🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يستحب للمرء أن يقوم في أداء الشكر لله جل وعلا بإتيان الطاعات بأعضائه دون الذكر باللسان وحده
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کا شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے اعضاء کے ذریعے طاعات انجام دے کر ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے اور اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے، آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ جبکہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب) کی مغفرت ہو چکی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا» کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1130، 4836، 6471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2819، 2819، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1182، 1183، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 311، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1643، والترمذي فى (جامعه) برقم: 412، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1419، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18485»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (221): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار - وهو الرمادي- أبو إسحاق البصري حافظ روى له أبو داود والنسائي، وهو متابع، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر العلة التي من أجلها كان يترك صلى الله عليه وسلم الأعمال الصالحة بحضرة الناس
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس علت کا ذکر جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے نیک اعمال ترک فرما دیتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ َالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى"، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا، وَكَانَتْ تَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز باقاعدگی سے (ادا نہیں کرتے تھے) جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ وہ یہ فرماتی تھیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے عمل اس لیے ترک کر دیتے تھے: کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس طریقے کی پیروی کرنا شروع کر دیں اور یہ بات ان پر لازم ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1128، 1177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 718، ومالك فى (الموطأ) برقم: 519، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1230، 2104، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 312، 313، 2532، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 482، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1293، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24659»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1170): ق نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، يزيد بن موهب - وهو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب - ثقة، روى له أبو داود والنسائي وابن ماجة، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين. الليث هو ابن سعد، وعُقَيل -بضم العين- هو ابن خالد بن عَقيل -بالفتح- الأيلي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر العلة التي من أجلها كان يترك صلى الله عليه وسلم بعض الطاعات
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس علت کا ذکر جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض طاعات ترک فرما دیتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی عمل ترک کر دیتے تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر عمل کرنا پسند ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس اندیشے کے تحت ایسا کرتے تھے کہ لوگ بھی وہ عمل کرنا شروع کر دیں گے اور یہ ان پر لازم ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1128، 1177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 718، ومالك فى (الموطأ) برقم: 519، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1230، 2104، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 312، 313، 2532، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 482، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1293، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24659»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الشكر لله جل وعلا بأعضائه على نعمه ولا سيما إذا كانت النعمة تعقب بلوى تعتريه
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کی نعمتوں پر اپنے اعضاء کے ذریعے شکر ادا کرے، خاص طور پر جب یہ نعمت کسی آزمائش کے بعد عطا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ ثَلاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، فَأَتَى الأَبْرَصَ، فقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الإِبِلُ، فَمَسَحَهُ، فَذَهَبَ عَنْهُ، قَالَ: وَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا، قَالَ: وَأَتَى الأَقْرَعَ، فقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: شَعْرٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ، وَأُعْطِيَ شَعْرًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ، قَالَ: فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَافِلَةً، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا، قَالَ: وَأَتَى الأَعْمَى، فقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ، فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ، قَالَ: فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا، وَأُنْتِجَ هَذَانِ، وَوَلَّدَ هَذَا، فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الإِبِلِ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى الأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلا بَلاغَ بِيَ الْيَوْمَ إِلا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ، وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ، بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ بِهِ فِي سَفَرِي، فقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ، فقَالَ: كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ، فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ الْمَالَ؟ فقَالَ: إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، فقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى الأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ، فقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا، قَالَ لِهَذَا، فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ هَذَا، فقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ وَأَتَى الأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي!، فقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَوَاللَّهِ لا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ، فقَالَ: أَمْسِكْ مَالَكَ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ، وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے: ایک پھلبہری کا مریض تھا، ایک گنجا تھا اور ایک اندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کیا، تو ان کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا۔ وہ پھلبہری کے مریض کے پاس آیا اور دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: صاف رنگ اور صاف جلد۔ فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہوگا؟ اس نے جواب دیا: اونٹ۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی، پھر اس شخص کو دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دی گئی اور فرشتے نے کہا: اللہ تمہارے لیے اس میں برکت عطا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور کہا: تمہیں کون سی چیز پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: اچھے بال اور مجھ سے یہ برائی ختم ہو جائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھے برا سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی اور اسے اچھے بال عطا کر دیے گئے۔ فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: گائے۔ تو اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت پیدا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ نابینا شخص کے پاس آیا اور دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ محبوب ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری بصارت واپس کر دے تاکہ میں اس کے ذریعے لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتے نے اس شخص پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔ فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: بکریاں۔ تو اس شخص کو ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔ ان تینوں کے ہاں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، تو اس شخص کے پاس بہت سے اونٹ ہو گئے، اس شخص کے پاس بہت سی گائیں ہو گئیں اور اس کے پاس بہت سی بکریاں ہو گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ اپنی مخصوص صورت اور ہیئت میں پھلبہری کے (سابقہ) مریض کے پاس آیا اور کہا: میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں، سفر کے دوران میرا زادِ سفر ختم ہو گیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور تمہارے علاوہ میرا کوئی آسرا نہیں ہے، میں تم سے اس ذات کے وسیلے سے مانگتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ، خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے، تم مجھے ایک اونٹ دے دو تاکہ میں اس کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھ سکوں۔ اس شخص نے کہا: میرے اور بہت سے اخراجات ہیں (میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا)۔ فرشتے نے کہا: میں شاید تمہیں جانتا ہوں، کیا تم پھلبہری کے مریض نہیں تھے؟ لوگ تمہیں برا سمجھتے تھے اور تم غریب بھی تھے، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کر دیا۔ تو اس شخص نے کہا: مجھے یہ مال اپنے بڑوں کی طرف سے وراثت میں ملا ہے۔ تو فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورت حال کی طرف واپس کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ گنجے شخص کے پاس اسی شکل میں آیا اور اس سے بھی وہی بات کہی جو اس سے کہی تھی، تو اس نے بھی وہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا، تو فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورت حال کا شکار کر دے۔ پھر وہ فرشتہ اسی صورت اور اسی ہیئت میں (سابقہ) نابینا شخص کے پاس آیا اور بولا: میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں، میرا زادِ سفر ختم ہو گیا ہے۔ تو اس شخص نے کہا: میں پہلے نابینا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بصارت عطا کی، اب تم جو چاہو حاصل کر لو اور جو چاہو چھوڑ دو، اللہ کی قسم! آج تم اللہ کے نام پر جو کچھ بھی لو گے میں اس معاملے میں تمہارے ساتھ کوئی سختی نہیں کروں گا۔ تو فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا تھا، تو تم سے رضا مندی ہو گئی اور تمہارے دو ساتھیوں پر ناراضگی ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3464، 6653، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2964، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 314، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14366، والبزار فى (مسنده) برقم: 8097»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3523): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، شيبان بن فروخ، ثقة من رجال مسلم، ومن فوقه ثقات على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر تفضل الله جل وعلا بإعطاء أجر الصائم الصابر للمفطر إذا شكر ربه جل وعلا
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا مفطر کو بھی صائم صابر کا اجر عطا فرماتا ہے اگر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شُكْرُ الطَّاعِمِ الَّذِي يَقُومُ بِإِزَاءِ أَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ: هُوَ أَنْ يَطْعَمَ الْمُسْلِمُ، ثُمَّ لا يَعْصِي بَارِيَهُ، يُقَوِّيهِ، وَيُتِمُّ شُكْرَهُ بِإتْيَانِ طَاعَاتِهِ بِجَوَارِحِهِ، لأَنَّ الصَّائِمَ قُرِنَ بِهِ الصَّبْرُ لِصَبْرِهِ عَنِ الْمَحْظُورَاتِ، وَكَذَلِكَ قُرِنَ بِالطَّاعِمِ الشُّكْرُ، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الشُّكْرُ الَّذِي يَقُومُ بِإِزَاءِ ذَلِكَ الصَّبْرِ يُقَارِبُهُ أَوْ يُشَاكِلُهُ، وَهُوَ تَرْكُ الْمَحْظُورَاتِ عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کھا کر شکر ادا کرنے والا، صبر کر کے روزہ رکھنے والے کی مانند ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کھا کر شکر کرنے والا، جس شخص کو صبر کر کے روزہ رکھنے والے کے اجر کے بالمقابل قرار دیا گیا ہے، یہ وہ مسلمان شخص ہے جو کچھ کھاتا ہے اور پھر وہ اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کرتا ہے، وہ اپنی ذات کو قوت پہنچاتا ہے، وہ شکر کو مکمل کرتا ہے کہ اپنے اعضا کے ذریعے نیکیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: روزہ دار اس کے ساتھ صبر کے حوالے سے مل جاتا ہے، کیونکہ وہ ممنوعہ چیزوں سے صبر کرتا ہے۔ اسی طرح اسے شکر کرنے والے کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تو اب یہ بات لازم ہے کہ یہ شکر جسے اس صبر کے مقابلے میں رکھا گیا ہے، یہ وہ ہو جو اس کے قریب ہو یا اس کے ساتھ مناسبت رکھتا ہو اور یہ ممنوعہ چیزوں کا ترک کرنا ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1898، 1899، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 315، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1542، 7287، 7288، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2486، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2067، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1764، 1765، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7921»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (655).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات لكنه منقطع ... ويتحصل أن الحديث صحيح بطرقه وشاهده.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من القيام في أداء الفرائض مع إتيان النوافل ثم إعطائه عن نفسه وعياله فيما بعد
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ فرائض ادا کرنے کے ساتھ نوافل بھی بجا لائے اور اس کے بعد اپنی جان اور اہلِ خانہ کا بھی حق ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْئَةِ، فَقُلْنَ: مَا لَكِ، مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ، قَالَتْ: مَا لَنَا مِنْهُ شَيْءٌ؟ أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ، وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ، قَالَ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، أَمَا لَكَ فِي أُسْوَةٍ"؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: " أَمَّا أَنْتَ فَتَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ، وَإِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ"، قَالَ: فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ، فَقُلْنَ لَهَا: مَهْ، قَالَتْ: أَصَابَنَا مَا أَصَابَ النَّاسُ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو ان ازواج نے دیکھا کہ ان کی ظاہری حالت ٹھیک نہیں ہے، تو ازواج نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ قریش میں تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال اور کوئی شخص نہیں ہے، تو اس خاتون نے جواب دیا: ہمارا ان کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے؛ وہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہیں اور رات کے وقت نفل پڑھتے رہتے ہیں۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے، تو ازواجِ مطہرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! کیا تمہارے لیے میرے طریقے میں نمونہ نہیں ہے؟ انہوں نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے؛ تم (رات کے وقت) نفل نماز پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو اور دن کے وقت نفل روزہ رکھ بھی لیا کرو اور نہ بھی رکھا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی اہلیہ ازواجِ مطہرات کے پاس آئیں، تو انہوں نے عطر لگایا ہوا تھا یوں جیسے وہ دلہن ہوں؛ ازواجِ مطہرات نے ان سے کہا: کیا ہوا؟ تو انہوں نے بتایا: ہمیں بھی وہی چیز ملی ہے، جو لوگوں کو ملی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 316، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7242، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 607»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1240). * [مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ] قال الشيخ: لم أعرفه، وليس في «الثقات» ... ، بل هو فيه (139/ 9). * [أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ] قال الشيخ: «الثقات» (9/ 64). تنبيه!! قول الشيخ رحمه الله: «ليس في الثقات ... »، ثم قوله: «بل هو فيه». الله أعلم بمراد الشيخ، إن كان يريد نقض قوله الأول أم لا. لكن الراوي موجود في الثقات بالرقم المشار إليه. وينبغي أن يُعلَمَ أن جمله «بل هو فيه» من كلام الشيخ وليس استدراك عليه قال الناشر: [ما كان لنا من تعليقات - يسيرة جدا - على شيء من السقط، أو الترقيم - أو نحوه - جعلنا في آخره اسم (الناشر) وما كان خلوا من ذلك: فهو من تعليقات الشيخ - رحمه الله -] صـ (30). - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حسن لغيره، محمد بن الخطاب البلدي الزاهد، ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 139، فقال: يروي عن المؤمل بن إسماعيل، وأبي نعيم، والكوفيين، حدثنا عنه أبو يعلى، وأهل الموصل. وأبو جابر محمد بن عبد الملك ذكره المؤلف في «الثقات» وقال: أصله من واسط، روى عنه أبو حاتم السجستاني وأهل العراق. وقال أبو حاتم فيما ذكره ابنه في «الجرح والتعديل» 8/ 5: ليس بقوي. وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر التغليظ على من خالف السنة التي ذكرناها
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اس سنت کی مخالفت کرنے والے پر سخت وعید ہے جس کا ہم نے ذکر کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ،، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: جَاءَ ثَلاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟!، قَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ الآخَرُ: أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلا أُفْطِرُ، وَقَالَ الآخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ وَلا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ:" أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھر آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں دریافت کریں، جب انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا: ہمارا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا واسطہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تو گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت ہو چکی ہے۔ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں ہمیشہ رات بھر نوافل ادا کرتا رہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ نفلی روزے رکھتا رہوں گا اور کبھی روزہ افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں خواتین سے علیحدگی اختیار کروں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ کو یہ باتیں بتائی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگوں نے یہ بات کہی ہے؟ خدا کی قسم! میں تم سب کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور اس کا سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والا ہوں۔ لیکن میں نفلی روزے رکھ بھی لیتا ہوں اور ترک بھی کر دیتا ہوں، میں نوافل ادا بھی کرتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں اور میں نے خواتین کے ساتھ شادی بھی کی ہے۔ تو جو شخص میری سنت سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5063، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1401، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 317، 14، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3217، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5305، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13578، 13579، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13738»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1782): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يقوم مقام الجهاد النفل من الطاعات للمرء
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بعض طاعات نفل جہاد کے قائم مقام ہو سکتی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ الشَّاعِرُ الْمَكِّيُّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فقَالَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں کی اچھی طرح خدمت کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3004، 5972، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2549، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 318، 419، 420، 421، 423، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7343، 7348، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3103، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2528، 2529، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1671، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2782، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2332، 2333، 2335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6601»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1199): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، علي بن الجعد أخرج له البخاري، ومن فوقه ثقات على شرطهما، وحبيب صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر البيان بأن المرء مباح له أن يظهر ما أنعم الله عليه من التوفيق للطاعات
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندے کے لیے مباح ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے طاعات کی توفیق پر فخر نہیں بلکہ ظاہر کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَثَرَ الْوَجَعِ عَلَيْكَ بَيِّنٌ، قَالَ: " إِنِّي عَلَى مَا تَرَوْنَ، قَرَأْتُ الْبَارِحَةَ السَّبْعَ الطُّوَلَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، اگلے دن صبح آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! آپ پر تکلیف کے آثار واضح ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری وہ صورتحال ہے، جو تم دیکھ رہے ہو، (اس حالت میں) میں نے گزشتہ رات (نوافل میں) سات لمبی سورتوں کی تلاوت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1136، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 319، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1161، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3444»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (3995).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
مؤمل بن إسماعيل وصفه البخاري وغيره بكثرة الخطأ، وقال محمد بن نصر المروزي: المؤمل إذا انفرد بحديث وجب أن يتوقف ويتثبت فيه، لأنه كان سيِّئ الحفظ، كثير الغلط، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار بأن على المرء مع قيامه في النوافل إعطاء الحظ لنفسه وعياله
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ نوافل کے ساتھ اپنی جان اور اہلِ خانہ کا بھی حق ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 320
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبَى الدَّرْدَاءِ، قَالَ فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَتِّلَةً، فقَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا فَلَمَّا جَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، رَحَّبَ بِهِ سُلَيْمَانُ، وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: اطْعَمْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلا طَعِمْتَ، فَإِنِّي مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ، قَالَ: فَأَكَلَ مَعَهُ وَبَاتَ عِنْدَهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ، قَامَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَحَبَسَهُ سَلْمَانُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، أَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، وَائْتِ أَهْلَكَ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحِ، قَالَ: قُمِ الآنَ، فَقَامَا فَصَلَّيَا، ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاةِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ إِلَيْهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا، قَالَ سَلْمَانُ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ مَا قَالَ سَلْمَانُ" .
عون بن ابوجحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ ایک دن سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے، تو سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو بکھرے ہوئے حلیے میں دیکھا تو دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے بھائی کو دنیا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان کے سامنے کھانا رکھ دیا، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کھائیے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ کھائیں، کیونکہ میں بھی اس وقت تک نہیں کھاؤں گا، جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کھانا کھا لیا، پھر وہ رات کو ان کے پاس ہی ٹھہر گئے، جب رات کا وقت ہوا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اٹھ کر نوافل ادا کرنے لگے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا، انہوں نے فرمایا: اے ابودرداء! تمہارے پروردگار کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تم ہر حق دار کو اس کا حق دو، تم نفلی روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دیا کرو، تم نوافل ادا کیا بھی کرو اور سو بھی جایا کرو اور تم اپنی بیوی کے پاس بھی جایا کرو۔ جب صبح صادق کا وقت قریب آیا، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ اٹھ جائیں، پھر یہ دونوں حضرات اٹھ کھڑے ہوئے، ان دونوں نے نوافل ادا کیے اور نماز ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی بات کہی جو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1968، 6139، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 320، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2413، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2235، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 898، والبزار فى (مسنده) برقم: 4223، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27233، والطبراني فى(الكبير) برقم: 285»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (320) وقال عنه الشيخ: صحيح - «مختصر البخاري» (929): خ. الموضع الثاني (360/*) وقال عنه الشيخ: صحيح - مكرر (320). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد إلا في هذا الموضع لكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما أبدا لا في الإسناد ولا في المتن. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب بن شداد الحرشي النسائي، وأبو عُميس اسمه عتبة بن عبد الله وهو أخو عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، وأبو جحيفة: هو وهب بن عبد الله السُّوائي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں