صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1052. (101) بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ الْمَأْمُومَ بِالرُّكُوعِ،
مقتدی کا امام سے پہلے رکوع میں جانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1594
أنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ . ح وَثنا أَيْضًا سَعِيدٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي قَدْ بَدِنْتُ، فَلا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَإِنَّكُمْ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ، تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ، تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَذْكُرِ الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِ يَحْيَى:" وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ" إِلَى آخِرِهِ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ:" إِنِّي قَدْ بَدِنْتُ أَوْ بَدَّنْتُ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بلا شبہ میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا تم مجھ سے پہلے رکوع و سجود نہ کیا کرو۔ کیونکہ میں رکوع کرتے وقت تم پر جتنی بھی سبقت کروں گا وہ تم میرے سر اُٹھانے کے بعد پا لوگے اور جب میں سجدہ کرتے ہوئے تم سے جتنی بھی سبقت کروں گا تم وہ میرے سر اٹھانے کے بعد پا لوگے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب مخزومی نے یحییٰ کی روایت میں یہ الفاظ بیان نہیں کیے کہ میں سجدہ کرتے وقت تم سے جتنی بھی سبقت کروں گا ـ اور جناب یحیٰی بن حکیم کی روایت میں ہے کہ بلاشبہ میں بھاری جسم والا ہوگیا ہوں یا میں کمزور اور عمر رسیدہ ہو گیا ہوں ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 354، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1594، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2229، 2230، وأبو داود فى (سننه) برقم: 619، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1354، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2639، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17113»
1053. (102) بَابُ ذِكْرِ الْوَقْتِ الَّذِي فِيهِ الْمَأْمُومُ مُدْرِكًا لِلرَّكْعَةِ إِذَا رَكَعَ إِمَامُهُ قَبْلُ
اُس وقت کا بیان جس میں مقتدی رکعت کو پانے والا شمار ہوگا، جبکہ اُس کے امام نے اس سے پہلے رکوع کرلیا ہو
حدیث نمبر: 1595
أنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاةِ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا قَبْلَ أَنْ يُقِيمَ الإِمَامُ صُلْبَهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اُس نے نماز کو پا لیا، امام کی کمر کو سیدھا کرنے سے پہلے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ پس بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اُٹھاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تمہارا تاخیر سے رکوع کرنا اور تاخیر سے سر اُٹھانا) وہ برابر ہو جائے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 556، 580، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 607، ومالك فى (الموطأ) برقم: 20، وابن الجارود فى "المنتقى"، 170، 353، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1595، 1848، 1849، 1850، 1851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1483، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 514، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1121، والترمذي فى (جامعه) برقم: 524، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 700 م، 1121، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1805، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1313، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7404»
1054. (103) بَابُ رَفْعِ الْإِمَامِ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَبْلَ الْمَأْمُومِ
امام کا مقتدی سے پہلے رکوع سے سر اُٹھانا
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ پس بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اُٹھاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تمہارا تاخیر سے رکوع کرنا اور تاخیر سے سراٹھانا) وہ برابر ہو جائے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1584، 1593، 1596، 1601، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2167، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 972، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 847، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2661، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19813»
1055. (104) بَابُ الْأَمْرِ بِتَحْمِيدِ الْمَأْمُومِ رَبَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- عِنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَجَاءُ مَغْفِرَةِ ذُنُوبِهِ إِذَا وَافَقَ تَحْمِيدُهُ تَحْمِيدَ الْمَلَائِكَةِ
رکوع سے سر اُٹھانے کے بعد مقتدی کا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرنے اور اُسے اپنے گناہوں کی بخشش کی امید رکھنے کا بیان جبکہ اس کی حمد وثناء فرشتوں کی حمد وثنا کے موافق ہوجائے
حدیث نمبر: 1597
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الأَمِيرَ، فَقَدْ عَصَانِي، إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ، غُفِرَ لَهُ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِهِ، وَيَهْلِكُ كِسْرَى وَلا كِسْرَى بَعْدُ، وَيَهْلِكُ قَيْصَرُ وَلا وَقَيْصَرَ مِنْ بَعْدِهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میری اطاعت کی تو اُس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس شخص نے میری نافرمانی کی تو اُس نے یقیناً اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کی، اور جس شخص نے امیر کی اطاعت کی تو اُس نے بلاشبہ میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی تو اُس نے یقیناً میری نافرمانی کی۔ بیشک امام ڈھال ہے، لہٰذا جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ اور جب وہ ” «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» “ کہے تو تم ” «رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ» کہو۔ جب اہل زمین کا قول آسمان والوں کے قول کے موافق ہو جائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“ کسریٰ (ایران کا بادشاہ) ہلاک ہوگا، تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا، اور قیصر (روم کا بادشاہ) ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 409، وابن الجارود فى "المنتقى"، 213، 352، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 569، 570، 575، 1575، 1576، 1582، 1583، 1597، 1613، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1804، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3، 846، 851، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2314، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1243، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7265»
1056. (105) بَابُ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ الْمَأْمُومَ بِالسُّجُودِ، وَثُبُوتِ الْمَأْمُومِ قَائِمًا، وَتَرْكِهِ الِانْحِنَاءَ لِلسُّجُودِ حَتَّى يَسْجُدَ إِمَامُهُ
سجدہ کرتے وقت امام کا مقتدی سے پہلے سجدے میں جانا اور مقتدی کا کھڑے رہنا، اور اس وقت تک سجدے کے لئے نہ جھکنا جب تک امام سجدے میں نہ چلا جائے
حدیث نمبر: 1598
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اُٹھا لیتے تھے، تو ہم اُس وقت تک کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم آپ کو سجدے کی حالت میں دیکھ لیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1598، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4082، والبزار فى (مسنده) برقم: 6629، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 417، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 9194»
حدیث نمبر: 1599
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ صَالِحٍ وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَحْنِ أَحَدُنَا ظَهْرَهُ، حَتَّى نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَوَى سَاجِدًا"
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ جب رکوع سے سر اُٹھاتے تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی کمر جھکا تا نہیں تھا حتّیٰ کہ ہم دیکھ لیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکمّل طور پر سجدے کی حالت میں چلے گئے ہیں ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 456، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1599، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 950، وأبو داود فى (سننه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 817، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3118، 4079، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19035»
1057. (106) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي مُبَادَرَةِ الْمَأْمُومِ الْإِمَامَ بِرَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ السُّجُودِ
سجدے سے امام سے پہلے سر اُٹھانے پر مقتدی کے لئے سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1600
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَبُو الْقَاسِمِ عَلَيْهِ السَّلامُ: " أَمَّا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ؟"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوالقاسم علیہ السلام نے فرمایا: ”وہ شخص جو امام سے پہلے اپنا سر اُٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کوگدھے کا سر بنا دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 691، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 427، بن الجارود فى "المنتقى"، 355، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1600، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2282، 2283، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 827، وأبو داود فى (سننه) برقم: 623، والترمذي فى (جامعه) برقم: 582، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 961، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2641، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7650»
1058. (107) بَابُ ذِكْرِ إِدْرَاكِ الْمَأْمُومِ مَا فَاتَهُ مِنْ سُجُودِ الْإِمَامِ بَعْدَ رَفْعِ الْإِمَامِ رَأْسَهُ.
اس بات کی بیان کہ امام کے سجدے کا جو حصّہ مقتدی سے فوت ہوجائے گا مقتدی اسے امام کے سر اُٹھانے کے بعد پالے گا
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ” بیشک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اُٹھاتا ہے تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا۔ (یعنی تمہارا دیر سے سجدہ کرنا اور دیر سے سر اُٹھا نا، اس سے تمہارا اور امام کا سجدہ برابر ہو جائے گا) اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”میں جس قدر بھی تم سے پہلے سجدے میں جاؤں گا تم وہ مقدار میرے سر اٹھانے کے بعد پا لوگے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1584، 1593، 1596، 1601، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2167، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 972، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 847، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2661، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19813»
1059. (108) بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْمَأْمُومِ الْإِمَامَ بِالْقِيَامِ وَالْقُعُودِ.
قیام اور قعود (بیٹھنے) میں مقتدی کا امام سے جلدی کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1602
نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَانْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ، وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ، فَلا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلا بِالسُّجُودِ، وَلا بِالْقِيَامِ وَلا بِالْقُعُودِ، وَلا بِالانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي، وَايْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رَأَيْتَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ متو جہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو، میں تمہارا امام ہوں لہٰذا تم مجھ سے پہلے رکوع اور سجود نہ کیا کرو۔ قیام، قعود اور نماز سے فارغ ہوتے وقت مجھ سے پہل نہ کیا کرو۔ بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ دیکھ لو جو میں دیکھتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ رؤو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنّت اور جہنّم دیکھی ہے -“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 426، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1602، 1715، 1716، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 797، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1362، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1288، وأبو داود فى (سننه) برقم: 624، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1356، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2634، 3107، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12179»
1060. (109) بَابُ افْتِتَاحِ الْإِمَامِ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا مِنْ غَيْرِ سَكْتٍ قَبْلَهَا
جہری قراءت والی نماز میں امام دوسری رکعت میں بغیر سکتے کے قراءت شروع کرے گا
حدیث نمبر: 1603
نا الْحُسَنُ بْنُ نَصْرِ الْمُعَارِكِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، نا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، نا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ فِي الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ بِـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَمْ يَسْكُتْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت میں کھڑے ہوتے تو آپ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے قراءت شروع کر دیتے اور سکتہ نہیں کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 599، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1603، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1936، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 787، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3132، 3133، 3134، والبزار فى (مسنده) برقم: 9805، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1193»