🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
739. (506) بَابُ ذِكْرِ صِفَةِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ
نماز تہجّد میں جہری قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1161
نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لأَبِي بَكْرٍ:" يَا أَبَا بَكْرٍ! مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتَكِ" , قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ،" وَمَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَسَبْتُ بِهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَاحْتَسِبُ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ:" ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ فِي كِتَابِ الإِمَامَةِ ذِكْرَ نُزُولِ هَذِهِ الآيَةِ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ پست آواز کے ساتھ نماز (تہجد) پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قریب سے بھی گزرے تو وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ـ پھر جب وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر میں تیرے پاس سے گزرا تھا اور تم نماز پڑھ رہے تھے اور قراءت آہستہ آواز سے کر رہے تھے اُنہوں نے عرض کی کہ میں جس ذات کے ساتھ مناجات کر رہا تھا میں نے اسے سنا لیا ہے۔ اور اے عمر میں تیرے پاس سے گزرا تو تم بہت بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے - اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، مجھے اس سے ثواب کی امید ہے، میں سونے والے کو جگانا چاہتا تھا اور اس پر اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: تم اپنی آواز کچھ بلند کرلو۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کچھ آہستہ کرلو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس آیت «‏‏‏‏وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» ‏‏‏‏ [ سوره الاسراء: 110 ] کا شان نزول کتاب الامامته میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1161]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1161، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 733، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1172، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1329، والترمذي فى (جامعه) برقم: 447، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4775، 4776، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7219»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
740. (507) بَابُ الزَّجْرِ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا تَأَذَّى بِالْجَهْرِ بَعْضُ الْمُصَلِّينَ غَيْرَ الْجَاهِرِ بِهَا
نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے کی ممانعت کا بیان جبکہ بلند آواز سے قراءت کرنے سے آہستہ آواز سے قراءت کرنے والے نمازیوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1162
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اعْتَكَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ، زَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، وَقَالا: فَكَشَفَ السُّتُورَ، وَقَالَ:" أَلا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلا يَرْفَعَّنَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ الْقِرَاءَةَ". قَالَ مُحَمَّدٌ:" أَوْ فِي الصَّلاةِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا تو صحابہ کرام کو بلند آواز سے قرأت کرتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبہ نما خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: آگاہ رہو، بیشک تم سب اپنے رب کی مناجات کر رہے ہو، لہٰذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ، اور نہ ایک دوسرے پر بلند آواز سے قراءت کرو۔ جناب محمد بن یحییٰ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ یا نماز میں (بلند قراءت نہ کرو۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1162]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1162، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1173، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1332، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12077، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 883، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4216»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
741. (508) بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ كُلَّ لَيْلَةٍ اسْتِنَانًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے ہر رات سورہ بنی اسرائیل اور سورہ الزمر کی قرأت کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1163
إِنْ كَانَ أَبُو لُبَابَةَ هَذَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِخَبَرِهِ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُهُ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ
اگر ابولبابہ راوی کی حدیث سے دلیل لینا جائز ہو، کیونکہ مجھے اس کی تعدیل اور جرح کا علم نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: Q1163]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1163
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ ، سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَالزُّمَرَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسلسل نفلی) روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناغہ نہیں کرنا چاہتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسلسل) ناغہ کرتے حتیٰ کہ ہم کہنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنا نہیں چاہتے - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورہ بنی اسرائیل اور سورہ الزمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1163، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3646، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2346، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2920، 3405، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
742. (509) بَابُ ذِكْرِ عَدَدِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ
ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجّد کی رکعات کی تعداد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1164
بَعْضُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّهُ خِلَافُ بَعْضِ أَخْبَارِ عَائِشَةَ فِي عَدَدِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . حَدَّثَنَاهُ الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات (نماز تہجّد) پڑھتے تھے ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1138، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 764، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1164، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2611، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 442، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1361، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2047»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1165
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بَعْدَ الْعَتَمَةِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کے بعد تیرہ رکعات ادا کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1165، 1674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15296»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
743. (510) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الَّذِي قَدْ يُخَيَّلُ إِلَى بَعْضِ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّهُ خِلَافُ خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُهُ
اس روایت کا بیان جسے بعض کم علم لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سابقہ روایت کے خلاف سمجھتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1166
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ، وَلا يَنَامُ قَلْبِي"
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمان بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان المبارک میں نماز کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعات ادا کرتے، ان کی خوبصورتی اور طوالت کے متعلق مت پوچھو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعات ادا کرتے، ان کی خوبصورتی اور طوالت کے متعلق مت پوچھو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات ادا کرتے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ، بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، 1969، 1970، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، ومالك فى (الموطأ) برقم: 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، 1166، 1283، 1626، 2078، 2133، 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
744. (511) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ ثَالِثٍ
اس سلسلے کی تیسری روایت کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1167
إِخَالُهُ يَسْبِقُ إِلَى قَلْبِ بَعْضِ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّهُ يُضَادُّ الْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْتُهُمَا قَبْلُ فِي الْبَابَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنِ
میرا خیال ہے کہ تبحر علمی سے محروم شخص کے دل میں یہ بات آئے گی کہ یہ روایت گذشتہ دو ابواب میں مذکورہ روایات کے خلاف ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: Q1167]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وتروں سمیت نو رکعات (نماز تہجّد) پڑھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1114، 1167، 1199، 1245، 1246، 1247، 1248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 356، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1027، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 955، 1251، والترمذي فى (جامعه) برقم: 375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1150، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24653»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں