صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1061. (110) بَابُ تَخْفِيفِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِتْمَامِ.
امام کا ہلکی اور مکمّل نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 1604
نا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، نا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِي تَمَامٍ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی، مگر مکمّل نماز پڑھانے والے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 469، 473، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1604، 1717، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1759، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 789، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 823، وأبو داود فى (سننه) برقم: 853، والترمذي فى (جامعه) برقم: 237، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1295، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3050، 5346، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12148»
1062. (111) بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَطْوِيلِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ مَخَافَةَ تَنْفِيرِ الْمَأْمُومِينَ وَقُنُوتِهِمْ.
مقتدیوں کے متنفر ہونے اور ان کے فتنے میں مبتلا ہونے کے ڈر سے امام کا لمبی نماز پڑھانا منع ہے
حدیث نمبر: 1605
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ ، نا قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے عرض کی کہ بیشک میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی نماز سے پیچھے رہتا ہوں، کیونکہ وہ ہمیں بڑی طویل نماز پڑھاتا ہے، تو میں نے اس دن سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت میں ناراض ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے لوگو، بیشک تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں۔ تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ لوگوں میں کمزور، عمر رسیدہ اور حاجت مند افراد (بھی) ہوتے ہیں۔“ یہ بندار کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 90، 702، 704، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 466، وابن الجارود فى "المنتقى"، 356، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1605، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2137، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5860، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1294، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 984، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5347، 5348، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17339»
1063. (112) بَابُ قَدْرِ قِرَاءَةِ الْإِمَامِ الَّذِي لَا يَكُونُ تَطْوِيلًا.
امام کی قراءت کی اس مقدار کا بیان جو طویل شمار نہیں ہوگی
حدیث نمبر: 1606
نا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، نا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَهَذَا حَدِيثُ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ خَالِهِ وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ، وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں (امامت کراتے وقت) ہلکی نماز پڑھانے کا حُکم دیتے تھے اور آپ ہمیں سورة الصافات کی قراءت کرکے امامت کراتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1606، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1817، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 825، البيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5365، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4888»
حدیث نمبر: 1607
نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّارُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلاةَ مَعَنَا، قُلْتُ: مَا لَكَ لا تُصَلِّي مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ الصَّلاةَ، قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِيكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" ؟ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ثَلاثَةَ أَضْعَافِ مَا تُصَلُّونَ
جناب ابراہیم التیمی بیان کرتے ہیں کہ میرے والد گرامی نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی تو میں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک تم بہت ہلکی نماز پڑھتے ہو(اس لئے میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھتا) ـ میں نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کدھر گیا کہ بلا شبہ تم میں کمزور، عمر رسیدہ، اور ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں ـ (اس لئے ہلکی نماز پڑھایا کرو) اُنہوں نے جواب دیا کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ پھر انہوں نے ہمیں تمہاری نماز سے تین گنا زائد طویل نماز پڑھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10945، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3262، وأخرجه الطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1091»
1064. (113) بَابُ تَقْدِيرِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ بِضُعَفَاءِ الْمَأْمُومِينَ، وَكِبَارِهِمْ، وَذَوِي الْحَوَائِجِ مِنْهُمْ.
امام کا کمزور، عمر رسیدہ اور ضرورت مند مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 1608
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، فَقَالَ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَنِي عَلَى الطَّائِفِ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ تَجَوَّزْ فِي الصَّلاةِ، وَاقْدُرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ ؛ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ، وَذَا الْحَاجَةِ"
جناب مطرف بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف کا امیر بناکر بھیجتے وقت آخری وصیت یہ کی تھی کہ اے عثمان، نماز مختصر اور ہلکی پڑھانا اور (امامت کراتے وقت) کمزور لوگوں کا خیال رکھنا کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ، کمزور، بیمار اور حاجت مند افراد بھی ہوتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 468، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 423، 1608، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 727، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 671، وأبو داود فى (سننه) برقم: 531، والترمذي فى (جامعه) برقم: 209، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 714، 987، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2050، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16528»
1065. (114) بَابُ تَخْفِيفِ الْإِمَامِ الْقِرَاءَةَ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو لِبَعْضِ الْمَأْمُومِينَ.
کسی مقتدی کو کوئی ضرورت پیش آنے پر امام کا قراءت مختصر کردینے کا بیان
حدیث نمبر: 1609
نا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيَّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمَّهِ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ، أَوِ الْخَفِيفَةِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے دوران) ماں کے ساتھ موجود بچّے کے رونے کی آواز سُنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی یا ہلکی سورت کی قراءت کر لیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 709، 710، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 470، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1609، 1610، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2139، والترمذي فى (جامعه) برقم: 376، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4111، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1875، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12249»
1066. (115) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَخْفِيفِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو لِبَعْضِ الْمَأْمُومِينَ بَعْدَمَا قَدْ نَوَى إِطَالَتَهَا.
کسی مقتدی کو کوئی ضرورت پیش آنے پر امام کا مختصر نماز پڑھانا جبکہ وہ پہلے لمبی نماز پڑھانے کی نیت کر چکا ہو
حدیث نمبر: 1610
نا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاةِ، فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاتِي، مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ وَجْدِ أُمَّهِ مِنْ بُكَائِهِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نماز شروع کرتا ہوں تو میرا ارادہ طویل نماز پڑھانے کا ہوتا ہے، پھر میں بچّے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کو تکلیف ہوتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 709، 710، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 470، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1609، 1610، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2139، والترمذي فى (جامعه) برقم: 376، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4111، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1875، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12249»
1067. (116) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي خُرُوجِ الْمَأْمُومِ مِنْ صَلَاةِ الْإِمَامِ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو لَهُ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا إِذَا طَوَّلَ الصَّلَاةَ.
جب امام طویل نماز پڑھائے تو مقتدی کو دنیاوی امور میں سے کوئی حاجت پیش آنے پر نماز سے نکل جانے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 1611
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيَؤُمُّهُمْ، فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ مُعَاذٌ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ وَصَلَّى نَاحِيَةً، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: مَا لَكَ يَا فُلانُ؟ نَافَقْتَ؟ قَالَ: مَا نَافَقْتُ، وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلأُخْبِرَنَّهُ. قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ، ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّنَا، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا، وَسُورَةِ كَذَا"، فَقُلْنَا لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ، وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ؟ فَقَالَ: هُوَ نَحْوُ هَذَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر اپنے قبیلے میں واپس جاکر اُنہیں جماعت کراتے تھے۔ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنی قوم کو نماز پڑھائی تو سورة البقرة کی تلاوت شروع کر دی ـ تو ایک شخص جماعت سے الگ ہوگیا اور وہ ایک کونے میں ادا کر کے چلا گیا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ اے فلاں، تمہیں کیا ہوا ہے۔ کیا تم منافق ہوگئے ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ میں منافق نہیں ہوا اور میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو صورت حال سے آگاہ کروں گا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، بیشک سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جاکر ہمیں امامت کراتے ہیں اور گزشتہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی۔ پھر وہ آئے تو ہمیں امامت کرائی اور سورة البقرة کی تلاوت شروع کر دی اور بیشک ہم اونٹوں کے ذریعے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور (دن بھر) اپنے ہاتھوں سے محنت کرتے ہیں (اس لئے رات تک بہت زیادہ تھک جاتے ہیں) پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ کیا تم فتنہ باز ہو؟ فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔“ ہم نے عمرو سے پوچھا، حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» اور «وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ» پڑھاکرو۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں انہی جیسی سورتیں پڑھنے کا حُکم دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 700، 701، 705، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 465، وابن الجارود فى "المنتقى"، 357، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 521، 1611، 1633، 1634، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 830، وأبو داود فى (سننه) برقم: 599، والترمذي فى (جامعه) برقم: 583، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1333، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 836، 986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4108، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1075، 1076، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14410»
1068. (117) بَابُ الْأَمْرِ بِائْتِمَامِ أَهْلِ الصُّفُوفِ الْأَوَاخِرِ بِأَهْلِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ.
پچھلی صفوں والوں کو اگلی صفوں والوں کی اقتدا کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1612
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ أَبِي الأَشْهَبِ السَّعْدِيِّ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، نا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: " تَقَدَّمُوا، وَائْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلا يَزَالُ الْقَوْمُ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ" . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ: عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو صفوں میں پیچھے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”تم آگے بڑھ کر میری اقتدا کرو اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں اور کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہتے ہیں حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو پیچھے کر دیتا ہے۔“ یہ جناب وکیع کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 438، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1560، 1612، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 794، وأبو داود فى (سننه) برقم: 680، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 978، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5278، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11311»
1069. (118) بَابُ أَمْرِ الْمَأْمُومِ بِالصَّلَاةِ جَالِسًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُ جَالِسًا.
مقتدی کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کے حُکم کا بیان جبکہ اس کا امام بھی بیٹھ کر نماز پڑھائے
حدیث نمبر: 1613
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ، نا سُفْيَانُ، نا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً، قَالَ:" إِنَّ الإِمَامَ أَمِينٌ، أَوْ أَمِيرٌ، فَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک امام امانت دار ہے یا امیر ہے، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، اور اگر وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 409، وابن الجارود فى "المنتقى"، 213، 352، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 569، 570، 575، 1575، 1576، 1582، 1583، 1597، 1613، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1804، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3، 846، 851، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2314، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1243، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7265»