سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب النُّذُورُ
باب: نذر کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 4258 ترقیم الرسالہ : -- 4337
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا حَجَّاجٌ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، يَقُولُ:" ثَلاثَةُ أَشْيَاءَ فِيهِنَّ مُدٌّ: مُدٌّ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، وَفِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ، وَفِدْيَةُ طَعَامُ مِسْكِينٍ" .
عطاء بیان کرتے ہیں: میں نے ایک مسجد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تین چیزوں میں ایک، ایک ’مد‘ دیا جائے گا، قسم توڑنے کے کفارے میں، ظہار کے کفارے میں اور مسکین کو کھانا کھلانے کے فدیے میں۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4337]
ترقیم العلمیہ: 4258
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20032، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4337»
ترقیم العلمیہ : 4259 ترقیم الرسالہ : -- 4338
نَا نَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ اللُّؤْلُئِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ فِيهِ إِدَامُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر ایک مسکین کو گندم کا ایک ’مد‘ دیا جائے گا، جس کے ساتھ سالن بھی ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4338]
ترقیم العلمیہ: 4259
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 790، 791، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4335، 4338، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16071، 16072، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12334»
ترقیم العلمیہ : 4260 ترقیم الرسالہ : -- 4339
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِذَا عَجَزَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ عَنِ الصِّيَامِ، أَطْعَمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدًّا وَاحِدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کوئی بوڑھا شخص روزے رکھنے کے قابل نہ رہے، تو وہ ایک دن کے عوض میں ایک ’مد‘ کھانا کھلائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4339]
ترقیم العلمیہ: 4260
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4505، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1612، 1613، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2319، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2638، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2316، 2317، 2318، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2374، 2377، 2378، 2379، 2380، 2381، 2382، 2384، 2385، 2386، 2387، 4339»
ترقیم العلمیہ : 4261 ترقیم الرسالہ : -- 4340
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ، اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا، فَإِنْ حَلَفَ بَطُلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ، وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ، وَجَازَ طَلاقُهُ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر سے طلاق لینے کا دعویٰ کر دے اور وہ اس بارے میں عادل گواہ کو پیش کر دے، تو اس کے شوہر سے حلف لیا جائے گا، اگر وہ حلف اٹھا لیتا ہے، تو اس گواہ کی گواہی باطل قرار دی جائے گی اور اگر وہ حلف اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے، تو اس کا انکار کرنا دوسرے گواہ کا قائم مقام شمار ہو گا اور اس کی دی ہوئی طلاق تسلیم کی جائے گی۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4340]
ترقیم العلمیہ: 4261
تخریج الحدیث: «منكر، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4048، 4340»
«قال أبو حاتم الرازي: هذا حديث منكر، علل الحديث: (4 / 119)»
«قال أبو حاتم الرازي: هذا حديث منكر، علل الحديث: (4 / 119)»
الحكم على الحديث: منكر
ترقیم العلمیہ : 4262 ترقیم الرسالہ : -- 4341
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، نَا أَبِي، نَا غَيْلانُ بْنُ جَامِعٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: شَهِدَ رَجُلانِ مِنْ أَهْلِ دَقْوَقَاءَ نَصْرَانِيَّانِ عَلَى وَصِيَّةِ مُسْلِمٍ مَاتَ عِنْدَهُمْ فَارْتَابَ أَهْلُ الْوَصِيَّةِ، فَأَتَوْا بِهِمَا أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ فَاسْتَحْلَفَهُمَا بَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ: وَاللَّهِ مَا اشْتَرَيْنَا بِهِ ثَمَنًا وَلا كَتَمْتُمَا شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذَا لَمِنَ الآثِمِينَ، قَالَ عَامِرٌ: قَالَ أَبُو مُوسَى : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقَضِيَّةٌ مَا قُضِيَ بِهَا مُنْذُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْيَوْمِ" .
عامر شعبی بیان کرتے ہیں: ”دقوقاء“ کے رہنے والے دو عیسائی لوگ ایک مسلمان کی وصیت کے گواہ بن گئے، اس مسلمان کا وصال ان لوگوں کے پاس ہوا تھا، جن لوگوں کے بارے میں وصیت کی گئی تھی، انہیں اس بارے میں شک ہوا، وہ ان دونوں کو لے کر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز کے بعد ان دونوں سے قسم لی کہ ”اللہ کی قسم! ہم نے اس کے عوض میں کوئی قیمت حاصل نہیں کی اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی گواہی کو چھپایا نہیں ہے، اگر ہم ایسا کریں گے، تو ہم گناہگار ہوں گے۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ وہ فیصلہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آج سے پہلے ایسا فیصلہ نہیں ہوا۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4341]
ترقیم العلمیہ: 4262
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3243، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4341»
ترقیم العلمیہ : 4263 ترقیم الرسالہ : -- 4342
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَتَى رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هِيَ لِي، وَقَالَ الآخَرُ: هِيَ لِي حُزْتُهَا وَقَبَضْتُهَا، فَقَالَ: فِيهَا الْيَمِينُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الأَرْضُ، فَلَمَّا تَفَوَّهَ لِيَحْلِفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، قَالَ: فَمَنْ تَرَكَهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ" ،.
عدی بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ مقدمہ ایک زمین کے بارے میں تھا، ان میں سے ایک نے کہا: ”یہ میری زمین ہے“ اور دوسرے نے کہا: ”یہ میری ہے، میں نے اسے گھیرا ہوا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ فرمایا کہ ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہے، وہ قسم اٹھائے گا۔“ جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس شخص نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اسے ترک کر دے گا، اسے جنت ملے گی۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4342]
ترقیم العلمیہ: 4263
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5952، 5953، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20766، 21271، 21272، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4342، 4343، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17993»
ترقیم العلمیہ : 4264 ترقیم الرسالہ : -- 4343
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4343]
ترقیم العلمیہ: 4264
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5952، 5953، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20766، 21271، 21272، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4342، 4343، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17993»
ترقیم العلمیہ : 4265 ترقیم الرسالہ : -- 4344
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِلا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ: عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ الْكِنَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، وَأُمُّ سَارَةَ، فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى فَقُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار افراد کے علاوہ سب کو امان دے دی تھی، وہ لوگ عبدالعزیٰ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد اور ام سارہ تھے، جہاں تک عبدالعزیٰ کا تعلق ہے، تو اسے قتل کر دیا گیا، وہ خانہ کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا تھا۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4344]
ترقیم العلمیہ: 4265
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4344، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6686، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 38091»
ترقیم العلمیہ : 4266 ترقیم الرسالہ : -- 4345
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغَلِّسِ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَمِيرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ: اقْتُلُوهُمْ وَإِنَّ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ: عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ"، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
مصعب بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار افراد اور دو خواتین کے علاوہ سب لوگوں کو امان دے دی تھی، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ”ان (چھ افراد کو) قتل کر دینا ہے، اگرچہ تم انہیں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا پاؤ: عکرمہ بن ابوجہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد۔“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4345]
ترقیم العلمیہ: 4266
تخریج الحدیث: «ٱخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1054، 1055، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2342، 4385، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3516، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2683، 4359،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3022، 4345، 4346، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 757، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 1151، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 38068»
الحكم على الحديث: ٱخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"
ترقیم العلمیہ : 4267 ترقیم الرسالہ : -- 4346
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4346]
ترقیم العلمیہ: 4267
تخریج الحدیث: «ٱخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1054، 1055، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2342، 4385، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3516، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2683، 4359،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3022، 4345، 4346، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 757، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 1151، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 38068»
الحكم على الحديث: ٱخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"