🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ: ثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: ثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّهِ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، قَالَ: فَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلاتَهُ لا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّهِ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيُمَجِّدَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ فَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، يَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ، قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ: فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ مِنَ الأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ، فَوَصْفُ الصَّلاةِ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ قَالَ: لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ" .
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پوری ہوئی، تو آپ کے پاس آیا اور آپ سمیت سب لوگوں کو سلام کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر نماز پڑھیں، کیوں کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ صحابی کہتے ہیں کہ اس نے واپس جا کر نماز پڑھی، تو ہم اس کی نماز کو دیکھنے لگے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اس کی نماز میں کیا نقص ہے؟ جب نماز پوری ہوئی، تو آپ کے پاس آیا اور آپ سمیت سب لوگوں کو سلام کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھیں، کیوں کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، تو اس آدمی نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ میری نماز میں کیا نقص پاتے ہیں؟ فرمایا: اس وقت تک کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اچھی طرح وضو نہ کر لے، اسے چاہیے کہ اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے سر کا مسح کرے اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر تکبیر کہے، اللہ کی حمد و ثنا اور بزرگی بیان کرے، پھر جس قدر ہو سکے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرآن کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ جوڑ اپنی جگہ پر پہنچ جائیں، پھر «سمع الله لمن حمده» کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے اور کمر سیدھی ہو جائے، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے، تو اپنی پیشانی اچھی طرح زمین پر لگائے (ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں. بعض اوقات پیشانی کی جگہ چہرے کا ذکر کیا ہے) یہاں تک کہ جوڑ اپنی جگہ پہنچ جائیں، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھائے اور اپنی سرین پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھا کر لے، آپ نے پوری نماز اسی طرح بیان کی، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے، پھر فرمایا: اس وقت تک کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی، جب تک اس طرح نماز نہ پڑھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة: مسند الإمام أحمد: 4/340، سنن أبي داود: 858، سنن النسائي: 1137، سنن ابن ماجه: 460، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (302) نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (545) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1787) نے صحیح کہا ہے، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (1/241، 242) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ“ (نخب الافكار)»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح وللحديث طرق كثيرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِي صَلاةٌ لا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" .
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رکوع و سجود میں اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا، اس کی نماز کفایت نہیں کرتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/119، سنن أبي داود: 855، سنن النسائي: 1027، سنن الترمذي: 265، سنن ابن ماجه: 780، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور حافظ بغوی رحمہ اللہ (617) نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (1611)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (591، 592) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1892، 1893) نے صحیح کہا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ (1/318) فرماتے ہیں: ”هَذَا إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ“۔ امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 2/88) نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، حافظ ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صَحِيحٌ ثَابِتٌ“ (حلية الأولياء: 8/16) اعمش نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، " فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا يَعْنِي الإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے، جب رکوع میں گئے، تو ہتھیلیوں کو جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب یہ بات سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پہنچی، فرمایا: میرا بھائی سچ کہتا ہے، ہم ایسے ہی کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنے پکڑنے اور اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 1/378، سنن أبي داود: 747، سنن النسائي: 1031، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (595) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/181، 224) نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباری: 2/274) نے اسے قوی قرار دیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں دوسرے رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دُعا پڑھی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ اور مکہ کے کمزور مسلمانوں کو نجات دلا اور قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت کر دے اور ان کو یوسف (علیہ السلام) کے دور جیسی قحط سالی میں مبتلا کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 804، صحیح مسلم: 675»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ وَلَقَبُهُ عَارِمٌ وَكَانَ بَعِيدًا مِنَ الْعَرَّامَةِ ثِقَةً صَدُوقًا مُسْلِمًا، قَالَ: ثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ ، قَالَ: ثَنَا هِلالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ" ، قَالَ: أَرْسَلَ يَدْعُوهُمْ إِلَى الإِسْلامِ فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر پانچوں نمازوں کے بعد مسلسل قنوت (نازلہ) کیا، جب آخری رکعت کے رکوع سے اٹھ کر «سمع الله لمن حمده» کہتے تو قبیلہ بنو سلیم (رعل، ذکوان) کے خلاف بد دعا کرتے اور مقتدی آمین کہتے، راوی کہتے ہیں: آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے (مبلغ) بھیجے تھے، جنہیں انہوں نے قتل کر دیا۔ عکرمہ کہتے ہیں قنوت (نازلہ) کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 1/301، 302، سنن أبي داود: 1443، اس حدیث کے بارے میں امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا خَبَرٌ صَحِيحٌ عِنْدَنَا سَنَدُهُ“ (تهذيب الآثار: 1/318- مسند ابن عباس)، نیز اسے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (618) اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ (زاد المعاد: 1/271) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/225) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَوْ صَحِيحٍ“ (خلاصة الاحكام: 1/461، المجموع شرح المهذب: 3/502) حافظ منذری رحمہ اللہ (البدر المنیر لابن الملقن: 3/628)، حافظ حازمی رحمہ اللہ (الاعتبار، ص: 85) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (نتائج الافکار: 2/130) نے اسے حسن کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن وللحديث شواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَنَهَى أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَجَبْهَتِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات (اعضا) دو ہاتھ، دو گھٹنے، دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کنارے اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، نیز بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 809، صحیح مسلم: 490»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالَّذِي أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِنَا لَيْلَةً صَلاةَ الْمَغْرِبِ وَإِنَّ جَبِينَهُ وَأَرْنَبَتَهُ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی اور آپ پر کتاب نازل کی! میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کی پیشانی اور ناک کی کونپل پانی اور مٹی (کیچڑ) میں تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2040، مسند الحمیدی: 756، مسند الإمام أحمد: 3/24»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا، فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی سجدہ کرے، تو اپنے ہاتھوں کو بھی رکھے اور جب (سر) اٹھائے، تو ہاتھ بھی اٹھائے، کیوں کہ چہرے کی طرح دونوں ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/6، سنن أبي داود: 892، سنن النسائي: 1093، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (630) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/226، 227) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، یہ روایت موطا امام مالک (1/163) میں بسند صحیح موقوفاً بھی ثابت ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَرَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنَ أُذُنَيْهِ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَسَجَدَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى مثل مِقْدَارِهِمَا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ" .
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو ضرور دیکھوں گا، بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے، میں نے آپ کے انگوٹھوں کو کانوں کے قریب دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنے ہی فاصلے پر رکھا، جتنا کہ افتتاحی تکبیر (تحریمہ) کے دوران تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن النسائي: 1102، سنن ابن ماجه: 912، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (691) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1945) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَأَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ امْكُثْ فَمَكَثَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، " إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ" . ثُمَّ قَالَ: " أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ" ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَعَسَى، الْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیماری کے دوران) پردہ ہٹایا، تو لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے تھے، ابن مقریٔ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنے کا اشارہ کیا، تو وہ رُک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے ہیں، جو آدمی خود دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کسی کو دکھایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے حالت رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کریں اور سجدے میں دعا کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس کا قبول ہونا بعید نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 479»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں