🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. باب ما جاء في المواريث
وراثت کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33، قَالَ: وَرَثَةً، وَفِي قَوْلِهِ: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33، قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرِيُّ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ بِالأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نزلت الآيَةُ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 نسخت، ثُمَّ قَرَأَ: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33 مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ، وَيُوصِي لَهُ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن مجید کی آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ (النساء: 33) کے متعلق فرمایا: موالی کا معنی ورثا ہے اور ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ (النساء: 33) (جن لوگوں نے تم سے پکی قسمیں کھائی ہیں، انہیں بھی ان کا حصہ دو) کے متعلق فرماتے ہیں: مہاجرین جب مدینہ آئے، تو اس اخوت کی بنا پر انصار کا ترکہ پاتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم کی تھی اور اپنے رشتہ داروں کا ترکہ نہیں پاتے تھے، جب آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ (النساء: 33) نازل ہوئی، تو پہلی آیت منسوخ ہوگئی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ (النساء: 33) یعنی امداد، تعاون، خیر خواہی اور ان کے حق میں وصیت باقی ہے جب کہ میراث ختم ہوگئی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6747۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مرة يَبْلُغُ بِهِ: " لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ" ، الْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث بن سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6764، صحيح مسلم: 1614۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ ، قَالَ: ثنا وهَيْبٌ ، ح وَثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أنا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ" ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ: لأَوْلَى ذَكَرٍ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقداروں کو وراثت دینے کے بعد جو باقی بچ جائے وہ اس مرد کو دے دیں، جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے، زعفرانی نے مذکر کے لفظ استعمال کیے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6732، صحيح مسلم: 1615۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَنِي سَلَمَةَ فَوَجَدَنِي لا أَعْقِلُ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَرَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ:" كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فنزلت: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے محلہ میں میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے مجھے بے ہوش پایا، تو پانی منگوا کر وضو کیا اور اس پانی کو مجھ پر چھڑکا، مجھے افاقہ ہوا، تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ (النساء: 11) (الله تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے گا۔) [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4577، صحيح مسلم: 1616/5۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَالا فَهُوَ لِلْعَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ فَأَنَا وَلِيُّهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (مسلمان) مال چھوڑ گیا، تو وہ اس کے عصبہ (ورثا) کے لیے ہے اور جو بوجھ (قرض) یا عیال چھوڑ گیا، تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے، میں اس کا ولی ہوں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6745۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" اشْتَكَيْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ، قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، " فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ وُضُوءَهُ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟ فَلَمْ يُجِبْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نزلت آيَةُ الْمِيرَاثِ" ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَالَ: نزلت فِيهِ: يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، میں بے ہوش تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر وضو والا پانی مجھ پر چھڑکا، مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا فیصلہ کیسے کروں؟ میں اپنے مال کا کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ یہ آیت اتری ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (النساء: 176) (وہ آپ سے فتوٰی مانگتے ہیں، فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔) [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 7309، صحيح مسلم: 1616/5۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبَيْصَة بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : حُضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ مِثْلَمَا قَالَ الْمُغِيرَةُ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا الْقَضَاءُ الَّذِي بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ إِلا لِغَيْرِكِ، وَمَا أَنَا زَائِدٌ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيُّكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا" .
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی نانی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث کے متعلق دریافت کرنے آئیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتاب اللہ میں تو آپ کا کوئی حصہ مذکور نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے مجھے آپ کا حصہ معلوم ہے، واپس چلی جائیں، میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا، چنانچہ آپ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے (جدہ کو) چھٹا حصہ عطا کیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی (گواہ) ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر وہی بات کی، جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے یہ حکم نافذ کر دیا۔ پھر دوسری دادی نانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اپنی میراث کے متعلق دریافت کرنے آئیں، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی کتاب میں تو آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ ہمیں پہنچا ہے، وہ آپ کے متعلق نہیں ہے، نیز میں فرائض میں اپنی طرف سے کچھ نہیں بڑھا سکتا اور آپ کا چھٹا حصہ ہے، اگر آپ دونوں موجود ہوں، تو وہ آپ دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا اور اگر آپ میں سے کوئی اکیلی ہوگی تو وہ چھٹا حصہ اسی کا ہی ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لانقطاعه: موطأ الإمام مالك: 2/513، سنن أبي داود: 2894، سنن الترمذي: 2101، سنن ابن ماجه: 2724، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2031) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (4/338) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ بغوی رحمہ اللہ (شرح السنتہ: 2221) نے ”حسن“ کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے کیونکہ اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے اس کے کہ یہ مرسل ہے کیونکہ قبیصہ کا ابوبکر صدیق سے سماع ثابت نہیں۔ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں: بہر حال یہ حجت ہے کیونکہ یہ صحابی کی مرسل ہے یا پھر یہ ممکن ہے کہ انہوں نے بعد میں مغیرہ یا محمد بن مسلمہ سے سنا ہو۔ ابن المنذر نے کہا ہے کہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ دادی کے لیے چھٹا حصہ ہے جبکہ ماں نہ ہو (التلخيص الحبير: 3/82، ح: 1349، البدر المنير: 8/208-209)۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: أنا أَبُو الْمُنِيبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَطْعَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّةَ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ أُمًّا" .
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ماں کے نہ ہونے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ (دادی) کو چھٹا حصہ دیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 2895، السنن الكبرى للنسائي: 6338۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثنا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: " لَكَ السُّدُسُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ السُّدُسَ الآخَرَ طُعْمَةٌ" ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَقَلُّ شَيْءٍ يَرِثُ الْجَدُّ السُّدُسُ، لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَهُ السُّدُسَ، وَلا نَدْرِي مَعَ مَنْ وَرَّثَهُ؟.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میرا پوتا فوت ہو گیا ہے، اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ جب وہ جانے لگا، تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ایک اور بھی چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: دادے کی کم سے کم وراثت چھٹا حصہ ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے، نیز ہمیں یہ معلوم نہیں کہ آپ نے اسے کس وارث کے ساتھ شامل کر کے چھٹا حصہ دلایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 4/428، سنن أبي داود: 2896، سنن الترمذي: 2099، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے، امام حسن بصری رحمہ اللہ کا سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنِ الْهُزَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ، وَابْنَةَ ابْنِهِ، وَأُخْتَهُ، فَجَعَلَ لابْنَتِهِ النِّصْفَ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسَ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا فیصلہ کیا، جو بیٹی، پوتی اور بہن چھوڑ (کر مر) گیا تھا، آپ نے بیٹی کو نصف اور پوتی کو چھٹا حصہ دیا، جو بچ گیا وہ بہن کو دے دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6742۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں