صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دعا مانگنا۔
ترقیم عبدالباقی: 897 ترقیم شاملہ: -- 2080
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا، وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى: " فَتَقَشَّعَتْ، عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ ".
عبدالاعلیٰ بن حماد اور محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، (بات شروع کرنے والے بدو کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہو گئے) وہ فریاد کرنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش بند ہو گئی، درختوں (کے پتے سوکھ کر) سرخ ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ اس میں عبدالاعلیٰ کی روایت سے یہ (الفاظ) ہیں: مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے جبکہ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک طرح کے تاج کے اندر (بارش سے محفوظ) تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2080]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پکارنے لگے: ”اے اللہ کے نبی! بارش بند ہو گئی، پودے سرخ ہو گئے یا درختوں کے پتے سوکھ گئے اور مویشی مرنے لگے۔“ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور عبدالاعلیٰ کی روایت میں ہے: ”مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے اور مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا، میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک دائرہ یا ٹوپی کی طرح اندر سے بارش سے محفوظ تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 897 ترقیم شاملہ: -- 2081
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ " فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ، وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ ".
سلمان بن مغیرہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا: اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم اسی (حالت) میں رہے حتیٰ کہ میں نے دیکھا ایک قوی اور مضبوط آدمی کو بھی اس کا دل (بارش کی کثرت کی بناء پر) اس فکر میں مبتلا کر دیتا تھا کہ وہ اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2081]
امام صاحب حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہی روایت ایک اور سند سے لائے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم رک گئے، اور میں نے دیکھا کہ قوی اور مضبوط آدمی کو بھی گھر پہنچنے کی پریشانی اور فکر تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2081]
ترقیم فوادعبدالباقی: 897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 897 ترقیم شاملہ: -- 2082
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَزَادَ: " فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلَاءُ حِينَ تُطْوَى ".
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جمعے کے دن ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منبر پر تھے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں نے بادل کو دیکھا وہ اس طرح چھٹ رہا تھا جیسے وہ ایک بڑی چادر ہو جب اسے لپیٹا جا رہا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2082]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو جمعہ کے دن جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: ”میں نے بادلوں کو اس طرح پھٹتے دیکھا، گویا وہ ایک بڑی چادر تھی، جس کو لپیٹ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 898 ترقیم شاملہ: -- 2083
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : " أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: " لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (سر اور کندھے کا کپڑا) کھول دیا حتیٰ کہ بارش آپ پر آنے لگی۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ نئی نئی (سیدھی) اپنے رب عز و جل کی طرف سے آ رہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2083]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا بدن سے ہٹا دیا حتیٰ کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر گرنے لگی، ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ وہ اپنے رب کے حکم سے اس کے پاس سے نئی نئی آ رہی ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 898
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ:
باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 899 ترقیم شاملہ: -- 2084
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي "، وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ: " رَحْمَةٌ ".
جعفر بن محمد نے عطاء بن ابی رباح سے روایت کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر پہچانا جا سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اضطراب کے عالم میں) کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، پھر جب بارش برسنے شروع ہو جاتی تو آپ اس سے خوش ہو جاتے اور وہ (پہلی کیفیت) آپ سے دور ہو جاتی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (ایک بار) آپ سے (اس کا سبب) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”میں ڈر گیا کہ یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو۔“ اور بارش کو دیکھ لیتے تو فرماتے ”رحمت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2084]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی یا بادل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر (خوف کی کیفیت) نمایاں ہوتی (اضطراب کی بنا پر) کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، پھر جب بارش برسنا شروع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خوش ہو جاتے اور خوف کی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جاتی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا سبب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”مجھے خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ میری امت پر عذاب ہی مسلط نہ کر دیا گیا ہو“ اور بارش کو دیکھ کر فرماتے: «رَحْمَةٌ» ”رحمت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 899
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 899 ترقیم شاملہ: -- 2085
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ "، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ".
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر (کا طلبگار ہوں) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ (اضطراب کے عالم میں) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ کیفیت) دور ہو جاتی، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہو سکتا ہے (یہ اسی طرح ہو) جیسے قوم عاد نے (بادلوں کو دیکھ کر) کہا تھا: «فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا» (جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2085]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب تیز ہوا چلتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر و بھلائی کا طالب ہوں، اور جو اس میں ہے اس کی خیر کا اور جو کچھ اس کے ساتھ اس میں بھیجا گیا ہے اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر سے، اور جو اس میں ہے اس کے شر سے، اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) بیان فرماتی ہیں: ”جب آسمان پر بادل گرجتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اضطراب اور ڈر سے) کبھی اندر آتے اور کبھی باہر نکلتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اور جب بارش ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”جب مجھے اس کیفیت کا پتہ چلا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہو سکتا ہے یہ وہی صورت ہو جیسے عاد کی قوم نے دیکھ کر کہا تھا: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”جب انھوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔“““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 899
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 899 ترقیم شاملہ: -- 2086
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ".
سلمان بن یسار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پوری طرح اس طرح ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہوا حصہ دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر عیاں ہو جاتا تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس (بادل) کو دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب (نہ) ہو، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو (دور) سے دیکھا تو کہا: ”یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2086]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح کھل کر ہنستے نہیں دیکھا کہ میں آپ کا کوا دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی (تند و تیز ہوا) دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر ظاہر ہو جاتا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں اسی امید پر کہ بارش ہو گی، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناخوشی محسوس کرتی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب ہو۔ ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی، ایک قوم نے عذاب دیکھ کر کہا: ﴿هَٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 899
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب فِي رِيحِ الصَّبَا وَالدَّبُورِ:
باب: باد صبا اور تیز آندھی کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 900 ترقیم شاملہ: -- 2087
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ".
مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باد صبا (مشرقی سمت سے چلنے والی ہوا) سے میری مدد کی گئی ہے اور باد دبور (مغربی سمت سے چلنے والی ہوا) سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2087]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بادِ صبا (مشرقی ہوا) سے مدد کی گئی ہے اور عادیوں کو بادِ دبور (مغربی ہوا) سے ہلاک کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 900
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 900 ترقیم شاملہ: -- 2088
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2088]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 900
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة