🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. ما جاء في صلاة المسافر
مسافر کی نماز کے بارے میں جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثَنِي عُقْبَةُ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ" قَالَ: قُلْتُ: كَمْ مَكَثْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشَرَةَ أَيَّامٍ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، تو آپ مدینہ واپس آنے تک نماز دو دورکعت ادا کرتے رہے۔ یحیٰی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے مکہ میں کتنے دن قیام کیا تھا؟ فرمایا: دس دن۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1081، صحیح مسلم: 693»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ جُلَسَاءَهُ: أَيُّ شَيْءٍ سَمِعْتُمْ فِي الْمَقَامِ بِمَكَّةَ، قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مُكْثَ الْمُهَاجِرِ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلاثٌ" .
سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج مکمل کرنے کے بعد مہاجر تین دن تک مکہ میں رہ سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3933، صحیح مسلم: 1352»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کے لیے جلدی نکلنا ہوتا، تو مغرب اور عشا کی اکٹھی کر لیتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1106، صحیح مسلم: 703»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: ثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ: ثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نزل فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز سواری پر ہی پڑھ لیا کرتے تھے، اس کا منہ خواہ جدھر بھی ہوتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز پڑھنا چاہتے، تو (سواری سے) اتر کر قبلہ رخ ہوتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1099»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ، وَلَكِنْ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَةِ يُومِئُ إِيمَاءً" .
سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر ہر طرف منہ کر کے نوافل پڑھتے دیکھا ہے، آپ اشارے سے نماز پڑھ رہے تھے اور سجدوں میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ سر جھکاتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 3/296، السنن الكبرى للبيهقي: 2/5، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1270) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2523) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. ما جاء في صلاة القاعد
بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے پہلو پر خراشیں آ گئیں، ہم آپ کی عیادت کرنے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، تو ہم نے بھی (آپ کے پیچھے) بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز پوری کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے، تو آپ بھی تکبیر کہیں، جب وہ رکوع کرے، تو آپ بھی رکوع کریں اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے، تو آپ بھی سر اٹھا لیں، جب وہ «سمع الله لمن حمده» (اللہ نے اسے سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی) کہے، تو آپ «ربنا ولك الحمد» (ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں) کہیں، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، تو آپ بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 689، 805، صحیح مسلم: 411»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ: ثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ: ثَنَا حُسَيْنٌ الْمُكْتِبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الْقَاعِدِ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ" ، وَهَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والا افضل ہے، جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے، اسے کھڑا ہونے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور جو لیٹ کر نماز پڑھتا ہے، اسے بیٹھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔ محمد بن یحیٰی نے بھی یزید بن ہارون سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1115»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 231
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بِي النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ناسور (کینسر) تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز (پڑھنے) کے بارے میں پوچھا، فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھا کریں، ہمت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھ لیں، اگر اس کی ہمت بھی نہ ہو، تو لیٹ کر پڑھ لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1117»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب في صلاة الخوف
صلاۃِ خوف (خوف کی حالت میں نماز) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ وَعَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الآنَ صَلاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الآيَةِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاةَ سورة النساء آية 102، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَمَرَهُمْ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالا: فَأَخَذُوا السِّلاحَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، الآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا مَكَانَهُمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ وَجَاءَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا جَلَسُوا جَلَسَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ" فَصَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَفِي هَذَا النَّحْوِ رَوَى عَطَاءٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مقام عسفان پر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مشرکین کے مدمقابل تھے، ان کے سپہ سالار سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) تھے، وہ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، تو مشرکین کہنے لگے: یہ (مسلمان) ایسی حالت میں تھے کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، پھر کہنے لگے: ابھی ان پر ایک نماز آنے والی ہے، جو انہیں اپنی جانوں اور بیٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ جبریل علیہ السلام نماز ظہر اور عصر کے درمیان یہ آیت لے کر اترے: «فَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» (جب آپ ان میں موجود ہوں اور انہیں نماز پڑھائیں....... الخ) راوی کہتے ہیں: نماز کا وقت ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہوں نے اسلحہ اٹھا لیا، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، آپ نے رکوع کیا، تو ہم سب نے بھی رکوع کیا، آپ رکوع سے اٹھے، تو ہم بھی اٹھ گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرتے رہے، جب وہ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو دوسری صف والوں نے ان کی جگہ بیٹھ کر سجدہ کیا، پھر پچھلی صف والے آ گے اور اگلی صف والے پیچھے چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب نے رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرنے لگے، جب وہ سجدہ کر کے بیٹھ گئے، تو دوسری صف والوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور چلے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اس طرح نماز (خوف) پڑھی ہے، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنی سلیم کے علاقے میں۔ عطاء اورابو زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نماز بیان کی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/59، 60، سنن أبي داود: 1236، سنن النسائي: 1551، اس حدیث کو امام دارقطنی رحمہ اللہ (2/60)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2875)، حافظ بغوی رحمہ اللہ (شرح السنة: 1096) اور حافظ نووی نے (المجموع شرح المہذب: 4/421) نے صحیح کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 3/257) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/337، 338) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَضَى هَؤُلاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلاءِ رَكْعَةً" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت نماز خوف پڑھائی، جب کہ دوسرا گروہ دشمن کے مد مقابل تھا، پھر پہلے والے جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کے مد مقابل کھڑے ہو گئے اور وہ (نماز کے لیے) آ گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور دونوں گروہوں نے (باقی) ایک ایک رکعت پوری کر لی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 942، صحيح مسلم: 839»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں