صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کی صحت کو واضح کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 281
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ، مَا يَظُنُّ أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ، مَا يَظُنُّ أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ" .
سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک تم میں سے کوئی ایک شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے متعلق کوئی ایک بات کہتا ہے، اس شخص کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے، اس دن تک کے لیے، اس شخص کے بارے میں رضا مندی کو نوٹ کر لیتا ہے جس دن وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے، اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے، اس شخص کے بارے میں، اس دن تک کے لیے، اپنی ناراضگی تحریر کر دیتا ہے جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3611، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 280، 281، 287، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2319، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3969، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16094، والحميدي فى (مسنده) برقم: 935»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن.
12. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عن نفي الورود على الحوض يوم القيامة عمن صدق الأمراء بكذبهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ قیامت کے دن وہ شخص حوض پر نہیں پہنچے گا جو امراء کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 282
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ" أَبُو حَصِينٍ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم اس وقت نو افراد تھے۔ ہمارے درمیان چمڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد عنقریب کچھ حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ ابوحصین نامی راوی کا نام عثمان بن عاصم ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - تقدم (279).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، محمد بن عصام بن يزيد، وأبوه، ترجمهما ابن أبي حاتم 8/ 53 و7/ 26، ولم يذكر فيهما جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجاله ثقات.
13. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر نفي الورود على حوض المصطفى صلى الله عليه وسلم عمن أعان الأمراء على ظلمهم أو صدقهم في كذبهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ جو شخص امراء کے ظلم میں ان کی مدد کرتا ہے یا ان کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر نہیں پہنچے گا۔
حدیث نمبر: 283
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: " سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ" الْمُلائِيُّ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت چمڑے کے بنے ہوئے تکیے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے ہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا، اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہوگا اور میرا اس سے تعلق ہوگا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ملائی نامی راوی ابونعیم فضل بن دکین ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
14. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الزجر عن تصديق الأمراء بكذبهم ومعونتهم على ظلمهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ امراء کے جھوٹ کی تصدیق کرنے اور ان کے ظلم میں مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 284
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" اسْمَعُوا"، قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا، قَالَ:" اسْمَعُوا"، قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا، قَالَ:" اسْمَعُوا"، قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا، قَالَ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَلا تُصَدِّقُوهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، لَمْ يَرِدْ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
عبداللہ بن جناب اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم لوگ غور سے سنو!“ ہم نے عرض کی: ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غور سے سنو!“ ہم نے عرض کی: ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غور سے سنو!“ ہم نے عرض کی: ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے، تو تم ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہ کرنا، کیونکہ جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، وہ میرے حوض تک نہیں آ سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 284، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 262، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21460، 27861، والطبراني فى(الكبير) برقم: 3627، 3628»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «التعليق الرغيب» (3/ 151)، «الظلال» (757).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل سماك بن حرب.
15. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الزجر عن أن يصدق المرء الأمراء على كذبهم أو يعينهم على ظلمهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ انسان کو امراء کے جھوٹ کی تصدیق کرنے یا ان کے ظلم میں مدد کرنے سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 285
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم لوگ اس وقت نو افراد تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، وہ شخص میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہوگا اور میرا اس سے تعلق ہوگا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (279).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
وهو مكرر الحديث (282).
16. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر التغليظ على من دخل على الأمراء يريد تصديق كذبهم ومعونة ظلمهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس پر سختی کا ذکر کہ جو شخص امراء کے پاس جاتا ہے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ظلم میں مدد کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 286
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدَي أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، وَهُوَ مِنِّي بَرِيءٌ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ مِنِّي" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے جن کے ہاں لوگ آئیں جائیں گے، تو جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، میں اس سے بری الذمہ ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہے؛ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، میرا اس سے تعلق ہے اور اس کا مجھ سے تعلق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11362، 12053، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2337، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1187، 1286»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 151).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
سليمان بن أبي سليمان، ذكره المؤلف في "الثقات" 4/ 315، وروى عنه قتادة والعوام بن حوشب، وأروده بن أبي حاتم 4/ 122 ولم يذكر فيه جرحاً، وباقي رجاله ثقات.
17. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر إيجاب سخط الله جل وعلا للداخل على الأمراء القائل عندهم بما لا يأذن به الله ولا رسوله صلى الله عليه وسلم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ امراء کے پاس جانے والے پر اللہ تعالیٰ کا غضب لازم ہوتا ہے جو ان کے سامنے ایسی بات کہتا ہے جس کی اجازت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دی۔
حدیث نمبر: 287
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ جُلُوسًا فِي السُّوقِ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَهُ شَرَفٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ لَكَ حَقًّا، وَإِنَّكَ لَتَدْخُلُ عَلَى هَؤُلاءِ الأُمَرَاءِ، وَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ، وَلا يَرَاهَا بَلَغَتْ حَيْثُ بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضَاهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لا يَرَاهَا بَلَغَتْ حَيْثُ بَلَغَتْ، يَكْتُبُ الِلَّهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ" فَانْظُرْ يَا ابْنَ أَخِي مَا تَقُولُ، وَمَا تَكَلَّمُ، فَرُبَّ كَلامٍ كَثِيرٍ قَدْ مَنَعَنِي مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ.
محمد بن عمرو بن علقمہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس سے مدینہ منورہ کا رہنے والا ایک صاحبِ حیثیت شخص گزرا، تو علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ نے اس سے کہا: تمہارا ایک حق ہے (کہ میں تمہیں یہ بات بتاؤں) تم ان حکمرانوں کے ہاں آتے جاتے ہو اور ان سے بات چیت کرتے ہو، میں نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بندہ کوئی بات کرتا ہے، اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟ اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لیے اس بندے کے بارے میں رضامندی تحریر کر دیتا ہے۔ اور ایک بندہ کوئی بات کہتا ہے، اور اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟ لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک کے لیے اس شخص کے بارے میں ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے۔“ تو اے میرے بھتیجے! تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہتے ہو اور کیا بات کرتے ہو؟ میں نے جب سے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے، تب سے میں نے (غیر محتاط) باتیں کرنا ترک کر دی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3611، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 280، 281، 287، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2319، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3969، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 706، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16094، والحميدي فى (مسنده) برقم: 935»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (888).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
صحيح.
18. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الاستحباب للمرء أن يأمر بالمعروف من هو فوقه ومثله ودونه في الدين والدنيا إذا كان قصده فيه النصيحة دون التعيير-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے سے بڑے، برابر اور چھوٹے کو دین اور دنیا میں امر بالمعروف کرے، اگر اس کا مقصد نصیحت ہو نہ کہ طعنہ زنی۔
حدیث نمبر: 288
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ هُوَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمَّا أَرَادَ هُدَى زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ عَلامَاتَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلا حِلْمًا، فَكُنْتُ أَتَلَطَّفُ لَهُ لأَنْ أُخَالِطَهُ فَأَعْرِفَ حِلْمَهُ وَجَهْلَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُجُرَاتِ، وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَالْبَدَوِيِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَرْيَةُ بَنِي فُلانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ، وَكُنْتُ أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا، وَقَدْ أَصَابَهُمْ شِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ، وَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ يَخْرُجُوا مَنَ الإِسْلامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهُمْ مَنْ يُغِيثُهُمْ بِهِ فَعَلْتَ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ جَانِبَهُ، أُرَاهُ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلانٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ:" لا، يَا يَهُودِيُّ، وَلَكِنْ أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا، وَلا أُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلانٍ"، قُلْتُ: نَعَمْ، فَبَايَعَنِي صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْلَقْتُ هُمْيَانِي، فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَعْطَاهَا الرَّجُلَ وَقَالَ:" اعْجَلْ عَلَيْهِمْ وأَغِثْهُمْ بِهَا"، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلُ مَحَلِّ الأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ دَنَا مِنْ جِدَارٍ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلا تَقْضِينِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي؟ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بِمَطْلٍ، وَلَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ، قَالَ: وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ وَقَالَ: أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْمَعُ، وَتَفْعَلُ بِهِ مَا أَرَى؟ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ، لَوْلا مَا أُحَاِذْرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا عُنُقَكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّا كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ يَا عُمَرُ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الأَدَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التِّبَاعَةِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ فَاقْضِهِ حَقَّهُ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ غَيْرِهِ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ"، قَالَ زَيْدٌ: فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَقَضَانِي حَقِّي، وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ؟ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ، فَقُلْتُ: أَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ؟ قَالَ: لا، فَمَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ، قَالَ: الْحَبْرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، الْحَبْرُ، قَالَ: فَمَا دَعَاكَ أَنْ تَقُولَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتَ، وَتَفْعَلُ بِهِ مَا فَعَلْتَ، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ كُلُّ عَلامَاتَ النُّبُوَّةِ قَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ إِلا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْتَبِرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلا حِلْمًا، فَقَدْ اخْتَبَرْتُهُمَا، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالا صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَإِنَّكَ لا تَسَعُهُمْ كُلَّهُمْ، قُلْتُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ، وَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ رَحِمَ الِلَّهِ زَيْدًا، قَالَ: فَسَمِعْتُ الْوَلِيدَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي بِهَذَا كُلِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت عطا کرنے کا ارادہ کیا، تو زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبوت کی جتنی بھی علامات باقی رہ گئی ہیں، وہ سب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پہچان لی ہیں۔ جب میں نے آپ کی زیارت کی صرف دو باتیں باقی رہ گئی ہیں، وہ میں آپ کی شخصیت میں نہیں جان سکا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری اور (برداشت) کا عنصر کتنا ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا جائے، تو آپ زیادہ بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤں، ان کے ساتھ ملتا رہوں تاکہ مجھے آپ کی بردباری کا اندازہ ہو سکے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک شخص جو دیکھنے میں دیہاتی لگ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کر لیا، تو اللہ تعالیٰ انہیں زیادہ رزق عطا کرے گا۔ اب انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے، بارش نہیں ہوئی، مجھے یہ اندیشہ ہے، یا رسول اللہ! جس طرح وہ لالچ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے، کہیں اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ ہو جائیں، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو ان کی طرف کوئی ایسی چیز بھیج دیں، جو ان کی امداد کر سکے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا، میرا خیال ہے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بنو فلاں کے باغ کی متعین کھجوریں فلاں عرصے تک ادائیگی کی شرط پر مجھے فروخت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔ اے یہودی! میں تمہیں متعین کھجوریں فلاں، فلاں عرصے تک فروخت کر دوں گا، لیکن میں بنو فلاں کے باغ کا تعین نہیں کروں گا۔“ میں نے جواب دیا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ سودا کر لیا۔ میں نے اپنے تھیلے کو کھولا اور اس میں سے اسی (80) مثقال سونا نکال کر آپ کو دے دیا، جو کھجوروں کی متعین تعداد کے عوض میں تھا، جس کی ادائیگی فلاں، فلاں مدت تک تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا اس شخص کو دیا اور کہا: ”تم جلدی سے ان کے پاس جاؤ اور اس کے ذریعے ان کی مدد کرو۔“ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب متعین مدت پوری ہونے کا وقت قریب آیا، تو ابھی اس میں دو یا تین دن باقی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا کر لی، تو آپ ایک دیوار کے قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کی قمیص کے دامن کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ میرا حق مجھے ادا نہیں کریں گے؟ اللہ کی قسم! آپ یعنی عبدالمطلب کی اولاد کی طرف سے مجھے ٹال مٹول کرنے کا علم نہیں ہے؟ کیونکہ میں آپ لوگوں کے لین دین کو جانتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، تو ان کی آنکھیں غصے سے ابل رہی تھیں۔ انہوں نے میری طرف گھور کر دیکھا اور بولے: اے اللہ کے دشمن! کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ یہ بات کر رہے ہو جو میں سن رہا ہوں اور یہ طریقہ اختیار کر رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس ذات کی قسم! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، اگر ان کا احترام پیش نظر نہ ہوتا، تو میں اس تلوار کے ذریعے تمہاری گردن اڑا دیتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اور مہربانی کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”اے عمر! تمہاری طرف سے اس سے مختلف رد عمل سامنے آنے کی زیادہ ضرورت تھی، تم مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کرنے کا کہتے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا کہتے۔ اے عمر! اسے ساتھ لے جاؤ۔ اس کا حق اسے ادا کر دو اور تم نے جو اسے ڈانٹا ہے، اس کے بدلے میں اسے بیس صاع کھجوریں زیادہ دینا۔“ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے، انہوں نے میرا حق ادا کر دیا اور مزید بیس صاع کھجوریں عطا کیں، تو میں نے دریافت کیا: یہ اضافی ادائیگی کس لیے ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نے تمہیں جو ڈانٹا ہے، اس کی جگہ میں تمہیں یہ اضافی ادائیگی کروں۔ میں نے دریافت کیا: اے عمر! تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: یہودیوں کا بڑا عالم؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، یہودیوں کا بڑا عالم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ بات چیت اور اس طرح کا طرز عمل کیوں کیا؟ میں نے جواب دیا: اے عمر! میں نے اللہ کے رسول کے چہرے میں تمام علاماتِ نبوت دیکھ لی تھیں، جب میں نے آپ کی زیارت کی تھی، صرف دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے یہ پتا نہیں چل سکا تھا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری کتنی ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا جائے، تو آپ بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں نے ان دونوں کا علم بھی حاصل کر لیا ہے۔ اے عمر! اب میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں) اور میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں: میرا نصف مال، حالانکہ یہودیوں میں سے سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے، یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے صدقہ ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ کہو کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے لیے ہے، کیونکہ تم ان سب کو پورا نہیں کر سکتے، تو میں نے کہا: ان میں سے بعض لوگوں کے لیے ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا زید نے عرض کی: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے اور پھر غزوہ تبوک کے دوران دشمن کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے انتقال کیا۔ اللہ تعالیٰ زید رضی اللہ عنہ پر رحم کرے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے میں نے ولید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے مجھے یہ تمام روایت محمد بن حمزہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 288، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2250، 6610، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2281، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11233، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5147، 14954»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (1341).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محمد بن المتوكل بن أبي السري، صدوق له أوهام كثيرة، لكن توبع عليه كما سيرد، وحمزة بن يوسف لم يوثقه غير المؤلف 4/ 170 قال: يروي عن أبيه، روى عنه محمد بن حمزة. وباقي رجال الإسناد ثقات. وقد صرح الوليد بن مسلم بالتحديث.
19. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر إعطاء الله جل وعلا الآمر بالمعروف ثواب العامل به من غير أن ينقص من أجره شيء-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ امر بالمعروف کرنے والے کو اس پر عمل کرنے والے کا ثواب دیتا ہے، بغیر اس کے اجر میں کمی کے۔
حدیث نمبر: 289
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ، لَكِنِ ائْتِ فُلانًا"، قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلَ، فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ أَوْ عَامِلِهِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ سے مدد طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں تمہیں دوں، تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ اس شخص کے پاس آیا تو اس نے اسے عطیہ دے دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بھلائی کے بارے میں رہنمائی کرے، تو اس کو اس بھلائی کو کرنے والے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اس پر عمل کرنے والے کی مانند اجر ملتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1893، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 289، 1668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5129، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2671، 2671 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17359»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1660).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، وسليمان هو الأعمش.
20. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من استحلال النصرة على أعداء الله الكفرة بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر في دار الإسلام-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ دار الاسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اللہ کے کافر دشمنوں پر نصرت حاصل کرے۔
حدیث نمبر: 290
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَضَرَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ، وَمَا كَلَّمَ أَحَدًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَلَصِقْتُ بِالْحُجْرَةِ أَسْمَعُ مَا يَقُولُ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ لَكُمْ: مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، قَبْلُ أَنْ تَدْعُونِي، فَلا أُجِيبُكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلا أُعْطِيكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلا أَنْصُرُكُمْ" ، فَمَا زَادَ عَلَيْهِنَّ حَتَّى نَزَلَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کا مزاج ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نے وضو کیا اور کسی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی، پھر باہر تشریف لے گئے۔ میں حجرے کے (دروازے) کے پاس ہو گئی تاکہ میں یہ سنوں کہ آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے: تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، تم لوگ مجھ سے کچھ مانگو اور میں تمہیں عطا نہ کروں، تم لوگ مجھ سے مدد مانگو اور میں تمہاری مدد نہ کروں۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی کلمات ارشاد فرمائے اور پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 290]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 290، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4004، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20257، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25892، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4914، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3289، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 6665»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 172)، «الرد على بليق» (321).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف؛ لجهالة عاصم بن عمر بن عثمان، كما ذكر الحافظ في «التقريب»، ورواية عنه عمرو بن عثمان: قال الحافظ في «التقريب»: ويقال: عثمان بن عمرو، قلبه بعضهم، مستور.