سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
1. فَضَائِلُ الْقُرْآنِ
قرآن کے فضائل
ترقیم دار السلفیہ: 41 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 41
نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ جَالِسًا، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : اللَّهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: قُلْ فِيهَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ بِرَأْيِكَ، فَقَالَ" أَقُولُ فِي كِتَابِ اللَّهِ بِرَأْيِي؟! فَرَدَّدَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا وَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيءٍ" .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا اور قرآن کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے!“ اس شخص نے کہا: ”آپ اپنی رائے سے کچھ فرمائیں، اللہ آپ کی اصلاح کرے!“ تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا میں اللہ کی کتاب کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہوں؟!“ یہ بات دو یا تین بار دہرائی اور کوئی جواب نہ دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف حماد بن يحيى من قبل حفظه.
ترقیم دار السلفیہ: 42 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 42
نا نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: نا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: خَلا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَاتَ يَومٍ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَخْتَلِفُ هَذِهِ الأُمَّةُ وَنبِيُّهَا وَاحِدٌ، وَكِتَابُهَا وَاحِدٌ وَقِبْلَتُهَا؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" إِنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، فَقَرَأْنَاهُ وَعَلِمْنَا فِيمَ أُنْزِلَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَنَا أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَلا يَعْرِفُونَ فِيمَ نُزِّلَ، فَيَكُونُ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ، فَإِذَا كَانَ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ اخْتَلَفُوا، فَإِذَا اخْتَلَفُوا اقْتَتَلُوا، فَزَبَرَهُ عُمَرُ وَانْتَهَرهُ، فَانْصَرَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ دَعَاهُ بَعْدُ فَعَرَفَ الَّذِي قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِيهٍ أَعِدْ عَلَيَّ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن تنہائی میں خود سے گفتگو کر رہے تھے، تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور پوچھا: ”یہ امت اختلاف کیسے کرے گی، جب کہ اس کا نبی ایک ہے، اس کی کتاب ایک ہے اور اس کا قبلہ بھی ایک ہے؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہم پر قرآن نازل ہوا، ہم نے اسے پڑھا اور جانا کہ یہ کن امور کے بارے میں نازل ہوا ہے، لیکن ہمارے بعد ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن تو پڑھیں گی مگر نہیں جانیں گی کہ وہ کن اسباب کے تحت نازل ہوا ہے، تو ہر قوم اس میں اپنی اپنی رائے قائم کرے گی، اور جب ہر قوم کی ایک الگ رائے ہوگی، تو وہ باہم اختلاف کریں گے، اور جب اختلاف بڑھ جائے گا تو وہ آپس میں قتال کریں گے۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور سخت لہجے میں بات کی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما واپس چلے گئے۔ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ بلایا، ان کی بات کو سمجھا اور فرمایا: ”اچھا، وہی بات دوبارہ دہرا دو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 6357، 6358، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 42، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20368»
الحكم على الحديث: الحديث صحيح لغيره كما سيأتي، وأما هذا الإسناد فرجاله ثقات، إلا أنه ضعيف للانقطاع بين التيمي وعمر بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
ترقیم دار السلفیہ: 43 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 43
نا نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيُ اللَّهُ عَنْهُ، قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ" وَفَاكِهَةً، وَأَبًّا، فَقَالَ: هَذِهِ الْفَاكِهَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا فَمَا الأَبُّ؟ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ، فَقَالَ: لَعَمْرُكَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ التَّكَلُّفُ يَا عُمَرُ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 31] کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ”یہ فاکہہ (پھل) تو ہم جانتے ہیں، مگر ’ابّ‘ کیا ہے؟“ پھر خود ہی سوچ کر فرمایا: ”اے عمر! یہ تو محض تکلف (یعنی غیر ضروری بحث) ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3163، 3919، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 43، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30729»
الحكم على الحديث: سنده رجال ثقات، إلا أنه ضعيف من هذا الطريق لكون حميد لم يصرح بالسماع من أنس، وهو صحيح لغيره بما سيأتي من طرق، فإن حميدًا قد توبع
ترقیم دار السلفیہ: 44 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 44
نا نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبِيدَةَ ، عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالسَّدَادِ، فَقَدْ ذَهَبَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْلَمُونَ فِيمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ" .
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رحمہ اللہ سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل سے ڈرو اور درست راستے پر چلو، کیونکہ وہ لوگ جا چکے جو جانتے تھے کہ قرآن کن امور کے بارے میں نازل ہوا تھا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 44، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30723»
الحكم على الحديث: سنده صحيح على شرط الشيخين.
ترقیم دار السلفیہ: 45 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 45
نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ الأَنْصَارِيِّ الْبَصْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَطُوفُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ يُوسُفَ، وَيَجْتَمِعُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَإِذَا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ الْحَسَنُ: كُنْتُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، فَمَرَّ بِهَذَا السَّائِلِ، فَقَامَ، فَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ عِمْرَانُ : إِنَّا للَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اذْهَبْ بِنَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَأُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ" .
خیثمہ بن ابی خیثمہ الانصاری البصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص طواف کر رہا تھا اور سورہ یوسف کی تلاوت کر رہا تھا، لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے، جب وہ فارغ ہوا تو سوال کرنے لگا۔ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، وہ اس سائل کے پاس سے گزرے، رک کر اس کی قراءت سنی، جب وہ فارغ ہوا اور سوال کیا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ ! ہمیں یہاں سے لے چلو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو قرآن پڑھے، وہ اللہ عزوجل سے مانگے، کیونکہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي فى (جامعه) برقم: 2917، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 45، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20202، 20236، 20263، 20316، والبزار فى (مسنده) برقم: 3553، 3554، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30624، والطبراني فى(الكبير) برقم: 370، 371، 372، 373، 374»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خيثمة، وهو حسن لغيره كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 46 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 46
نا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ لَمْ يُحَاجِّهِ الْقُرْآنُ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسَ مِائَةِ آيَةٍ أَصْبَحَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنَ الأَجْرِ، وَالْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں سو آیات کی تلاوت کرے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا اجر لکھ دیا جاتا ہے، اور جو دو سو آیات پڑھے، قرآن اس کے خلاف حجت نہیں ہوگا، اور جو پانچ سو آیات پڑھے، وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ اس کے لیے ایک قنطار اجر لکھا جائے گا، اور قنطار بارہ ہزار (درہم) کے برابر ہوتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى (مسنده) برقم: 3502، 3510، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 46، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3473»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مرسله الحسن البصري.
ترقیم دار السلفیہ: 47 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 47
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ، وَسُئِلَ مَنْ أَقْرَأُ النَّاسِ؟، قَالَ:" مَنْ إِذَا سَمِعْتَ قِرَاءَتَهُ رَأَيْتَ أَنَّهُ يَخْشَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
طاووس رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے طلق بن حبیب رحمہ اللہ سے بہتر قراءت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، اور (یہ کہتے ہوئے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ان سے پوچھا گیا: سب سے بہترین قاری کون ہے؟ تو فرمایا: وہ شخص، جس کی قراءت سن کر تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى (مسنده) برقم: 3532، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 47، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4185، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8834، 30564، 30565»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ واضطرابه في الحديث، وهو حسن لغيره كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 48 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 48
نا نا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " إِنَّا قَوْمٌ أُوتِينَا الإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نُؤْتَى الْقُرْآنَ، وَإِنَّكُمْ قَوْمٌ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُؤْتَوُا الإِيمَانَ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن سے پہلے ایمان عطا کیا گیا، اور تم وہ لوگ ہو جنہیں ایمان سے پہلے قرآن عطا کیا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 48، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5374»
الحكم على الحديث: الحديث سنده رجاله ثقات، إلا أنه ضعيف للانقطاع بين أبي السفر وحذيفة، لكنه حسن لغيره بالمتابعة الآتية، وصحيح لغيره بما سيأتي له من شواهد.
ترقیم دار السلفیہ: 49 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 49
نا نا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَعْنٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " مَا خَيَّبَ اللَّهُ بَيْتًا أَوَى إِلَيْهِ امْرؤٌ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، أَوْ آلِ عِمْرَانَ، أَوْ بَعْضِ صَوَاحِبِهِنَّ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کبھی اس گھر کو بے برکت نہیں کرتا جہاں کوئی شخص سورہ البقرہ یا سورہ آل عمران، یا ان میں سے کسی کا کچھ حصہ پڑھ کر رہتا ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف للانقطاع بين معن وجده عبد الله بن مسعود.
ترقیم دار السلفیہ: 50 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 50
نا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَوْصِنِي، فَقَالَ: " إِذَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، فَأَصْغِ لَهَا سَمْعَكَ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ تُؤْمَرُ بِهِ، أَوْ شَرٌّ تُصْرَفُ عَنْهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا: مجھے نصیحت فرمائیں! آپ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل کو اپنی کتاب میں یہ فرماتے سنو ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ تو اپنے کانوں کو متوجہ کرلو، کیونکہ یا تو کوئی بھلائی ہے جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے، یا کوئی برائی ہے جس سے تمہیں روکا جا رہا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 50، 848»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لانقطاعه، فمسعر بن كدام لم يسمع من أحد من الصحابة