🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر ما يستحب للمرء استعمال الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لعوام الناس دون الأمراء الذين لا يأمن على نفسه منهم إن فعل ذلك-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عام لوگوں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے، حکمرانوں کو نہیں جب انسان اپنی جان کے خطرے سے محفوظ نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 301
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُدَاهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ، وَالآمِرِ بِهَا، وَالنَّاهِيَ عَنْهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ، اسْتَهُمْوا، سَفِينَةً مِنْ سُفُنِ الْبَحْرِ، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي مُؤَخَّرِ السَّفِينَةِ، وَأَبَعْدَهُمْ مِنَ الْمِرْفَقِ، وَبَعْضُهُمْ فِي أَعْلَى السَّفِينَةِ، فَكَانُوا أَرَادَوا الْمَاءَ وَهُمْ فِي آخِرِ السَّفِينَةِ، آذَوْا رِحَالَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَحْنُ أَقْرَبُ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَ مِنَ الْمَاءِ، نَخْرِقَ دَفَّةَ السَّفِينَةِ وَنَسْتَقِي، فَاسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَّدَنَاهُ، فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنْهُمْ: افْعَلُوا، قَالَ: فَأَخَذَ الْفَأْسَ فَضَرَبَ عَرَضَ السَّفِينَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ رُشَيْدٌ: مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: نَحْنُ أَقْرَبُ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَ مِنَ الْمَاءِ، نَكْسِرُ دَفَ السَّفِينَةِ، فَنَسْتَقِي، فَاسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَّدَنَاهُ، فَقَالَ: لا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ تَهْلِكُ وَنَهْلِكُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے اور اس پر (عمل کرنے کا) حکم دینے والا اور اس کی (خلاف ورزی) سے روکنے والے شخص کی مثال ایسے لوگوں کی مانند ہے، جو سمندر میں کسی کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کرتے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگوں کو کشتی کا پیچھے والا حصہ ملتا ہے، وہ لوگ سہولت سے دور ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بالائی حصے میں چلے جاتے ہیں۔ جب وہ لوگ پانی لینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو وہ کشتی کے آخری حصے میں ہوتے ہیں، تو وہ سوار لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں، تو ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے: ہم سہولت سے زیادہ قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں، ہم کشتی کے ایک حصے کو توڑ دیتے ہیں اور پانی حاصل کر لیتے ہیں، جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی، تو ہم اسے بند کر دیں گے، تو ان میں سے بے وقوف لوگ یہ کہتے ہیں: تم لوگ ایسا کر لو۔ تو ان میں سے ایک شخص کلہاڑی پکڑتا ہے اور کشتی کے فرش پر مارتا ہے، تو ان میں سے ایک سمجھدار شخص کہتا ہے: کیا کرنے لگے ہو؟ وہ کہتا ہے: ہم سہولت سے قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں، ہم کشتی کا فرش توڑنے لگے ہیں تاکہ پانی حاصل کر لیں۔ جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی، تو ہم اسے بند کر دیں گے، تو وہ شخص کہتا ہے: تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اس صورت میں تم بھی ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے اور ہم بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2493، 2686، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 297، 298، 301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20245، 21451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18652»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (69): خ نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (298).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر توقع العقاب من الله جل وعلا لمن قدر على تغيير المعاصي ولم يغيرها-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص برائی کو مٹانے کی قدرت رکھتا ہو اور نہ مٹائے تو اس پر اللہ جل وعلا کا عذاب متوقع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 302
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهُمْ بِالْمَعَاصِي، يَقَدْرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ وَلا يُغَيِّرُوا، إِلا أَصَابَهُمُ الِلَّهِ بِعِقَابٍ قَبْلُ أَنْ يَمُوتُوا" .
عبیداللہ بن جریر اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب بھی کسی قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہونے لگے اور وہ لوگ ان گناہوں کو روک سکتے ہوں، لیکن وہ انہیں نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے ان سب پر عذاب نازل کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 300، 302، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4339، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4009، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 841، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19499»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما قبله بحديث.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، وهو مكرر رقم (300).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر جواز زجر المرء المنكر بيده دون لسانه إذا لم يكن فيه تعد-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر حد سے تجاوز نہ ہو تو انسان ہاتھ سے برائی کو روک سکتا ہے بغیر زبان کے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 303
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَزَحْمَوَيْهِ ، قَالا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَعَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ غَفَلَ عَنْهُ، فَأَلْقَى الرَّجُلُ خَاتَمَهُ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيْنَ خَاتَمُكَ؟" قَالَ: أَلْقَيْتُهُ، قَالَ:" أَظُنُّنَا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ رُبَّمَا أَخْطَأَ عَلَى الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک میں موجود شاخ اس کے ہاتھ پر ماری (اور اسے انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیا)، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس شخص سے ہٹی تو اس نے اپنی انگوٹھی اتار دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو دریافت کیا: تمہاری انگوٹھی کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے وہ اتار دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے، ہم نے تمہیں تکلیف پہنچائی، ہم نے تمہیں نقصان پہنچایا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نعمان بن راشد نامی راوی بعض اوقات زہری کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہوئے غلطی کر جاتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 303، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5205، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18026»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «آداب الزفاف» (126 - 127).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لضعف النعمان بن راشد، ذكره يحيى القطان فضعّفه جداً، وقال أحمد: مضطرب الحديث، وقال ابن معين: ضعيف، وقال مرة: ليس بشيء. وضعّفه أيضاً أبو داود والنسائي. وقال البخاري وأبو حاتم: في حديثه وَهْمٌ كثير، وهو في الأصل صدوق. انظر "التهذيب".
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر البيان بأن المنكر والظلم إذا ظهرا كان على من علم تغييرهما حذر عموم العقوبة إياهم بهما-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب منکر اور ظلم ظاہر ہو جائے تو جو لوگ اس کو جانتے ہوں اور اس کے ازالے کی کوشش نہ کریں ان پر عام عذاب کا اندیشہ ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: قَرَأَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذِهِ الآيَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، قَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَضَعُونَ هَذِهِ الآيَةَ عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا، أَلا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ رَأَوَا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ: الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ عَمَّهُمُ الِلَّهِ بِعِقَابِهِ" .
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اے ایمان والو! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے۔ جب تم ہدایت حاصل کر لو، تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا﴾ [سورة المائدة: 105] ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ اس آیت کا غلط مفہوم مراد لیتے ہیں۔ خبردار! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں گے اور اس کے ہاتھوں کو نہیں پکڑیں گے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب وہ کسی گناہ کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب نازل کرے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 304، 305، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11092، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4005، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1، 17، 30»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (4005).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر البيان بأن المتأول للآي قد يخطئ في تأويله لها وإن كان من أهل الفضل والعلم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آیات کے متأول (سمجھنے والے) سے تأویل میں خطا ہو سکتی ہے اگرچہ وہ اہلِ فضل و علم میں سے ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ، أن النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا الِلَّهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 ْ، إِنَّ النَّاسَ رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ، يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ الِلَّهِ بِعِقَابٍ" .
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے لوگو! تم لوگ یہ آیت تلاوت کرتے ہو اور اس کا اس سے مختلف مفہوم مراد لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] اے لوگو! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے، جب تم ہدایت حاصل کر لو تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) لوگ جب منکر (یعنی گناہ) کو دیکھیں گے اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کریں گے، تو عنقریب اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل کرے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 304، 305، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11092، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4005، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1، 17، 30»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر وصف النهي عن المنكر إذا رآه المرء أو علمه-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - برائی کو دیکھنے یا جاننے پر اس سے روکنے کے وصف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الأَحْمَسِيِّ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلُ الصَّلاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: الصَّلاةُ قَبْلُ الْخُطْبَةِ! وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ، فَقَالَ: تُرِكَ مَا هُنَاكَ أَبَا فُلانٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَاكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ" .
طارق بن شہاب احمسی بیان کرتے ہیں کہ عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز مروان بن حکم نے کیا، تو ایک شخص اس کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: کیا خطبے سے پہلے نماز پڑھی جائے گی؟ اس نے بلند آواز میں یہ بات کہی، تو مروان نے کہا: اے ابوفلاں! یہاں یہ طریقہ ترک کر دیا گیا ہے۔ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے اپنے ذمے لازم چیز کو ادا کر دیا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب کوئی شخص کوئی منکر دیکھے، تو اسے اپنے ہاتھ کے ذریعے ختم کرے، اگر وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ذریعے کرے، اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے زیادہ کمزور درجہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، 1951، 2658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 80، 889، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، 307، 3321، 5744، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، 4013، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1034): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به طارق بن شهاب-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف طارق بن شِہاب سے منفرد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلانُ بْنُ فُلانٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، زَادَ إِسْحَاقُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنَّ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور اس نے نماز ادا کرنے سے پہلے خطبہ دیا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: اے مروان! تم سنت کے برخلاف کر رہے ہو، تم نے عید کے دن منبر نکالا ہے، حالانکہ عید کے دن اسے نہیں نکالا جاتا اور تم نماز سے پہلے خطبہ دے رہے ہو، حالانکہ اس سے آغاز نہیں کیا جا سکتا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہ شخص کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ فلاں بن فلاں ہے، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے اپنے ذمے لازم فرض کو ادا کر لیا ہے۔ یہاں اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں۔ (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:) تم میں سے جو شخص کوئی منکر دیکھے، تو وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے ختم کرے، اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو اپنی زبان کے ذریعے کرے اور اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل کے اندر سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے زیادہ کمزور مرتبہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، 1951، 2658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 80، 889، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، 307، 3321، 5744، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، 4013، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار بأن أهل كل طاعة في الدنيا يدعون إلى الجنة من بابها
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ دنیا میں ہر طاعت کرنے والے کو جنت میں اس کے مخصوص دروازے سے بلایا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص (کسی بھی چیز کا جوڑا) اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، تو جنت میں یہ اعلان کیا جاتا ہے: اے اللہ کے بندے! یہ چیز زیادہ بہتر ہے، (قیامت کے دن) جو لوگ اہل نماز ہوں گے، انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو لوگ اہل جہاد ہوں گے، انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو لوگ صدقہ کرنے والے ہوں گے، انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو لوگ روزہ رکھنے والے ہوں گے، انہیں بابِ ریان سے بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ تو کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور مجھے امید ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ایک ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1897، 2841، 3216، 3666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1027، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1700، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 308، 3418، 3419، 4641، 4642، 6866، 7445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2237، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7748، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1212»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2879): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عن إجازة إطلاق اسم القنوت على الطاعات
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ طاعات پر قنوت کا نام اطلاق کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ حَرْفٍ فِي الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: قرآن میں موجود ہر وہ حرف جس میں «الْقُنُوتُ» کا ذکر کیا گیا ہے، تو اس سے مراد فرمانبرداری ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11890، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1379، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1808، 5181»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (4105).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن أبي الهيثم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تعود نفسه أعمال الخير في أسبابه
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی جان کو نیکی کے اعمال کا عادی بنائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ" .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بھلائی عادت ہے، اور برائی لجاجت ہے، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے، اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 71، 3116، 3641، 7312، 7460، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1037، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 310، 89، 3401، والدارمي فى (مسنده) برقم: 230، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 9، 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17124»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «ابن ماجه» (221).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں