سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
12. بَابُ الدِّبَاغِ
باب: چمڑے کو پاک کرنا
ترقیم العلمیہ : 114 ترقیم الرسالہ : -- 118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَيْلِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُسْرِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّمَا حَرَّمَ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا، وَأَمَّا الْجِلْدُ، وَالشَّعْرُ، وَالصُّوفُ فَلا بَأْسَ بِهِ" . عَبْدُ الْجَبَّارِ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کا گوشت (کھانے) کو حرام قرار دیا ہے، جہاں تک اس کی کھال، اس کے بال اور اون کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس روایت کا راوی ”عبدالجبار“ ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 118]
ترقیم العلمیہ: 114
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 80، 81، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 115، 118، 120، قال الدارقطني: عبد الجبار بن مسلم ضعيف، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: 160/3»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 115 ترقیم الرسالہ : -- 119
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَابِدُ ، نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَوْ زَيْنَبَ ، أَوْ غَيْرِهِمَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ مَيْمُونَةَ مَاتَتْ شَاةٌ لَهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَسْتَمْتِعُ بِهَا وَهِيَ مَيْتَةٌ، فَقَالَ:" طَهُورُ الأُدْمِ دِبَاغُهُ" . وَقَالَ غَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ.
ہزیل بن شرحبیل، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا یا ان دونوں کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور زوجہ محترمہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے کیسے استعمال کر سکتے ہیں، یہ تو مردار ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کے ذریعے چمڑہ پاک ہو جاتا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ سے منقول ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 119]
ترقیم العلمیہ: 115
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 82، 11322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 116، 117، 119، 125، 4707، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 25، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 538، قال الدارقطني: يوسف بن أبى السفر متروك، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: 160/3»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 116 ترقیم الرسالہ : -- 120
نا محَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي هَوْذَةَ ، نا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْمَيْتَةِ حَلالٌ إِلا مَا أُكِلَ مِنْهَا، فَأَمَّا الْجِلْدُ، وَالْقَرْنُ، وَالشَّعْرُ، وَالصُّوفُ، وَالسِّنُّ، وَالْعَظْمُ فَكُلُّ هَذَا حَلالٌ لأَنَّهُ لا يُذَكَّى" . أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (اللہ تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا: ”تم یہ فرما دو! میری طرف جو چیز وحی کی گئی ہے اس میں، میں نے یہ چیز نہیں پائی جو اس کے کھانے والے کے لیے حرام ہو۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:) ”مردار کی ہر چیز حلال ہے ماسوائے اس چیز کے جو کھائی جاتی ہے، جہاں تک کھال، سینگ، بال، اون، دانت، ہڈی کا تعلق ہے، تو یہ سب حلال ہیں، کیونکہ انہیں ذبح نہیں کیا جاتا۔“ اس روایت کا راوی ابوبکر ہذلی ”متروک“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 120]
ترقیم العلمیہ: 116
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 80، 81، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 115، 118، 120، قال الدارقطني: أبو بكر الهذلي ضعيف»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 117 ترقیم الرسالہ : -- 121
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ" . إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”جس کھال کی دباغت کر دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“ اس کی سند ”حسن“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 121]
ترقیم العلمیہ: 117
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 121، 123، قال الدارقطني: إسناده حسن، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 584/1»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 118 ترقیم الرسالہ : -- 122
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مَرْدَانْشَاهَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا: نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ ، نا الْوَاقِدِيُّ ، نا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دِبَاغُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ طَهُورُهَا" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مردار کی کھال کی دباغت کر دینا اس کو پاک کر دیتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 122]
ترقیم العلمیہ: 118
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 122»
ترقیم العلمیہ : 119 ترقیم الرسالہ : -- 123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، نا سُوَيْدٌ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَاةٍ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟"، قَالُوا: مَيْتَةٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْبُغُوا إِهَابَهَا، فَإِنَّ دِبَاغَهُ طَهُورٌ" . الْقَاسِمُ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گزرے، آپ نے دریافت کیا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: یہ مردار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کی دباغت کرو، کیونکہ اس کی دباغت اسے پاک کر دیتی ہے۔“ اس روایت کا راوی قاسم ”ضعیف“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 123]
ترقیم العلمیہ: 119
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 121، 123، قال الدارقطني: القاسم ضعيف، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 607/1»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 120 ترقیم الرسالہ : -- 124
نا محَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، نا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" طَهُورُ كُلِّ أَدِيمٍ دِبَاغُهُ" . إِسْنَادٌ حَسَنٌ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”چمڑے کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے، اس کی دباغت کر لی جائے۔“ اس کی سند ”حسن“ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 124]
ترقیم العلمیہ: 120
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1831، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1286، 1290، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4255، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4556، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4124، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2030، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3612، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 50، 65، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 106، 107، 124، 126، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25085، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3715، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 523، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 191، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 25272، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2705، وقال الدارقطني: إسناد حسن، نصب ا
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 121 ترقیم الرسالہ : -- 125
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الرَّقِّيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، قَالَ: نا فرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ لَهَا شَاةٌ تَحْتَلِبُهَا، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَتِ الشَّاةُ؟"، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ:" أَفَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟، قُلْنَا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دِبَاغَهَا يَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ خَلُّ الْخَمْرِ" . تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کی ایک بکری تھی جس کا وہ دودھ دوھ لیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بکری نظر نہیں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”بکری کہاں ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: وہ مر گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ ہم نے عرض کی: وہ تو مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دباغت اسے حلال کر دیتی ہے، جس طرح سرکہ، شراب کو حلال کر دیتا ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں فرج بن فضالہ منفرد ہے اور یہ ”ضعیف“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 125]
ترقیم العلمیہ: 121
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 82، 11322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 116، 117، 119، 125، 4707، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 25، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 538، وقال الدارقطني: تفرد به فرج بن فضالة وهو ضعيف، سنن الدارقطني:، 125»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 122 ترقیم الرسالہ : -- 126
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغَلِّسٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ الْبَلْخِيُّ ، نا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ ، نا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا هِيَ دُبِغَتْ تُرَابًا كَانَ أَوْ رَمَادًا أَوْ مِلْحًا أَوْ مَا كَانَ، بَعْدُ أَنْ تُرِيدَ صَلاحَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردہ جانور کی کھال استعمال کرو، اس کی مٹی، راکھ یا نمک یا کسی بھی چیز کے ذریعے دباغت کر لی گئی ہو یا (راوی کو شک ہے یہ الفاظ ہیں:) یا جس چیز کے (ذریعے دباغت کر لینے) کے بعد وہ استعمال کے قابل ہو جائے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 126]
ترقیم العلمیہ: 122
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1831، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1286، 1290، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4255، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4556، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4124، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2030، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3612، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 50، 65، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 106، 107، 124، 126، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25085، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3715، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 523، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 191، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 25272، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2705، وقال الدارقطني: في إسناده معروف
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف