الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
كِتَاب الصَّلَاةِ
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
Prayer (Kitab Al-Salat)
10. باب إِذَا أَخَّرَ الإِمَامُ الصَّلاَةَ عَنِ الْوَقْتِ
باب: جب امام نماز کو دیر سے پڑھے تو کیا کرنا چاہئے؟
Chapter: (What Should Be Done) If the Imam Delays The Prayer.
حدیث نمبر: 431
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي عمران يعني الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يا ابا ذر، كيف انت إذا كانت عليك امراء يميتون الصلاة؟ او قال: يؤخرون الصلاة. قلت: يا رسول الله، فما تامرني؟ قال: صل الصلاة لوقتها، فإن ادركتها معهم فصلها، فإنها لك نافلة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ؟ أَوْ قَالَ: يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّهَا، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے؟ یا فرمایا: نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو (دوبارہ) پڑھ لیا کرو ۱؎، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 41 (648)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (176)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 150 (1256)، (تحفة الأشراف: 11950)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 2 (780)، 55 (860)، مسند احمد (5/168، 169)، سنن الدارمی/الصلاة 25 (1264) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام فتنہ کی خبر دی ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں حکام وقت پر ثابت ہو چکی ہے اور اب حکام اور عوام سب ہی اس میں مبتلا ہیں «الا من رحم ربی» ۔ نماز کو بے وقت کر کے پڑھنا اس کی روح نکال دینے کے مترادف ہے گویا اسے مار ڈالا گیا ہو اور ایسی نماز اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ نماز سرے سے چھوڑ دینا تو اور زیادہ ظلم ہے۔ ایسی صورت میں جب حاکم یا اہل مسجد افضل اور مختار وقت کے علاوہ میں نماز ادا کرتے ہوں تو متبع سنت کو صحیح اور مختار وقت میں اکیلے ہی نماز پڑھنی چاہیے۔ اگر انسان مسجد میں یا ان کی مجلس میں موجود ہو تو ان کے ساتھ مل کر بھی پڑھ لے تاکہ فتنہ نہ ہو اور وحدت قائم رہے۔ پہلی نماز فرض ہو گی اور دوسری نفل، خواہ باجماعت ہی کیوں نہ پڑھی ہو۔

Abu Dharr said: "The Messenger of Allah ﷺ asked me: 'How will you act, Abu Dharr, when you are under rulers who kill prayer or delay it (beyond its proper time)?' I said: 'Messenger of Allah, what do you command me?' He replied: 'Offer the prayer at its proper time, and if you say it along with them, say it, for it will be a supererogatory prayer for you. '"
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 431


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 432
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم دحيم الدمشقي، حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، حدثني حسان يعني ابن عطية، عن عبد الرحمن بن سابط، عن عمرو بن ميمون الاودي، قال: قدم علينا معاذ بن جبل اليمن رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم إلينا، قال: فسمعت تكبيره مع الفجر رجل اجش الصوت، قال: فالقيت عليه محبتي، فما فارقته حتى دفنته بالشام ميتا، ثم نظرت إلى افقه الناس بعده، فاتيت ابن مسعود فلزمته حتى مات، فقال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:" كيف بكم إذا اتت عليكم امراء يصلون الصلاة لغير ميقاتها؟ قلت: فما تامرني إن ادركني ذلك يا رسول الله؟ قال: صل الصلاة لميقاتها، واجعل صلاتك معهم سبحة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ، قَالَ: فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي، فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ مَيِّتًا، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا؟ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً".
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہو گئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ (تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں) چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے؟، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9487)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (534)، سنن النسائی/الإمامة 2 (780)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 150 (1255)، مسند احمد (1/379، 455، 459) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ نماز اوّل وقت میں پڑھنا افضل ہے، دوسرے یہ کہ جماعت کے لئے اسے مؤخر کرنا جائز نہیں، تیسرے یہ کہ جو نماز پڑھ چکا ہو اس کا اسی دن اعادہ (دہرانا) جائز ہے بشرطیکہ اس اعادہ کا کوئی سبب ہو، ایک ہی نماز کو ایک ہی دن میں دوبارہ پڑھنے کی جو ممانعت آئی ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ اس کا کوئی سبب نہ ہو، چوتھے یہ کہ پہلی نماز فرض ہوگی اور دوسری جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی ہے نفل ہو گی۔

Narrated Abdullah ibn Masud: Amr ibn Maymun al-Awdi said: Muadh ibn Jabal, the Messenger of the Messenger of Allah ﷺ came to us in Yemen, I heard his takbir (utterance of AllahuAkbar) in the dawn prayer. He was a man with loud voice. I began to love him. I did depart from him until I buried him dead in Syria (i. e. until his death). Then I searched for a person who had deep understanding in religion amongst the people after him. So I came to Ibn Masud and remained in his company until his death. He (Ibn Masud) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: How will you act when you are ruled by rulers who say prayer beyond its proper time? I said: What do you command me, Messenger of Allah, if I witness such a time? He replied: Offer the prayer at its proper time and also say your prayer along with them as a supererogatory prayer.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 432


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 433
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي المثنى، عن ابن اخت عبادة بن الصامت،عن عبادة بن الصامت. ح وحدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سفيان المعنى، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي المثنى الحمصي، عن ابي ابي ابن امراة عبادة بن الصامت، عن عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنها ستكون عليكم بعدي امراء تشغلهم اشياء عن الصلاة لوقتها حتى يذهب وقتها، فصلوا الصلاة لوقتها، فقال رجل: يا رسول الله، اصلي معهم؟ قال: نعم، إن شئت، وقال سفيان: إن ادركتها معهم اصلي معهم؟ قال: نعم، إن شئت".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الْمَعْنَى، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ، وَقَالَ سُفْيَانُ: إِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہو۔ سفیان نے (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو اگر تم چاہو۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الصلاة 151 (1257)، (تحفة الأشراف: 5097)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/315، 329) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
یعنی اگر کوئی متبع سنت اپنی انفرادیت قائم رکھ سکتا ہو اور ایسے لوگوں پر حجت قائم کرتے ہوئے ان کے ساتھ شریک نہ ہوتا ہو تو جائز ہے اور اگر مل کر دوبارہ پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں دوسری نماز نفل ہو گی جیسے کہ پہلی احادیث میں گزرا۔

Narrated Ubadah ibn as-Samit: After me you will come under rulers who will be detained from saying prayer at its proper time by (their) works until its time has run out, so offer prayer at its proper time. A man asked him: Messenger of Allah, may I offer prayer with them? He replied: Yes, if you wish (to do so). Sufyan (another narrator through a different chain)said: May I offer prayer with them if I get it with them? He said: Yes, if you wish to do so.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 433


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 434
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا ابو هاشم يعني الزعفراني، حدثني صالح بن عبيد، عن قبيصة بن وقاص، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يكون عليكم امراء من بعدي يؤخرون الصلاة، فهي لكم وهي عليهم فصلوا معهم ما صلوا القبلة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ يَعْنِي الزَّعْفَرَانِيَّ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوْا الْقِبْلَةَ".
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے، یہ تمہارے لیے مفید ہو گی، اور ان کے حق میں غیر مفید، لہٰذا تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا جب تک وہ قبلہ رخ ہو کر پڑھیں ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11070) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: تفصیل پچھلی احادیث میں ذکر ہوئی ہے اور ایسی نمازیں تمہارے لیے باعث اجر اس لیے ہوں گی کہ اس تاخیر میں تمہارا اپنا قصور نہیں ہوگا جب کہ ان حکام کے جبر کی وجہ سے تم ان کی مخالفت کی بھی جرات نہ کر سکو گے۔ لہذا ان کی وجہ سے نماز میں تاخیر پر تم گناہ گار نہیں ہو گے بلکہ اس کا سارا وبال انہی پر ہو گا۔ «واللہ اعلم»، قبلہ رخ وہی نماز پڑھتا ہے جو مسلمان ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ نماز پڑھتے اور اسے قائم کرتے رہیں وہ مسلمان ہیں، نیک کاموں میں ان کی اطاعت واجب ہے۔

Narrated Qabisah ibn Waqqas: The Messenger of Allah ﷺ said: After me you will be ruled by rulers who will delay the prayer and it will be to your credit but to their discredit. So pray with them so long as they pray facing the qiblah.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 434


قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.