🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم الغيرة عند استحلال المحظورات-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ حرام چیزوں کو جائز کرنے کے خلاف غیرت رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 291
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَالْوَلِيدُ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" إِنَّهُ لا شَيْءَ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5222، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2762، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 291، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27585»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار بأن غيرة الله تكون أشد من غيرة أولاد آدم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اللہ کی غیرت آدم کے بیٹوں کی غیرت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، وَالِلَّهِ أَشَدُّ غَيْرَةً" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مومن غیرت والا ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ زیادہ شدید غیرت والا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5223، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2761، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 292، 293، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7330»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر وصف الشيء الذي من أجله يكون الله جل وعلا أشد غيرة-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس چیز کی وضاحت کا ذکر جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی غیرت زیادہ شدید ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ، وَالْمُؤْمِنُ يَغَارُ، فَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ غیرت والا ہے، اور مومن بھی غیرت والا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مومن کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے، جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5223، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2761، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 292، 293، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7330»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، فَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ، فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اپنی تعریف سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، اس لیے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے، اور کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا نہیں ہے، اس لیے اس نے فحش کاموں کو حرام قرار دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4634، 4637، 5220، 7403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2760، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 294، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3686»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عن الغيرة التي يحبها الله والتي يبغضها-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ غیرت اور ناپسندیدہ غیرت کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَتِيكٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ الِلَّهِ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ الِلَّهِ، فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ الِلَّهِ فَالْغَيْرَةُ فِي اللَّهِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ الِلَّهِ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ اللَّهِ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلاءِ مَا يُحِبُّ الِلَّهِ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ الِلَّهِ، فَأَمَّا الْخُيَلاءُ الَّتِي يُحِبُّ الِلَّهِ أَنْ يَتَخَيَّلَ الْعَبْدُ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَأَنْ يَتَخَيَّلَ عِنْدَ الصَّدَاقَةِ، وَأَمَّا الْخُيَلاءُ الَّتِي يُبْغِضُ الِلَّهِ، فَالْخُيَلاءُ لِغَيْرِ الدِّينِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: ابْنُ عَتِيكٍ هَذَا، هُوَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ النُّعْمَانِ الأَشْهَلِيُّ، لأَبِيهِ صُحْبَةٌ.
ابن عتیک انصاری رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: غیرت کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک قسم وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو یہ وہ غیرت ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو یہ وہ غیرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اور کے لیے ہو، تکبر کا اظہار کرنے والے لوگوں میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، تو اس سے مراد وہ بندہ ہے جو جنگ کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور وہ شخص جو صدقہ کرتے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے، اور جہاں تکبر کرنے والے اس شخص کا تعلق ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی دینی معاملے کی بجائے (دنیا داری کے حوالے سے) تکبر کا اظہار کرتا ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عتیک نامی راوی ابوسفیان بن جابر بن عتیک بن نعمان اشہلی ہیں، ان کے والد صحابی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 295، 4762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2557، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2350، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2659، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2272، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24244»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (1999)، «صحيح أبي داود» (2388).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ابن عتيك هو ابن جابر بن عتيك الأنصاري، قيل: اسمه عبد الرحمن، مجهول، كما ذكر الحافظ في "التقريب"، وأبو جابر بن عتيك الصحأبي، يقال له: جبر أيضاً، وباقي رجال الإسناد ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر رجاء الأمن من غضب الله لمن لم يغضب لغير الله جل وعلا-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اللہ جل وعلا کے سوا کسی کے لیے غصہ نہیں کرتا، اس کے لیے اللہ کے غضب سے امن کی امید ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَمْنَعُنِي مِنْ غَضَبِ اللَّهِ؟ قَالَ:" لا تَغْضَبْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی چیز مجھے اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غصہ نہ کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6745»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (3/ 277).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عن وصف القائم في حدود الله والمداهن فيها-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں مداہنت کرنے والے کے وصف کو بیان کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّغْتُ لَهُ سَمْعِي وَقَلْبِي، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَسْمَعَ أَحَدًا عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْمُدَاهِنُ فِي حُدُودِ اللَّهِ، كَمَثَلِ قَوْمٍ كَانُوا فِي سَفِينَةٍ فَاقْتَرَعُوا مَنَازِلَهُمْ، فَصَارَ مَهْرَاقُ الْمَاءِ وَمُخْتَلفُ الْقَوْمِ لِرَجُلٍ، فَضَجِرَ فَأَخَذَ الْقَدْومَ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْفَأْسَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ لِلآخَرِ: إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يُغْرِقَنَا وَيَخْرِقُ سَفِينَتَكُمْ، وَقَالَ الآخَرُ: فَإِنَّمَا يَخْرِقُ مَكَانَهُ" . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ، وَفَسَدَتْ فَسَدَ لَهَا الْجَسَدُ كُلُّهُ" . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُؤْمِنُونَ تَرَاحُمُهُمْ وَلُطْفُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ كَجَسَدِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، اشْتَكَى بَعْضُ جَسَدِهِ أَلِمَ لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ" .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، میری سماعت اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے اور مجھے یہ بات پتا ہے، اب میں اس منبر پر کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سن سکوں گا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے والے شخص اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کی مثال اس طرح ہے، جیسے کچھ لوگ ایک کشتی میں سوار ہوں، وہ اپنی جگہوں کے بارے میں قرعہ اندازی کر لیں، تو پانی حاصل کرنے کی جگہ اور لوگوں کے گزرنے کی جگہ ایک شخص کے حصے میں آئے، تو وہ غصے میں آ جائے اور پھاؤڑہ پکڑے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو ان میں سے ایک شخص دوسرے سے یہ کہے: یہ شخص ہمیں ڈبونا چاہتا ہے اور کشتی کو توڑنا چاہتا ہے، اور دوسرا شخص کہے: اسے کرنے دو، یہ اپنی جگہ کو توڑ رہا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ ٹھیک رہے تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپس میں ایک دوسرے پر رحمت اور لطف کے حوالے سے اہل ایمان کی مثال ایک شخص کے جسم کی مانند ہے، جب جسم کا ایک حصہ بیمار ہو جائے تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 52، 2051، 6011، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1599، وابن الجارود فى "المنتقى"، 606، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 233، 297، 721، 5569، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4465، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3329، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1205، 1205 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2573، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3984، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18638،والحميدي فى (مسنده) برقم: 943، 944، 945، 947»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (69)، «غاية المرام» (20)، «الصحيحة» - أيضا - (1083 و 2526).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
(1) إسناده صحيح على شرط الشيخين. <br> (2) إسناده صحيح على شرط الشيخين. <br> (3) Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الراكب حدود الله والمداهن فيها مع القائم بالحق بأصحاب مركب ركبوا لج البحر-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو جو اللہ کی حدود پر قائم رہتے ہیں اور ان سے چشم پوشی کرتے ہیں، ان سواروں سے تشبیہ دینے کا ذکر جو ایک کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں نکلے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 298
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُدَاهِنُ فِي حُدُودِ اللَّهِ، وَالرَّاكِبُ حُدُودَ اللَّهِ، وَالآمِرُ بِهَا، وَالنَّاهِيَ عَنْهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهُمْوا فِي سَفِينَةٍ مِنْ سُفُنِ الْبَحْرِ، فَأَصَابَ أَحَدُهُمْ مُؤَخَّرَ السَّفِينَةِ وَأَبَعْدَهَا مِنَ الْمِرْفَقِ، وَكَانُوا سُفَهَاءَ، وَكَانُوا أَتَوْا عَلَى رِجَالِ الْقَوْمِ، آذَوْهُمْ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَقْرَبُ أَهْلِ السَّفِينَةِ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَتَعَالَوْا نَخْرِقْ دَفَ السَّفِينَةِ ثُمَّ نَرُدَّهُ اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ، فَقَالَ مَنْ نَاوَأَهُ مِنَ السُّفَهَاءِ: افْعَلْ، فَأَهْوَى إِلَى فَأْسٍ لِيَضْرِبَ بِهَا أَرْضَ السَّفِينَةِ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِ رَجُلٌ رُشَيْدٌ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: نَحْنُ أَقْرَبُكُمْ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَكُمْ مِنْهُ، أَخْرِقُ دَفَ السَّفِينَةِ، فَاسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَّدَنَاهُ، فَقَالَ: لا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ تَهْلِكُ وَنَهْلِكُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والا، اس کا حکم دینے والا اور اس سے منع کرنے والا، اس کی مثال ایسے لوگوں کی طرح ہے جو سمندر کی کسی کشتی میں اپنی جگہ کے بارے میں قرعہ اندازی کر لیتے ہیں، تو ان میں سے ایک شخص کو کشتی کا پچھلا حصہ ملتا ہے، وہ شخص اپنے ساتھیوں سے دور ہوتا ہے اور وہ لوگ بے وقوف ہوتے ہیں، جب بھی لوگ وہاں آتے ہیں تو اسے اذیت دیتے ہیں، تو وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تمام کشتی والوں میں سہولت کے زیادہ قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں، تو تم لوگ آؤ ہم کشتی کے زیریں حصے کو توڑ دیتے ہیں، جب ہم اس سے بے نیاز ہو جائیں گے تو ہم اسے واپس لگا دیں گے، تو ان میں سے جو بے وقوف شخص ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ تم ایسا کر لو، پھر وہ کلہاڑی کی طرف بڑھتا ہے تاکہ اسے کشتی کے فرش پر مارے، تو ایک سمجھ دار شخص جھانک کر اس کی طرف دیکھتا ہے اور دریافت کرتا ہے: تم کیا کر رہے ہو؟ وہ کہتا ہے: ہم سہولت میں تمہارے زیادہ قریب ہیں اور اس سے تم سے زیادہ دور ہیں، میں کشتی کا تختہ توڑنے لگا ہوں، جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی تو ہم اسے بند کر دیں گے، تو وہ سمجھ دار شخص یہ کہتا ہے: تم ایسا نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے اور ہم بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2493، 2686، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 297، 298، 301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20245، 21451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18652»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (69): خ نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر كتبة الله جل وعلا الصدقة لمن يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر إذا تعرى فيهما عن العلل-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب کوئی شخص نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کا عمل خالص نیت کے ساتھ انجام دے تو اللہ جل وعلا اس کے لیے صدقہ لکھ دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ مَنْسِمٍ مِنْ بَنِي آدَمَ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَمَنْ يُطِيقُ هَذَا؟ قَالَ:" أَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهِيَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَالْحَمْلُ عَلَى الضَّعِيفِ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ صَدَقَةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بنی آدم کے ہر جوڑ پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، کمزور شخص کا وزن اٹھا دینا صدقہ ہے، اور تم میں سے کوئی شخص جب نماز کی طرف چل کر جاتا ہے، تو اس کا ہر قدم صدقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1497، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 299، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 74، 75، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2434، 2435، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 564، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 11791، 11792»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (577).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
سماك بن حرب صدوق إلا في روايته عن عكرمة فإن فيها اضطراباً، وباقي رجال الإسناد ثقات. وأبو معمر القطيعي: هو إسماعيل بن إبراهيم بن معمر بن حسن الهلالي، ثقة، وأبو الأحوص: هو سلام بن سليم الحنفي ملاهم الكوفي، روى حديثه الجماعة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر استحقاق القوم الذين لا يأمرون بالمعروف ولا ينهون عن المنكر عن قدرة منهم عليه عموم العقاب من الله جل وعلا-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو لوگ نیکی کا حکم نہیں دیتے اور برائی سے نہیں روکتے حالانکہ ان کے پاس قدرت ہوتی ہے، وہ اللہ جل وعلا کی طرف سے عام عذاب کے مستحق ہوتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أبيه ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهُمْ بِالْمَعَاصِي يَقَدْرُونَ أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِمْ وَلا يُغَيِّرُوا، إِلا أَصَابَهُمُ الِلَّهِ بِعِقَابٍ قَبْلُ أَنْ يَمُوتُوا" .
عبداللہ بن جریر اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب بھی کسی قوم کے درمیان گناہوں کا ارتکاب ہونے لگے اور وہ لوگ انہیں روک سکتے ہوں اور پھر بھی نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مرنے سے پہلے ان سب پر عذاب نازل کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 300، 302، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4339، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4009، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 841، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19499»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «ابن ماجه» (4009)، «الصحيحة» (3353).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن؛ عُبيد الله بن جرير _ وقد تحرف في "الإحسان" و"التقاسيم" 3/ لوحة 239 إلى "عبد الله" _ ذكره المصنف في "الثقات" 5/ 65 وقال: يروي عن أبيه، روى عنه أبو إسحاق السبيعي. وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں