پائی جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ انہوں نے کہا: یہ مردہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس اس کا کھانا حرام ہے۔ ابوبکر رحمہ اللہ اور ابن ابی عمر رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں «عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ» کہا (روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بجائے میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 806]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 807
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً، أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا؟ قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا "،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی، وہ مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! لوگوں نے بتایا: یہ مردار ہے۔ آپ نے فرمایا: بس اس کا کھانا حرام ہے۔ ابوبکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس، عن میمونہ کہا (سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 807]
مجھے ابوطاہر رحمہ اللہ اور حرملہ رحمہ اللہ نے ابن وہب رحمہ اللہ کے واسطہ سے یونس رحمہ اللہ کی ابن شہاب رحمہ اللہ سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سنائی کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو ایک بکری صدقہ میں ملی تھی، وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتارا تو تم اسے رنگ لیتے اور اس سے تم فائدہ اٹھا لیتے؟ انہوں نے کہا: وہ مردہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس اس کا کھانا حرام ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 807]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 808
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ.
ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 808]
حسن حلوانی رحمہ اللہ اور عبد بن حمید رحمہ اللہ نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے باپ رحمہ اللہ سے، انہوں نے صالح رحمہ اللہ سے اور انہوں نے ابن شہاب رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے یونس رحمہ اللہ کی حدیث کے مفہوم والی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 808]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 809
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ، أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا، فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟ ".
سفیان نے عمرو سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 809]
ہمیں ابن ابی عمر رحمہ اللہ اور عبداللہ بن محمد زہری رحمہ اللہ نے (الفاظ ابن ابی عمر رحمہ اللہ کے ہیں) سفیان رحمہ اللہ کے واسطہ سے عمرو رحمہ اللہ کی عطاء رحمہ اللہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے، جو میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہیں اتارا؟ وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 809]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 364 ترقیم شاملہ: -- 810
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ مُنْذُ حِينٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّ دَاجِنَةً، كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ؟ ".
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ایک بکری، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کی تھی، مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا! [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 810]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ کے گھر میں پلنے والی بکری مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 810]
ترقیم فوادعبدالباقی: 364
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 365 ترقیم شاملہ: -- 811
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ، فَقَالَ: " أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟ ".
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کی (مردہ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا! [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 811]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کی (مردہ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 811]
ترقیم فوادعبدالباقی: 365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 366 ترقیم شاملہ: -- 812
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ وَعْلَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ، فَقَدْ طَهُر "،
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن وعلہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: جب چمڑے کو رنگ لیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 812]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چمڑے کو رنگ لیا گیا تو وہ پاک ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 812]
ترقیم فوادعبدالباقی: 366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 366 ترقیم شاملہ: -- 813
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سفیان بن عیینہ، عبدالعزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 813]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 366 ترقیم شاملہ: -- 814
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ مَنْصُور: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيُّ، فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ، وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ، وَالْمَجُوسُ، نُؤْتَى بِالْكَبْشِ، قَدْ ذَبَحُوهُ وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ، يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ".
یزید بن ابی حبیب نے ابوخیر سے روایت کی کہ میں نے عبدالرحمن بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین (چمڑے کا کوٹ) پہنے ہوئے دیکھا، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا: اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا: ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 814]
ابوالخیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی رحمہ اللہ کو ایک پوستین (چمڑے کا کوٹ) پہنے ہوئے دیکھا، میں نے اسے چھوا تو انہوں نے کہا: اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا: ہم مغرب میں رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی رہتے ہیں، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبیحہ کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ» اس کو رنگنا اسے پاک کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 366 ترقیم شاملہ: -- 815
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَئيِّ ، قَالَ: " سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ، فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالأَسْقِيَةِ، فِيهَا الْمَاءُ وَالْوَدَكُ، فَقَالَ: اشْرَبْ، فَقُلْتُ: أَرَأْيٌ تَرَاهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ".
جعفر بن ربیعہ نے ابوخیر سے روایت کی، کہا: مجھ سے عبدالرحمن بن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: پی لیا کرو۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اپنی رائے بتا رہے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 815]
علی بن وعلہ سبائی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ہم مغرب میں رہتے ہیں، تو ہمارے پاس مجوسی پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں، تو انہوں نے کہا: پی لیا کرو۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اپنی رائے سے بتا رہے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں