صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر خبر ثان يصرح بأن الحالف مأمور بالكفارة عند تركه اليمين إذا رأى ذلك خيرا له من المضي فيه-
- ذکر دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ قسم کھانے والے کو قسم ترک کرنے پر کفارہ دینے کا حکم ہے اگر وہ اسے قسم پر عمل کرنے سے بہتر دیکھے
حدیث نمبر: 4348
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، " لا تَسْأَلِ الإِِمَارَةَ، فَإِِنَّكَ إِِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِِلَيْهَا، وَإِِنْ أَتَتْكَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ" .
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالرحمن! تم حکومتی عہدے کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر یہ تمہیں مانگنے سے ملے گا تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگر یہ تمہیں مانگے بغیر مل جائے گا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی قسم کے بارے میں حلف اٹھا لو اور تم اس کے علاوہ دوسری صورت کو اس سے زیادہ بہتر پاؤ تو وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6622، 6722، 7146، 7147، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1652، وابن الجارود فى "المنتقى"، 373،وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4348، 4479، 4480، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3791، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2929، 3277، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1529، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20947» «رقم طبعة با وزير 4333»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2107): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
22. ذكر الخبر الدال على أن المرء مباح له أن يبدأ بالكفارة قبل الحنث إذا رأى ترك اليمين خيرا من المضي فيه-
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کی اجازت ہے اگر وہ قسم ترک کرنا اس پر عمل کرنے سے بہتر دیکھے
حدیث نمبر: 4349
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر محسوس کرے تو اسے اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے اور وہ کام کرنا چاہیے جو زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1650، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1738، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4349، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1530، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18922، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8855» «رقم طبعة با وزير 4334»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2084): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
23. ذكر الإباحة للحالف أن يحنث يمينه إذا رأى ذلك خيرا من المضي فيه-
- ذکر اس بات کی اجازت کا کہ قسم کھانے والا اپنی قسم توڑ سکتا ہے اگر وہ اسے قسم پر عمل کرنے سے بہتر دیکھے
حدیث نمبر: 4350
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا، وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَانْطَلَقَ وَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُوكَ مَنْزِلَهُ، فَيَطْعَمُ مَعَنَا، فَقُلْتُ: إِِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِِنَّكُمْ إِِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى، فَأَبَوْا عَلَيْنَا، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: قَدْ فَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ، فَقَالَ: أَلَمْ آمُرُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَتَنَحَّيْتُ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِِلا جِئْتَ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ، هَؤُلاءِ أَضْيَافُكَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ لا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ؟ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" وَاللَّهِ لا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ. قَالُوا: فَوَاللَّهِ لا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ. فَقَالَ: لَمْ أَرْ كَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّيْلَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الأَوَّلُ فَمِنِ الشَّيْطَانِ، فَهَلُمُّوا قِرَاكُمْ فَجِيءَ بِالطَّعَامِ، فَسَمَّى اللَّهَ، وَأَكَلَ، وَأَكَلُوا، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ. فَقَالَ:" بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَخَيْرُهُمْ" .
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے، میرے والد نماز کے وقت (عشاء کے بعد دیر تک) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، جب وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) جانے لگے تو انہوں نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن! مہمانوں کو کھانا کھلا دینا۔ جب شام ہوئی تو میں کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور یہ کہا: جب تک تمہارے والد گھر واپس نہیں آتے اور ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھاتے (ہم اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے)۔ میں نے کہا: وہ غصے والے آدمی ہیں، اگر آپ لوگوں نے کھانا نہ کھایا تو مجھے یہ اندیشہ ہے وہ میری پٹائی کریں گے، لیکن مہمانوں نے یہ بات نہیں مانی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں نے کھانا کھا لیا ہے؟ مہمانوں نے جواب دیا: جی نہیں، اللہ کی قسم! (ہم نے کھانا نہیں کھایا)۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمن کو یہ ہدایت نہیں کی تھی (کہ وہ آپ کو کھانا کھلا دے)؟ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک طرف ہٹ چکا تھا، انہوں نے (بلند آواز میں) کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تم میری آواز سن رہے ہو تو آ جاؤ، تو میں آگیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا کوئی قصور نہیں ہے، یہ آپ کے مہمان موجود ہیں، آپ ان سے دریافت کر لیں، میں ان کے پاس کھانا لے کر آیا تھا، لیکن انہوں نے اس وقت تک کھانے سے انکار کر دیا جب تک آپ نہیں آ جاتے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے آپ لوگوں نے کھانا کیوں قبول نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ دیا: اللہ کی قسم! آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آج رات جیسی مشکل صورت کبھی نہیں دیکھی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہو گئی۔ آپ لوگ کھانے کی طرف آئیں، پھر کھانا لایا گیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی اور کھانا کھا لیا، مہمانوں نے بھی کھانا کھا لیا۔ اگلے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں نے تو نیکی کر لی اور میں حانث ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان سب سے زیادہ نیک اور ان سب سے بہتر ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 602، 3581، 6140، 6141، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2057، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4350، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3270، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1724» «رقم طبعة با وزير 4335»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2/ 76).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
24. ذكر ما يستحب للمرء إذا حلف على يمين أن يأتي ما هو خير له من المضي في يمينه دونه-
- ذکر اس بات کی مستحب ہونے کا کہ اگر انسان قسم کھائے تو وہ وہ کام کرے جو اس کے لیے قسم پر عمل کرنے سے بہتر ہو
حدیث نمبر: 4351
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْمِلُهُ لِنَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لا أَحْمِلُهُمْ. فَأُتِيَ رَسُولَ اللَّهِ بِنَهْبٍ مِنْ إِِبِلٍ فَفَرَّقَهَا، فَبَقِيَ مِنْهَا خَمْسُ عَشْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ؟ قَالَ: هُوَ ذَا هُوَ. فَقَالَ: خُذْ هَذِهِ فَاحْمِلْ عَلَيْهَا قَوْمَكَ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّكَ كُنْتَ قَدْ حَلَفْتَ. قَالَ:" وَإِِنْ كُنْتُ حَلَفْتُ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے لیے سواری کے جانور حاصل کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو سواری فراہم نہیں کروں گا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الگ الگ کروایا، ان میں سے پندرہ اونٹ باقی رہ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”عبداللہ بن قیس کہاں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: وہ یہاں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں حاصل کر لو اور ان پر اپنی قوم کے افراد کو سوار کرواؤ“، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے جانور نہیں دیں گے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ میں نے قسم اٹھائی تھی (لیکن تم پھر بھی اسے حاصل کر لو)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4351]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4351، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1778، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 346، 483، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 3956» «رقم طبعة با وزير 4336»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
25. ذكر الإباحة للمرء المضي في يمينه إذا رأى ذلك خيرا له-
- ذکر اس بات کی اجازت کا کہ انسان اپنی قسم پر عمل کر سکتا ہے اگر وہ اسے اپنے لیے بہتر دیکھے
حدیث نمبر: 4352
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينً فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو اسے وہ کام کرنا چاہیے جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4352]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4347، 4352، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3790، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7026، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14235» «رقم طبعة با وزير 4337»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (7/ 168).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن في الشواهد
26. ذكر ما يستحب للإمام عندما سبق منه من يمين إمضاء ما رأى خيرا له دون التعرج على يمينه التي مضت-
- ذکر اس بات کی مستحب ہونے کا کہ امام جب قسم کھا لے تو وہ وہ کام کرے جو اس کے لیے بہتر ہو بغیر اس قسم کی طرف مڑے جو گزر چکی
حدیث نمبر: 4353
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لَمْ يَحْنَثْ، حَتَّى نَزَلَتْ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِِلا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی قسم اٹھاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے برخلاف نہیں کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ قسم کے کفارے سے متعلق آیت نازل ہو گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب میں جو بھی قسم اٹھاؤں گا اور اس کے علاوہ صورت کو زیادہ بہتر سمجھوں گا، تو میں وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4353]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4353، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7921» «رقم طبعة با وزير 4338»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (7/ 168 - 169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
27. ذكر وصف بعض الأيمان التي كان المصطفى صلى الله عليه وسلم يمضي ضدها إذا سبقت منه-
- ذکر اس کیفیت کا کہ بعض قسموں کے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سہواً ہوئیں وہ ان کے خلاف عمل کرتے تھے
حدیث نمبر: 4354
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مُشَاةً، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لا أَحْمِلُكُمُ الْيَوْمَ"، أَوْ قَالَ: وَاللَّهِ لا أَحْمِلُكُمْ. قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا إِِلَى الْمَنْزِلِ، أَوْ قَالَ: حِينَ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَنْزِلِ، أَتَاهُ قَطِيعٌ مِنْ إِِبِلٍ، فَإِِذَا قَدْ بَعَثَ إِِلَيْنَا بِثَلاثٍ بُقْعِ الذُّرَى، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَنَرْكَبُ وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ. قَالَ:" إِِنِّي وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، إِِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ، وَمَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ يَمِينٍ أَحْلِفُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِِلا أَتَيْتُهَا أَوْ أَتَيْتُهُ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ پیدل تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے لیے جانور مانگنے کے لیے حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! آج میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم اپنی رہائشی جگہ پر واپس آ گئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم اپنی رہائشی جگہ کی طرف واپس آنے لگے تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سفید کوہان والے تین اونٹ ہماری طرف بھجوا دیئے، ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا: کیا ہم اس پر سوار ہوں جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ قسم اٹھا چکے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے)؟ تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی ہوئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تمہیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سواری کے لیے جانور دیئے ہیں، روئے زمین پر میں جو بھی قسم اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ صورت حال کو اس سے بہتر سمجھوں گا تو میں وہ کام کروں گا (جو زیادہ بہتر ہو)“ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3133، 4385، 5517، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1649، وابن الجارود فى "المنتقى"، 956، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4354، 5222، 5255، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3276، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1826، 1827، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2107، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19467، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13033» «رقم طبعة با وزير 4339»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 166): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
28. ذكر نفي جواز مضي المرء في أيمانه ونذوره التي لا يملكها أو يشوبها بمعصية الله جل وعلا-
- ذکر اس بات کی نفی کا کہ انسان کو ایسی قسموں اور نذروں پر عمل کرنے کی اجازت نہیں جو اس کے اختیار میں نہ ہوں یا جن میں اللہ کی نافرمانی ہو
حدیث نمبر: 4355
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلا فِيمَا لا تَمْلِكُ" .
سعید بن مسیّب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو بھائی تھے جن کے درمیان وراثت سے متعلق کوئی مسئلہ تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا، تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات چیت نہیں کروں گا اور یہ سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے لیے مخصوص ہو جائے گا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک خانہ کعبہ تمہارے مال سے بے نیاز ہے، تم اپنی قسم کا کفارہ دو اور اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی گناہ کے کام میں، رشتے داری کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے اور جو چیز تمہاری ملکیت میں نہ ہو اس کے بارے میں نہ تو تم پر کوئی قسم لازم ہو گی اور نہ ہی نذر لازم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4355]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4355، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7918، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3272، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19917» «رقم طبعة با وزير 4340»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
29. ذكر الزجر عن أن يكثر المرء من الحلف في أسبابه-
- ذکر اس ممانعت کا کہ انسان اپنے معاملات میں زیادہ قسمیں کھانے سے رُکے
حدیث نمبر: 4356
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا الْحَلِفُ حَنِثٌ أَوْ نَدَمٌ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ لِبَشَّارٍ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرُ هَذَا، وَهُوَ أَخُو مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ: عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَاسْطِيٌّ ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قسم یا تو توڑنی پڑتی ہے یا پھر ندامت کا شکار کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بشار نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور ”مرفوع“ حدیث منقول نہیں ہے، یہ صاحب مسعر بن کدام کے بھائی ہیں، ابوشعشاء نامی راوی کا نام علی بن حصین بن سلیمان واسطی ہے، یہ راوی ثقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4356]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4356، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7930، 7931، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2103، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19899، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5587، 5697، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12756، 22639، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8425، والطبراني فى (الصغير) برقم: 1083» «رقم طبعة با وزير 4341»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 59)، «الروض» (505)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
30. ذكر الزجر عن أن يحلف المرء بغير الله أو يكون في يمينه غير بار-
- ذکر اس ممانعت کا کہ انسان اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائے یا اس کی قسم غیر مخلصانہ ہو
حدیث نمبر: 4357
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلا بِالأَنْدَادِ، وَلا تَحْلِفُوا إِِلا بِاللَّهِ، وَلا تَحْلِفُوا إِِلا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے باپ دادا یا ماؤں کے نام کی یا اپنے بتوں کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ، تم لوگ صرف اللہ کے نام کی قسم اٹھاؤ اور تم اسی وقت قسم اٹھاؤ جب تم سچے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأيمان/حدیث: 4357]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4357، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3778، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4692، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3248، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19888، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6048، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 15933، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4575» «رقم طبعة با وزير 4342»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3418 / التحقيق الثاني). * [تعليق] قال الشيخ: في حاشية (الأصل)، قال المُحَقِّقُ: في هامش المخطوط: ذَكَرَ المِزِّيُّ أَنَّهُ فِي «أبي داود» و «النسائي» في (الأيمان والنذور)، ولم أَجِدْهُ في أبِي داود في (الأيمان والنذور)!! قلت: بل هو فيه برقم (3248 - نسختي)، وقد قَلَّد المُعَلِّقُ الدعَّاسَ فِي تعليقه على «أبي داود».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما