الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْعِتْقِ
غلامی سے آزادی کا بیان
The Book of Emancipating Slaves
2. باب إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ:
باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
Chapter: Al-Wala' (Right of inheritance) belongs to the one who manumits the slave
حدیث نمبر: 3776
Save to word اعراب
وحدثنا يحيي بن يحيي ، قال: قرات على مالك ، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن عائشة ، انها ارادت ان تشتري جارية تعتقها، فقال اهلها: نبيعكها على ان ولاءها لنا، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " لا يمنعك ذلك، فإنما الولاء لمن اعتق ".وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ارادہ کیا ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا۔ لونڈی کے مالکوں نے کہا: ہم اس شرط پر بیچتے ہیں کہ ولاء کا حق ہمارا ہو گا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بکنے دے تو اپنا کام کر، ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 3777
Save to word اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن ابن شهاب ، عن عروة ، ان عائشة ، اخبرته: ان بريرة جاءت عائشة تستعينها في كتابتها، ولم تكن قضت من كتابتها شيئا، فقالت لها عائشة: ارجعي إلى اهلك، فإن احبوا ان اقضي عنك كتابتك ويكون ولاؤك لي، فعلت، فذكرت ذلك بريرة لاهلها فابوا، وقالوا: إن شاءت ان تحتسب عليك، فلتفعل ويكون لنا ولاؤك، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ابتاعي فاعتقي، فإنما الولاء لمن اعتق "، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " ما بال اناس يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله، فليس له، وإن شرط مائة مرة شرط الله احق واوثق ".وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
‏‏‏‏ عروہ سے روایت ہے، بریرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ان سے مدد مانگنے کو اپنی بدل کتابت میں اور اس نے اپنی کتابت میں سے کچھ ادا نہیں کیا تھا (بلکہ سارا روپیہ باقی تھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: تو اپنے لوگوں کے پاس جا اور اگر وہ منظور کریں تو میں سارا روپیہ کتاب کا ادا کر دیتی ہوں پر ولاء تیری مجھے ملے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکوں سے بیان کیا۔ انہوں نے نہ مانا اور کہا: اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چاہیں تو للہ تیرے ساتھ سلوک کریں لیکن ولاء تو ہم لیں گے۔ سیدہ عائشہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو خرید کر لے، اور آزاد کر دے، ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا حال ہے لوگوں کا کہ وہ شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں جو شخص ایسی شرط کرے وہ لغو ہے اگرچہ سو مرتبہ اس کی شرط کرے۔ شرط وہی درست اور مضبوط ہے جو اللہ تعالیٰ نے لگائی ہے۔
حدیث نمبر: 3778
Save to word اعراب
حدثني ابو الطاهر ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، عن عروة بن الزبير ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها، قالت: جاءت بريرة إلي، فقالت: يا عائشة، إني كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام اوقية بمعنى حديث الليث، وزاد فقال: لا يمنعك ذلك منها ابتاعي واعتقي، وقال في الحديث، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: اما بعد.حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ.
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اے عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے کتابت کی ہے نو اوقیہ پر ہر برس میں ایک اوقیہ (چالیس درھم) اسی طرح جیسے اوپر گزرا اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ان کے کہنے سے تو اپنے ارادے سے باز مت رہ۔ خرید لے اور آزاد کر دے۔ اس روایت میں یہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں میں اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اس کی ستائش کی۔ بعد اس کے فرمایا: کیا حال ہے لوگوں کا۔ اخیر تک۔
حدیث نمبر: 3779
Save to word اعراب
وحدثنا ابو كريب محمد بن العلاء الهمداني ، حدثنا ابو اسامة ، حدثنا هشام بن عروة ، اخبرني ابي ، عن عائشة ، قالت: دخلت علي بريرة، فقالت: إن اهلي كاتبوني على تسع اواق، في تسع سنين في كل سنة اوقية، فاعينيني، فقلت لها: إن شاء اهلك ان اعدها لهم عدة واحدة، واعتقك ويكون الولاء لي، فعلت فذكرت ذلك لاهلها، فابوا إلا ان يكون الولاء لهم، فاتتني فذكرت ذلك، قالت: فانتهرتها، فقالت: لا ها الله إذا قالت، فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالني، فاخبرته، فقال: " اشتريها واعتقيها، واشترطي لهم الولاء، فإن الولاء لمن اعتق "، ففعلت، قالت: ثم خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية، فحمد الله واثنى عليه بما هو اهله، ثم قال: " اما بعد فما بال اقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، ما كان من شرط ليس في كتاب الله عز وجل، فهو باطل، وإن كان مائة شرط كتاب الله احق وشرط الله اوثق، ما بال رجال منكم يقول احدهم اعتق فلانا والولاء لي إنما الولاء لمن اعتق "وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَانْتَهَرْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلْتُ، قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ میرے پاس آئی اور کہا: میرے مالکوں نے مجھ کو مکاتب کیا ہے نو اوقیہ پر ہر برس میں ایک اوقیہ تو آپ میری مدد کریں۔ میں نے کہا: اگر تمہارے مالک راضی ہوں تو میں یہ ساری رقم یک مشت دے دیتی ہوں اور تم کو آزاد کر دیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء میں لوں گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا انہوں نے نہ مانا۔ اور یہ کہا کہ ولاء ہم لیں گے۔ پھر بریرہ میرے پاس آئی اور یہ بیان کیا میں نے اس کو جھڑکا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نہ ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور مجھ سے پوچھا میں نے سب حال بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو خرید لے اور آزاد کر دے اور ولاء کی شرط انہی کے لیے کر لےکیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ میں نے ایسا ہی کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا شام کو اور اللہ کی تعریف کی اور ثناء بیان کی جیسے اس کو لائق ہے پھر فرمایا: بعد اس کے کیا حال ہے لوگوں کا کہ وہ دہ شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے۔ اگرچہ سو بار شرط کی گئی ہو اللہ کی کتاب راست اور اللہ کی شرط مضبوط ہے۔ کیا حال ہے تم میں سے بعض لوگوں کا کہتے ہیں دوسرے سے۔ آزاد تم کرو اور ولاء ہم لیں گے۔ حالانکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 3780
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابن نمير . ح وحدثنا ابو كريب ، حدثنا وكيع . ح وحدثنا زهير بن حرب ، وإسحاق بن إبراهيم جميعا عن جرير ، كلهم عن هشام بن عروة ، بهذا الإسناد نحو حديث ابي اسامة، غير ان في حديث جرير، قال: وكان زوجها عبدا، فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاختارت نفسها، ولو كان حرا لم يخيرها وليس في حديثهم اما بعد.وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا عَنْ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ.
‏‏‏‏ ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں اتنا زیادہ ہے کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا۔ (جب وہ آزاد ہوئی خواہ اس سے نکاح قائم رکھے یا فسخ کرے) اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا (یعنی شوہر کو ناپسند کیا) اور جو وہ آزاد ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اختیار نہ دیتے اور اس روایت میں «أَمَّا بَعْدُ» کا لفظ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3781
Save to word اعراب
حدثنا زهير بن حرب ، ومحمد بن العلاء ، واللفظ لزهير، قالا: حدثنا ابو معاوية ، حدثنا هشام بن عروة ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: كان في بريرة ثلاث قضيات اراد اهلها ان يبيعوها ويشترطوا ولاءها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: " اشتريها واعتقيها، فإن الولاء لمن اعتق "، قالت: وعتقت، فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاختارت نفسها، قالت: وكان الناس يتصدقون عليها وتهدي لنا، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " هو عليها صدقة، وهو لكم هدية فكلوه ".حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، قَالَتْ: وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَتْ: وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بریرہ کے مقدمہ میں تین باتیں پیدا ہوئیں ایک تو یہ کہ اس کے مالکوں نے اس کو بیچنا چاہا اور ولاء کی شرط اپنے لیےکرنا چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ولاء کی شرط انہی کے لیے کر لے اور آزاد کر دے ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا۔ دوسری یہ کہ جب میں نے اس کو آزاد کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دیا اپنے شوہر(مغیث) کے باب میں اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور شوہر کو ناپسند کیا۔ تیسری یہ کہ لوگ بریرہ کو صدقہ دیتے اور وہ ہمارے پاس ہدیہ بھیجتی۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے تو کھاؤ اس کو۔
حدیث نمبر: 3782
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن سماك ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن ابيه ، عن عائشة ، انها اشترت بريرة من اناس من الانصار واشترطوا الولاء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الولاء لمن ولي النعمة "، وخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان زوجها عبدا، واهدت لعائشة لحما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو صنعتم لنا من هذا اللحم "، قالت عائشة: تصدق به على بريرة، فقال: " هو لها صدقة ولنا هدية ".وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ "، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بریرہ کو خریدا انصار کے لوگوں سے اور اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط کر لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اسی کو ملے گی جو والی ہو نعمت کا۔ (یعنی آزاد کرے) اور اختیار دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے خاوند کے مقدمہ میں اس کا خاوند غلام تھا اور بریرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے گوشت کا حصہ بھیجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش ہمارے لیے بھی اس میں سے تھوڑا گوشت بناتیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت صدقہ ملا ہے بریرہ کو (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بریرہ پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ (تو ہم پر اس کا کھانا درست ہے)۔
حدیث نمبر: 3783
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت عبد الرحمن بن القاسم ، قال: سمعت القاسم ، يحدث عن عائشة ، انها ارادت ان تشتري بريرة للعتق، فاشترطوا ولاءها، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " اشتريها واعتقيها، فإن الولاء لمن اعتق "، واهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم لحم، فقالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: هذا تصدق به على بريرة، فقال: " هو لها صدقة وهو لنا هدية "، وخيرت، فقال عبد الرحمن: وكان زوجها حرا، قال شعبة: ثم سالته عن زوجها، فقال: لا ادري.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ "، وَخُيِّرَتْ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا، فَقَالَ: لَا أَدْرِي.
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے قصد کیا بریرہ کو خریدنے کا آزاد کرنے کے لیے لیکن اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی اپنے لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حصہ آیا گوشت کا لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ گوشت صدقہ میں ملا ہے بریرہ کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے وہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ اور بریرہ کو اختیار دیا گیا تھا اس کے خاوند کے مقدمہ میں، عبدالرحمٰن نے کہا: اس کا خاوند آزاد تھا۔ شعبہ نے کہا: پھر میں نے عبدالرحمٰن سے اس کے خاوند کا حال پوچھا انہوں نے کہا: مجھ کو معلوم نہیں ہے (تو آزاد ہونے کی روایت قابل اعتبار کے نہ رہی۔)
حدیث نمبر: 3784
Save to word اعراب
وحدثناه احمد بن عثمان النوفلي ، حدثنا ابو داود ، حدثنا شعبة ، بهذا الإسناد نحوه.وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3785
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار جميعا عن ابي هشام، قال ابن المثنى حدثنا مغيرة بن سلمة المخزومي ، وابو هشام، حدثنا وهيب ، حدثنا عبيد الله ، عن يزيد بن رومان ، عن عروة ، عن عائشة ، قالت: " كان زوج بريرة عبدا ".وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وأَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بریرہ کا خاوند غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3786
Save to word اعراب
وحدثني ابو الطاهر ، حدثنا ابن وهب ، اخبرني مالك بن انس ، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت: كان في بريرة ثلاث سنن، خيرت على زوجها حين عتقت، واهدي لها لحم، فدخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم والبرمة على النار، فدعا بطعام، فاتي بخبز وادم من ادم البيت، فقال: " الم ار برمة على النار فيها لحم؟ "، فقالوا: بلى يا رسول الله، ذلك لحم تصدق به على بريرة، فكرهنا ان نطعمك منه، فقال: " هو عليها صدقة وهو منها لنا هدية "، وقال النبي صلى الله عليه وسلم فيها: " إنما الولاء لمن اعتق ".وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ، فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ؟ "، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ "، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بریرہ کی وجہ سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ اس کو اختیار ملا اپنے خاوند کے مقدمہ میں آزاد ہوئی۔ دوسری یہ کہ اس کو گوشت ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور ہانڈی میں گوشت چڑھا تھا آگ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا مانگا۔ تو روٹی اور گھر کا کچہ سالن سامنے لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت تو ہانڈی چڑھا تھا آگ پر۔ لوگوں نے کہا: بے شک یا رسول اللہ! مگر وہ گوشت صدقہ کا ہے جو بریرہ کو ملا ہے ہم کو برا معلوم ہوا کہ اس میں سے آپ کو کھلا دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ تیسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بریرہ کے باب میں کہولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 3787
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا خالد بن مخلد ، عن سليمان بن بلال ، حدثني سهيل بن ابي صالح ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: ارادت عائشة ان تشتري جارية تعتقها، فابى اهلها إلا ان يكون لهم الولاء، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " لا يمنعك ذلك، فإنما الولاء لمن اعتق ".وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا اس کے مالکوں نے نہ مانا مگر اس شرط سے قبول کیا کہ ولاء ان کو ملے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ارادے سے باز نہ آ اور ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.