المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب في صلاة الخوف
صلاۃِ خوف (خوف کی حالت میں نماز) کا بیان
حدیث نمبر: 234
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ، قَالَ: ثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، قَالَ: " يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الإِمَامُ رَكْعَةً وَيَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلا يُسَلِّمُوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الإِمَامُ، فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا" ، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: مَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ إِلا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا، تو فرماتے: لوگوں کا ایک گروہ امام کے ساتھ آگے بڑھے اور امام انہیں ایک رکعت نماز پڑھا دے، جب کہ دوسرا گروہ نماز نہ پڑھے، بل کہ ان کے اور دشمن کے درمیان کھڑا رہے، جب وہ لوگ ایک رکعت پڑھ لیں، جو امام کے ساتھ تھے، تو وہ ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، سلام نہ پھیریں اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ آگے بڑھ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لیں، پھر امام جو کہ دو رکعتیں پڑھ چکا ہے، سلام پھیر دے، دونوں گروہ کھڑے ہو کر خود ہی ایک ایک رکعت ادا کر لیں، یوں دونوں گروہوں کی دو دو رکعتیں ادا ہو جائیں گی، اگر خوف بہت زیادہ ہو جائے، تو کھڑے کھڑے نماز پڑھ لیں یا سوار ہو کر پڑھ لیں، نیز منہ قبلہ کی جانب ہو یا کسی اور جانب۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4535»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 235
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاةَ الْخَوْفِ،" أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاتِهِمْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا حَتَّى أَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ" .
صالح بن خوات رحمہ اللہ اس آدمی سے بیان کرتے ہیں، جس نے غزوۃ ذات رقاع کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی کہ ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف میں شامل ہو گیا اور ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ایک رکعت پڑھا کر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو دوسری رکعت انہوں نے علیحدہ پڑھ لی، یہ دشمن کے سامنے صف میں کھڑے ہو گئے، تو دوسرا گروہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ایک رکعت ان کو پڑھائی اور سیدھے بیٹھ گئے، حتی کہ دوسری رکعت انہوں نے خود پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4129، صحيح مسلم: 842»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ: " تَقُومُ طَائِفَةٌ بَيْنَ يَدَيِ الإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ أَصْحَابِهِمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلاءِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ" ۔
سیدنا سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ایک گروہ امام کے آگے کھڑا ہو گا اور ایک گروہ امام کے پیچھے کھڑا ہو گا، پھر امام نے پیچھے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے (ایک رکعت پڑھائے) کرائے اور اپنی جگہ پر بیٹھا رہے گا حتی کہ وہ مزید ایک رکوع اور دو سجدے کر لیں (دوسری رکعت پڑ لیں)، پھر یہ اپنے ساتھیوں کی جگہ اور وہ ان کی جگہ چلے جائیں گے، امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے کرائے اور اپنی جگہ بیٹھا رہے حتی کہ وہ مزید ایک رکوع اور دو سجدے کر لیں، پھر سلام پھیر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4131، صحيح مسلم: 841»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: ثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4131، صحيح مسلم: 841»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَا يَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى سورة النساء آية 102" عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ جَرِيحًا .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کریمہ کے متعلق فرماتے ہیں: اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو (تو نماز جمع کر لو)، اس وقت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 238]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4599»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
12. باب النائم في الصلاة وقضاء الفوائت
نماز میں سو جانے والے اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کا بیان
حدیث نمبر: 239
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنْ صَلاةٍ أَوْ نَسِيَهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جونماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آئے، نماز پڑھ لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 597، صحيح مسلم: 684»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 240
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ يَتَنَحَّ عَنْ هَذَا الْمَنْزِلِ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا، سورج کی تپش نے ہی ہمیں بیدار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص اپنے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور دو رکعت نماز (سنت) ادا کی، پھر اقامت کہی گئی اور فرض نماز ادا کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 680/310»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
13. باب السهو
سجدہ سہو کا بیان
حدیث نمبر: 241
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنَا الْمَاجِشُونُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَرْبَعًا فَهُمَا تُرْغِمَانِ الشَّيْطَانَ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نماز میں شک ہو جائے کہ تین (رکعتیں) ہوئی ہیں یا چار تو وہ کھڑا ہو کر ایک رکعت اور پڑھ لے، تا کہ شک والی رکعت اضافی ہو جائے، پھر سلام سے پہلے دو سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت پڑھ لی ہیں، تو یہ سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر چار ہی پڑھی ہیں، تو شیطان کو ذلیل کر دیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 571»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 242
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحْنَا بِهِ فَمَضَى فِي صَلاتِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ" ، الْحَدِيثُ لِلدَّارِمِيِّ.
سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، تو دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے (تشہد نہ بیٹھے) ہم نے «سبحان الله» کہا، مگر آپ نے نماز جاری رکھی، پھر دو سجدے (سہو) کر کے سلام پھیر دیا۔ یہ الفاظ احمد بن سعید دارمی کے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1225، صحيح مسلم: 570»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ الْهِلالِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتِي الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرَ، وَإِمَّا الْعَصْرَ، أَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ كَالْمُغْضَبِ، فَذَهَبَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلاةُ قَصُرَتِ الصَّلاةُ، فَتَقَدَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوال آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی ایک ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز تھی، دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر غصے سے آگے بڑھے اور کھجور کے تنے کے پاس بیٹھ گئے، جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے کہتے چلے گئے کہ نماز کم ہو گئی ہے، نماز کم ہو گئی ہے، ذوالیدین رضی اللہ عنہ آ گے بڑھ کر پوچھنے لگے: اللہ کے رسول! نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ نے (مزید) دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر تکبیر کہہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہ کرسجدہ کیا، پھر تکبیر کہ کر سر اٹھایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1228، صحيح مسلم: 573»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح