🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: ثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنَا فِي مَسْجِدِنَا فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ:" كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَامَ" .
ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آ کر کہنے لگے: میں تمھیں دکھانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھا کرتے تھے؟ چنانچہ بیان کرنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے، تو بیٹھ جاتے، پھر زمین کا سہارا لے کر اٹھتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 824، صحیح مسلم: 391، مختصراً»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلامُ عَلَى إِسْرَافِيلَ السَّلامُ عَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الصَّلاةِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مَا شَاءَ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، تو (تشہد میں) کہتے: جبرئیل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، اسرافیل پر سلام ہو اور فلاں فلاں پر سلام ہو، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلام ہے، چنانچہ جب آپ نماز میں (تشہد) بیٹھیں، تو یوں کہیں: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ» جب آپ یہ کلمات کہہ لیں تو زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان موجود ہر نیک آدمی کو اس کا سلام پہنچ جائے گا۔ پھر کہیں: «أَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» پھر جو (دعا) چاہیں، مانگیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 831، صحیح مسلم: 402»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثَنِي الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً أَوْ أَلا أُحَدِّثُكَ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْنَا أَوْ قَدْ عَلِمْنَا السَّلامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلاةُ؟ قَالَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
ابن ابی لیلٰی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے تو کہنے لگے: کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں؟ یا یوں کہا: کیا میں آپ کو حدیث نہ بیان کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟، فرمایا: یوں کہیں: اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی ہے، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6357، صحیح مسلم: 406»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ثُمَّ لَيَدَعُ لِنَفْسِهِ بِمَا بَدَا لَهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تشہد بیٹھے، تو چار چیزوں سے پناہ مانگے، جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے، پھر اپنے لیے جو چاہے، دعا مانگے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1377، صحیح مسلم: 588»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ " قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحَذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو" ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَنٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ وَعَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تُحَرِّكُ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ.
سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے، پھر دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت، کلائی اور کلائی کے جوڑ پر رکھا، پھر رکوع کیا، تو اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر سجدے میں گئے، تو ہاتھ کانوں کے برابر رکھے، پھر جب بیٹھے، تو بائیں پاؤں کو بچھایا اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کا کنارہ دائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر اپنی دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنایا، پھر انگلی کو اٹھایا، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دُعا پڑھ رہے تھے۔ پھر سردی کے موسم میں آنا ہوا، تو لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے کپڑے کی بڑی بڑی چادریں لی ہوئی ہیں اور نیچے سے ان کے ہاتھ (رفع الیدین کے لیے) حرکت کر رہے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/318، سنن أبي داود: 727، سنن النسائي: 889، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (480، 714) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1860) اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/231) نے صحیح کہا ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع: 3/312) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا وَبَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر دائیں طرف سلام پھیرتے پھر «السلام عليكم ورحمته الله» کہ کر بائیں طرف سلام پھیرتے حتی کہ دونوں طرف سے رخساروں کی سفیدی نظر آتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 1/408، 409، سنن أبي داود: 996، سنن النسائي: 1323-1326، سنن الترمذي: 295، سنن ابن ماجه: 914، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (728) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1990) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 4/471) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری کی متابعت ہوتی ہے، ابو اسحاق نے مسند احمد (1/408) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الأفعال الجائزة في الصلاة وغير الجائزة
نماز میں جائز اور ناجائز کاموں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں امام کو کسی غلطی پر متنبہ کرنا ہو، تو مرد «سبحان الله» کہیں اور خواتین تالی بجائیں (ہاتھ پر ہاتھ ماریں)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1203، صحیح مسلم: 422»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ صَفَّحْتُمْ، إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا ہو گیا ہے، جب آپ کو نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، تو تالیاں بجانے لگتے ہیں؟ حالانکہ یہ حکم تو صرف خواتین کے لیے ہے، اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ در پیش ہو جائے تو وہ «سبحان الله» کہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 684، صحیح مسلم: 421»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا قَهَرَنِي وَلا شَتَمَنِي وَلا ضَرَبَنِي، قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:" فَلا تَأْتِهِمْ" قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَتَطَيَّرُونَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلا يَصُدَّنَّهُمْ" قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيُّ يَخُطُّ فَمَنْ رَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ" قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَأَطْلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ آسِفٌ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَفَلا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا" فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ:" هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا" .
سیدنا معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، تو میں نے کہ دیا «يَرْحَمُكَ اللهُ» لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں، تو میں چپ کر گیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی استاذ ایسا نہیں دیکھا، جو آپ سے بہتر تعلیم دینے والا ہو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا، نہ برا بھلا کہا، نہ مارا، صرف اتنا فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں۔ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے، ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نہ جایا کریں۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں؟ فرمایا: یہ محض ان کا وہم ہے۔ یہ فال وغیرہ انہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ خط (لکیریں) کھینچتے ہیں؟، فرمایا: ایک نبی (ادریس علیہ السلام) خط کھینچا کرتے تھے، پس جس کا خط اس کے موافق ہو گیا، وہ تو درست ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میری ایک لونڈی احد اور جوانیہ پہاڑ کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اس کے پاس گیا، تو ایک بھیڑیا اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے کے جا چکا تھا، چونکہ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی ان کی طرح غصہ آ گیا، میں نے اس (لونڈی) کو زور دار تھپڑ مار دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا، تو آپ نے اسے میرے حق میں بہت بڑا گناہ خیال کیا۔ عرض کی کہ میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لائیں۔ میں اسے آپ کے پاس لے آیا، تو آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مؤمنہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 537»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بھی دو کالی چیزوں (سانپ اور بچھو) کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/473، سنن أبي داود: 921، سنن النسائي: 1203، سنن الترمذي: 390، سنن ابن ماجه: 1245، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (869)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2351) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/256) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 4/188) نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ سفیان کی متابعت ہوتی ہے، مسند احمد (2/473) میں یحییٰ بن ابی کثیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں