🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب المبايعات المنهي عنها من الغرر وغيره
دھوکہ دہی اور دیگر ممنوعہ خرید و فروخت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 432/2-475-503، سنن النسائي: 4636، سنن الترمذي: 1231، السنن الكبرى للبيهقي: 343/5، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4973) نے صحیح کہا ہے۔ سنن ابو داؤد (3461، وسندہ حسن) میں الفاظ ہیں: ”مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسَهُمَا أَوِ الرِّبَا“۔ اس روایت کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4974) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 496/6) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (4/12-45) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: ثني أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ يَضْمَنْ، وَلا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض اور بیع جائز نہیں، نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں، جس چیز کے نقصان کا آدمی ضامن نہ ہو اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں، جو چیز آپ کے پاس موجود نہیں اس کی بیع بھی جائز نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 174/2-179، سنن أبي داود: 3504، سنن النسائي: 4615، سنن الترمذي: 1234، سنن ابن ماجه: 2188، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/172) فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ جُمْلَةِ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ صَحِيحٌ“۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن والحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: ثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى هُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: ثني يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي بُيُوعًا، فَمَا يَحِلُّ مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، " إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ" ، وَهَكَذَا قَالَ شَيْبَانُ، وَهَمَّامٌ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَعْلَى، عَنْ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ شَيْبَانَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثنا حَبَّانُ، قَالَ: ثنا هَمَّامٌ .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کئی طرح کے سامان خریدتا ہوں، ان میں سے کیا حلال اور کیا حرام ہے؟ فرمایا: بھتیجے! جب آپ کوئی سامان خریدیں تو اسے قبضہ میں لینے سے پہلے مت بیچنا۔ اس کی اور بھی سندیں ہیں، جن میں لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن والحديث صحيحٌ: مسند الإمام أحمد: 402,401/3، سنن أبي داود: 3503، سنن النسائي: 4617، سنن الترمذي: 1232، سنن ابن ماجه: 2187، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4983) نے صحیح کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”هذا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ“ (السنن الكبرى: 313/5)، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جَيِّدٌ حَسَنٌ بَلْ صَحِيحٌ“ (نخب الأفكار: 39/2)۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے صحیح ابن حبان (4983) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن والحديث صحيحٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2183، صحیح مسلم: 1539»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَصْلُحُ بَيْعُ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ، قَالُوا: وَمَا صَلاحُهُ؟ قَالَ: تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پکنے سے پہلے کھجوروں کو بیچنا جائز نہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: پکنے کی علامت کیا ہے؟ فرمایا: سرخ یا زرد ہو جانا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2195، صحیح مسلم: 1555»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ، نَهَى الْبَايِعَ وَالْمُشْتَرِيَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے (سرخ ہونے) سے پہلے کھجوریں بیچنے سے منع فرمایا ہے اور سفید ہونے سے پہلے بالیاں (گندم) بیچنے سے منع فرمایا ہے، حتیٰ کہ وہ آفات سے محفوظ ہو جائیں۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1535»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ" ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلا مِثْلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو قبضہ میں لیے بغیر (آگے) بیچنے سے منع کیا ہے، وہ غلہ ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2135، صحیح مسلم: 1525»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جِزَافًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم قافلے والوں سے غلے کا ڈھیر (اندازہ سے) خرید لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کر دیا کہ ہم اس کی جگہ سے منتقل کیے بغیر اسے فروخت نہ کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1527»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ، لَمْ يُعْلَمْ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایسا ڈھیر بیچنے سے منع فرمایا، جس کا معین ماپ معلوم نہ ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1530»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً" .
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، عکرمہ تابعی براہ راست نبی کریم ﷺ سے بیان کر رہے ہیں، لہذا یہ مرسل ہے اور مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں