صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
657. (424) بَابُ ذِكْرِ الْمُصَلِّي يَشُكُّ فِي صَلَاتِهِ
اس نمازی کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: Q1020
وَالْأَمْرِ بِأَنْ يَسْجُدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُخْتَصَرٍ غَيْرِ مُتَقَصًّى، قَدْ يَحْسِبُ كَثِيرٌ مِمَّنْ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْمُفَسَّرِ وَالْمُجْمَلِ، وَلَا يَفْهَمُ الْمُخْتَصَرَ وَالْمُتَقَصَّى مِنَ الْأَخْبَارِ، أَنَّ الشَّاكَّ فِي صَلَاتِهِ جَائِزٌ لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَى الشَّكِّ بَعْدَ أَنْ يَسْجُدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ
حدیث نمبر: 1020
نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ سَعِيدٌ ثنا، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلاتِهِ فَيُلْبِسُ عَلَيْهِ صَلاتَهُ حَتَّى لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ" وَهَكَذَا مَعْنَى خَبَرِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلاثًا، أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک شیطان تم میں سے کسی شخص کے پاس آتا ہے جبکہ وہ اپنی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، تو وہ اس کی نماز کو خلط ملط کر دیتا ہے، حتیٰ کہ اُسے پتہ نہیں چلتا کہ اُس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں - تو جس شخص کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑھے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ جناب یحیٰی بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو کی روایت کا مفہوم بھی اسی طرح کا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حتیٰ کہ نمازی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں، تین پڑھی ہیں یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 608، 1222، 1231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 389، ومالك فى (الموطأ) برقم: 223، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 392، 1020، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 16، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 669، وأبو داود فى (سننه) برقم: 516، 1030، والترمذي فى (جامعه) برقم: 397، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1216، 1217، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2065، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1403، 1404، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7406»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (نمازی) بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تو وہ دو سجدے کرلے جبکہ وہ (تشہد میں) بیٹھا ہوا ہو ـ“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1021، وأخرجه أبو داود: برقم: 1021، وأخرجه الترمذي: 396،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1204»
حدیث نمبر: 1022
وَفِي خَبَرِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَهَا فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". وَفِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَمُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَكِّ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". خَرَّجْتُ هَذِهِ الأَخْبَارَ بِأَسَانِيدِهَا فِي كِتَابِ الْكَبِيرُ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ مُخْتَصَرَةٌ غَيْرُ مُتَقَصَّاةٍ
سیدنا عبداللہ بن جعفر اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ہے کہ ”جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ تشہد میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔“ (صاحب کتاب کا بیان ہے کہ) میں نے یہ احادیث ان کی اسانید کے سات کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں۔ اور یہ الفاظ مختصر غیر مفصل ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1022، وأخرجه والنسائي: برقم: 1261»
658. (425) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُتَقَصَّى فِي الْمُصَلِّي شَكَّ فِي صَلَاتِهِ وَالْأَمْرِ بِالْبِنَاءِ عَلَى الْأَقَلِّ مِمَّا يَشُكُّ فِيهِ الْمُصَلِّي،
اپنی نماز میں شک کرنے والے کے متعلق تفصیلی روایت کا بیان اور جتنی رکعات میں نمازی کو شک ہو ان میں کم پر بنیاد رکھنے حُکم کا
حدیث نمبر: Q1023
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ الشَّاكَّ فِي صَلَاتِهِ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَمَا يَبْنِي عَلَى الْأَقَلِّ، فَيُتَمِّمُ صَلَاتَهُ عَلَى يَقِينٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ تَحَرٍّ
حدیث نمبر: 1023
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقین پر بنا کرے۔ پھر اگر اسے نماز مکمّل ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ دو (سہو کے) سجدے کرلے۔ اگر اس کی نماز پوری ہوئی تو اس کی وہ رکعت اور دو سجدے نفل ہوں گے، اور اگر نماز پوری نہ ہوئی تو یہ رکعت اس کی نماز مکمّل کر دے گی اور دو سجدے شیطان کو ذلیل و رسوا کر نے کا باعث ہوں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، 571، ومالك فى (الموطأ) برقم: 315، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1023، 1024، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1536، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3871، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241»
659. (426) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ يَسْجُدُهُمَا الشَّاكُّ فِي صَلَاتِهِ،
اس بات کا بیان کہ یہ دو سجدے جنہیں اپنی نماز میں شک کرنے والا ادا کرے گا
حدیث نمبر: Q1024
إِذَا بَنَى عَلَى الْيَقِينِ فَيَسْجُدُهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَا بَعْدَ السَّلَامِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ تَكُونَانِ بَعْدَ السَّلَامِ
حدیث نمبر: 1024
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَاجِشُونُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُمْ، وَهَذَا، حَدِيثُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقًا لِلْحَدِيثِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى وَاحِدَةً أَمِ اثْنَتَيْنِ أَمْ ثَلاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيُتَمِّمْ مَا شَكَّ فِيهِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ نَاقِصَةً فَقَدْ أَتَمَّهَا، وَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَ أَتَمَّ صَلاتَهُ فَالرَّكْعَةُ وَالسَّجْدَتَانِ لَهُ نَافِلَةٌ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ اُس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں، ایک، دو، تین یا چار پڑھی ہیں؟ تو وہ اتنی رکعات مکمّل کرلے جن میں اسے شک ہو، پھر وہ تشہد میں بیٹھے بیٹھے دو سجے کرلے، چنانچہ اگر اس کی نماز نا مکمّل تھی تو اُس نے اب پوری کرلی اور دو سجدے شیطان کی ذلت و خواری کا سبب ہوں گے، اور اگر اُس نے اپنی نماز مکمّل کرلی تھی تو (یہ زائد) رکعت اور دو سجدے اس کے لئے نفل ہوں گے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، 571، ومالك فى (الموطأ) برقم: 315، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1023، 1024، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1536، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3871، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241»
حدیث نمبر: 1025
ثنا بِهِ الرَّبِيعُ مَرَّةً أُخْرَى مِنْ كِتَابِهِ، وَقَالَ:" فَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ السَّلامِ". وَقَالَ أَبُو مُوسَى، وَالدَّوْرَقِيُّ، وَيُونُسُ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلا يَدْرِي ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلامِ، ثُمَّ بَاقِي حَدِيثِهِمْ مِثْلُ حَدِيثِ الرَّبِيعِ. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ عِنْدِي دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ صَاحِبَ الْمَالِ إِذَا كَانَ مَالُهُ غَائِبًا عَنْهُ، فَأَخْرَجَ زَكَاتَهُ وَأَوْصَلَهَا إِلَى أَهْلِ سُهْمَانَ الصَّدَقَةِ، نَاوِيًا إِنْ كَانَ مَالُهُ سَالِمًا فَهِيَ زَكَاتُهُ، وَإِنْ كَانَ مَالُهُ مُسْتَهْلَكًا فَهُوَ تَطَوُّعٌ، ثُمَّ بَانَ عِنْدَهُ وَصَحَّ أَنَّ مَالَهُ كَانَ سَالِمًا، أَنَّ مَالَهُ الَّذِي أَوْصَلَهُ إِلَى أَهْلِ سُهْمَانَ الصَّدَقَةِ كَانَ جَائِزًا عَنْهُ فِي الصَّدَقَةِ الْمَفْرُوضَةِ فِي مَالِهِ الْغَائِبِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَازَ عَنِ الْمُصَلِّي هَذِهِ الرَّكْعَةَ الَّتِي صَلاهَا بِإِحْدَى اثْنَتَيْنِ، إِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ الَّتِي صَلاهَا ثَلاثًا، فَهَذِهِ الرَّكْعَةُ رَابِعَةُ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً فَهَذِهِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةٌ، فَقَدْ أَجْزَتْ عَنْهُ هَذِهِ الرَّكْعَةُ مِنَ الْفَرِيضَةِ، وَهُوَ إِنَّمَا صَلاهَا عَلَى أَنَّهَا فَرِيضَةٌ أَوْ نَافِلَةٌ
امام صاحب فرماتے ہیں کہ امام ربیع نے ہمیں ایک مر تبہ اپنی کتاب سے بیان کر تے ہوئے فرمایا کہ لہٰذا وہ یقین پر بنا کرے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے اور جناب ابوموسٰی دورتی اور یونس نے اپنی روایت میں کہا کہ جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے، پھر اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت پڑھ لینی چاہیے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرلے۔ ان کی باقی روایت جناب ربیع کی روایت کی طرح ہی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله نے فرمایا کہ اس حدیث میں میرے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ مالدار شخص کا مال جب اس کے پاس موجود نہ ہو (تجارت وغیرہ کی غرض سے کسی علاقے میں بیٹھا ہوا ہو) پھر وہ اس کی زکوٰۃ نکال کر صدقے کے حق داروں کو پہنچادے اور اس کی نیت یہ ہو کہ اگر اس کا مال صحیح سلامت ہوا تو یہ اس کی زکوٰۃ ہے اور اگر اس کا مال ہلاک و تباہ ہو چکا ہوا تو یہ نفلی صدقہ ہے، پھر اسے صحیح اطلاع مل گئی کہ اس کا مال صحیح سلامت ہے تو اس کا وہ مال جو اُس نے اپنے غیر موجود مال کی فرض زکوٰۃ کے طور پر صدقہ و زکوٰۃ کے حق داروں کو پہنچایا تھا وہ جائز اور درست ہو گا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کی ایک رکعت کو جائز قرار دیا ہے۔ جو اُس نے دو طرح کی نیت سے ادا کی تھی۔ کہ اگر اس کی ادا شدہ نماز تین رکعات ہوئی تو یہ اس کی چوتھی فرض رکعت ہوگی، اور اگر اس کی نماز مکمّل ہو چکی تھی تو یہ رکعت نفل ہوگی۔ اور اس کی یہ رکعت فرض نماز سے کفایت کرجائے گی حالانکہ اس نے یہ رکعت فرض یا نفل کی نیت سے ادا کی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، 571، ومالك فى (الموطأ) برقم: 315، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1023، 1024، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1536، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3871، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241»
660. (427) بَابُ الْأَمْرِ بِتَحْسِينِ رُكُوعِ هَذِهِ الرَّكْعَةِ وَسُجُودِهَا الَّتِي يُصَلِّيهَا لِتَمَامِ صَلَاتِهِ أَوْ نَافِلَتِهِ
اس رکعت کے رکوع اور سجود کو خوب اچھی طرح ادا کرنے کا بیان جسے وہ اپنی نماز کی تکمیل یا بطور نفل پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 1026
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، ثَلاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَةً يُحْسِنُ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَجَدْتُ هَذَا الْخَبَرَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابَ أَيُّوبُ مَوْقُوفًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخُو عَاصِمٍ، وَوَاقِدٍ، وَهُوَ أَكْبَرُهُمْ. قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: عَاصِمٌ، وَعُمَرُ، وَزِيدٌ، وَوَاقِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَفَرْقَدٌ، هَؤُلاءِ كُلُّهُمْ إِخْوَةٌ، وَعَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ لَنَا الدَّارِمِيُّ هَذَا فِي عَقِبِ خَبَرِهِ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، تین رکعات یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت پڑھ لے، اس کے رکوع و سجود خوب سنوار کر ادا کرے اور (آخر میں) دو سجدے کر لے۔“ محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ایوب کی کتاب میں ایک اور جگہ پر موقوف بھی دیکھی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ عمر بن محمد، وہ زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے اور عاصم اور واقد کا بڑا بھائی ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سعید الداری رحمه الله کو فرماتے ہوئے سنا کہ عاصم، عمر، زید، واقد، ابوبکر اور فرقد یہ سب بھائی ہیں۔ اور عاصم وہ محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام درامی نے ہمیں یہ بات اپنی روایت کے بعد بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1026، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 965، 1207، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3880»