صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلاَثِينَ يَوْمًا:
باب: اس بیان میں کہ روزہ اور افطار چاند دیکھ کر کریں اور اگر بدلی ہو تو تیس تاریخ پوری کریں۔
ترقیم عبدالباقی: 1081 ترقیم شاملہ: -- 2515
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ ".
ربیع، ابن مسلم، محمد، ابن زیاد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2515]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو۔ اگر مہینہ کا چاند دکھائی نہ دے تو گنتی پوری کر لو۔(تیس دن پورے کرو)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2515]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1081
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1081 ترقیم شاملہ: -- 2516
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ، فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2516]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا تذکرہ کیا اورفرمایا: ”جب تم اسے دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو۔ اگر مطلع ابر آلود اور اگر چاند تمھیں دکھائی نہ دے تو گنتی تیس کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2516]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1081
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1081 ترقیم شاملہ: -- 2517
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار (عید) کرو۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2517]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا تذکرہ کیا اورفرمایا: ”جب تم اسے دیکھ لو تو روزہ رکھو اورجب تم اسے پھر دیکھ لو تو روزہ افطارکرو پس اگر تم پر گرد و غبار چھا جائے تو تیس دن گنو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2517]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1081
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ:
باب: رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1082 ترقیم شاملہ: -- 2518
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ "،
علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتا تھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2518]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھو مگر وہ آدمی جس کا روزہ رکھنے کا معمول ہو تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2518]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1082
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1082 ترقیم شاملہ: -- 2519
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
معاویہ، ابن سلام، ابن مثنیٰ، ابوعامر، ہشام، ابن مثنیٰ، ابن ابی عمر، عبدالوہاب بن عبدالمجید، ایوب، ذہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2519]
امام صاحب اپنے کئی اساتذہ سے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند ہی سے یہ روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2519]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1082
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ:
باب: مہینہ انتیس دنوں کا (بھی) ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1083 ترقیم شاملہ: -- 2520
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ، فَقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
معمر، حضرت زہری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: (باریوں کا) آغاز مجھ سے فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئیں گے۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں، میں گنتی رہی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2520]
امام زہری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ میں ایک ماہ اپنی بیویوں کے پاس نہیں جاؤں گا۔ زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں مجھے عروہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت سنائی کہ جب انتیس دن گزر گئے میں انہیں گنتی رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آغاز مجھ سے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمارے پاس ایک ماہ نہ آنے کی قسم اٹھائی تھی۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں۔ میں گنتی رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ انتیس کا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1083
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1084 ترقیم شاملہ: -- 2521
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الشَّهْرُ، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ ".
لیث، ابن زبیر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔“ اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ ایک انگلی کو بند فرما لیا۔ (اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2521]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سےایک ماہ کے لیے الگ ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس تاریخ کو ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے عرض کیا، آج تو انتیس تاریخ ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ تین بار ملائے اور آخری بار ایک انگلی روک لی۔ یعنی انتیس (29) کا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1084
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1084 ترقیم شاملہ: -- 2522
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثًا، مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا ".
ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ نو انگلیوں کے ساتھ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2522]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ کے لیے اپنی عورتوں سے الگ ہو گئے اور ہمارے پاس انتیس تاریخ کی صبح کو تشریف لائے (انتیس کے گزرنے کے بعد والی صبح) بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو انتیس دن پورے ہوئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ ملایا دوفعہ دونوں ہاتھوں کی پوری انگلیاں ملائیں اور تیسری دفعہ ان میں سے نو کو ملایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1084
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1085 ترقیم شاملہ: -- 2523
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ، فَقِيلَ لَهُ: حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، قَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا "،
حجاج بن محمد، ابن جریج، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی، عکرمہ بن عبدالرحمن بن حارث، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2523]
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کے پاس ایک ماہ نہیں جائیں گے۔ جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صبح یا شام کو ان کے پاس تشریف لے گئے تو آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک مہینہ نہیں آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2523]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1085 ترقیم شاملہ: -- 2524
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ضحاک، ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2524]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے ابن جریج کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1085
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة